Loading
26 ملین، ذرا رکیں، سانس لیں اور اس عدد کو محسوس کریں۔ یہ اس ملک کے مستقبل کا وہ حصہ ہے جو اسکول کی دہلیز تک نہیں پہنچ پایا۔
تصور کیجیے، یہ 26 ملین بچے آسٹریلیا کی پوری آبادی سے زیادہ، اور سری لنکا کی آبادی سے تین گنا زیادہ ہیں ۔ یہ وہ بچے ہیں جو اس وقت کھیتوں میں بیگار کاٹ رہے ہیں، بھٹوں کی تپش سہہ رہے ہیں، کوڑے کے ڈھیروں سے اپنی زندگی تلاش کر رہے ہیں، یا چائے کے ہوٹلوں پر بچپن گروی رکھ کر پیالے دھونے پر مجبور ہیں۔
شہرِ اقتدار اسلام آباد کے مضافات میں نو سالہ عمر جیسے ملک بھر میں کروڑوں بچے ہر صبح کاندھے پر کٹا ہوا تھیلا لٹکائے زندگی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ ان کے گھروں میں فاقہ کشی ہے، باپ کا سایہ سر پر نہیں، اور گھر کا چولہا انہی بچوں کی مزدوری سے گرم ہوتا ہے۔ انہیں یہ خبر ہی نہیں کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 25-A انہیں مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے۔ شاید ان کا اس حق سے لاعلم رہنا ہی غنیمت ہے، ورنہ یہ جان کر کہ ریاست نے انہیں یہ حق دیا مگر ادا نہیں کیا، ان کی تکلیف میں مزید کرب شامل ہو جاتا۔
پاکستان کی 45 فیصد آبادی خطِ غربت کے نیچے سانس لے رہی ہے۔ ایک غریب باپ جب دن بھر مزدوری کر کے تھکا ہارا گھر لوٹتا ہے، تو اس کی آنکھوں میں ایک ہی سوال مچل رہا ہوتا ہے ’’کیا میرا بچہ کل اس سے بہتر زندگی گزار پائے گا؟‘‘۔ وہ جانتا ہے کہ تعلیم ہی وہ واحد سیڑھی ہے جو اسے نسل در نسل چلتی غربت کی چکی سے نکال سکتی ہے، مگر تعلیمی اخراجات کا بوجھ اس کی کمر سے زیادہ بھاری ہے۔
مئی 2024 میں وزیراعظم شہباز شریف نے ’’تعلیمی ایمرجنسی‘‘ کا اعلان کیا۔ اخبارات میں سرخیاں، ٹی وی پر بڑے بڑے مباحثے اور پرکشش تقریریں۔ مگر سچ یہ ہے کہ 1947 سے اب تک ایسی کئی ایمرجنسیوں کے اعلان کیے جا چکے ہیں۔ انہتر سال، انہتر وعدے، اور 26 ملین بچے اب بھی وہیں کھڑے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیمی ایمرجنسی اعلانات کی محتاج نہیں، بلکہ مطلوبہ مالی اور افرادی وسائل، پختہ عزم اور نیک نیت کی مرہونِ منت ہوتی ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2024-25 سے پتہ چلتا ہے کہ تعلیم پر جی ڈی پی کا صرف 0.8 فیصد خرچ ہوا، جو ملکی تاریخ کی بدترین سطح ہے۔ ’’سیو دی چلڈرن‘‘ کے مطابق جولائی 2024 سے مارچ 2025 تک تعلیمی اخراجات میں مزید 29 فیصد کٹوتی کر دی گئی۔ یعنی ایک طرف ایمرجنسی کا ڈھنڈورا، دوسری طرف تعلیمی بجٹ میں کٹوتی، لفظ اور عمل کا یہ تضاد ہی پاکستان کا اصل المیہ ہے۔
بجٹ کی ترجیحات دیکھیں تو دل دہل جاتا ہے۔ 103 ارب روپے میں سے اناسی ارب ہائیر ایجوکیشن کی نذر، جبکہ پرائمری ایجوکیشن کے لیے محض 5.22 ارب۔ یہ ایسا ہی ہے کہ جیسے جہاں آگ لگی ہو وہاں لوٹے سے پانی ڈالا جائے اور جہاں ضرورت نسبتاً کم ہو، وہاں ٹینکر بھیج دیے جائیں۔ اقوامِ متحدہ کے مطابق ملک کی جی ڈی پی کا کم از کم 4 سے 6 فیصد تعلیم پر خرچ ہونا چاہیے، جبکہ ہم 0.8 پر کھڑے ہیں۔ وزارتِ تعلیم کے اپنے حساب کے مطابق ہدف تک پہنچنے کے لیے 4242 ارب درکار ہیں، جبکہ ہم 1770 ارب پر گزارا کر رہے ہیں۔ یہ ڈھائی ہزار ارب کا خلا ہی ان 26 ملین بچوں کی برباد ہوتی زندگیوں کا قبرستان ہے۔
اور المیہ یہ کہ جو پیسہ ملتا ہے، وہ بھی خرچ نہیں ہوتا۔ 2021-22 میں تعلیمی بجٹ کا 11 فیصد بغیر خرچ ہوئے واپس چلا گیا۔ یہ ’’بے حسی کی کرپشن‘‘ ہے، جو کسی بھی مالی بدعنوانی سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ اس کا مجرم کبھی پکڑا نہیں جاتا۔
ورلڈ بینک کی رپورٹ ہو یا نیشنل ایجوکیشن پالیسی فریم ورک 2024، سب گواہی دیتے ہیں کہ جو اسکول میں ہیں وہ سیکھ نہیں رہے، اور جو باہر ہیں وہ تو ہیں ہی نہیں۔ ادھر بنگلہ دیش 75 فیصد خواندگی چھو رہا ہے اور سری لنکا 91 فیصد پر کھڑا ہے، ہم 193 ممالک کی فہرست میں 164 ویں نمبر پر ہیں۔ کڑوا سچ یہ ہے کہ ہمارے حکمران اپنے بچوں کو یورپ اور امریکہ کی درسگاہوں میں پڑھاتے ہیں۔ اگر ان کے بچے بھی ہمارے سرکاری اسکولوں کے ٹوٹے ہوئے بینچوں پر بیٹھ کر پڑھتے، تو یقین مانیے، یہ بجٹ راتوں رات بدل جاتا۔
بجٹ صرف اعداد و شمار کا کھیل نہیں، یہ قوم کی ترجیحات کا آئینہ ہے۔ اور یہ آئینہ ہر سال ہمیں وہی کرب ناک تصویر دکھاتا ہے کہ ایٹمی قوت رکھنے والے ملک کے 26 ملین بچے اسکول سے باہر ہیں۔ یہ 26 ملین بچے اپنا آئینی حق مانگتے ہیں، اور یہ یاد رکھیں کہ ان بچوں کو تعلیم سے محروم رکھنا پاکستان کا سب سے مہنگا سودا ہے۔ اگر یہ پڑھ لکھ جائیں تو ملک کے لئے قیمتی اثاثہ ہیں، اور اگر نہیں، تو یہ آنے والے وقت کا وہ بوجھ ہیں جسے کوئی طاقت نہیں سنبھال سکے گی۔
یہ قومی سلامتی کا معاملہ ہے، اسے ترجیحِ اول بنائیں۔ بصورتِ دیگر تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی، اور گلیوں میں پلتا یہ مستقبل کل سڑکوں پر نکل آئے گا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل