Loading
وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اینے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خلوص نیت کے ساتھ امن کوششوں کا حصہ بنا رہے گا اور امید ظاہر کی کہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد کی جائے گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ میں امن کوششوں کے سلسلے میں کی جانے والی غیرمعمولی سفارتی سرگرمیوں نے عالمی توجہ حاصل کرلی انہوں نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ سعودی عرب، قطر، ترکیہ، مصر، متحدہ عرب امارات، اردن اور پاکستان کی قیادت کے ساتھ اہم ٹیلیفونک رابطہ کیا گیا ہے۔
وزیر اعظم پاکستان شہباز شریف نے امریکی صدر کی جانب سے مسلم ممالک کی قیادت سے رابطے کو غیر معمولی قرار دیا اور کہا کہ اس رابطے کا مقصد خطے کی موجودہ کشیدہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور جاری امن کوششوں کو عملی شکل دینا تھا تاکہ مستقل استحکام کی راہ ہموار کی جاسکے۔ گفتگو کو نہایت مفید اور نتیجہ خیز قرار دیا گیا۔
I congratulate President Donald Trump on his extraordinary efforts to pursue peace and for holding a very useful and productive telephone call earlier today, with the leaders of Saudi Arabia, Qatar, Turkiye, Egypt, the UAE, Jordan and Pakistan. Field Marshal Syed Asim Munir…
— Shehbaz Sharif (@CMShehbaz) May 24, 2026
شہباز شریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں مزید کہا کہ پاکستان کی نمائندگی فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کی انہون نے فیلڈ مارشل کے کردار کو خصوصی طور پر سراہتے ہوئے کہا گیا کہ انہوں نے پورے سفارتی عمل کے دوران مسلسل اور بھرپور کوششیں کیں۔ بیان میں ان کی کاوشوں کو خطے میں امن کے لیے اہم قرار دیا گیا۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ رہنماؤں کے درمیان ہونے والی گفتگو میں اس امر پر اتفاق کیا گیا کہ مذاکراتی عمل کو مزید آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ کشیدگی میں کمی لائی جاسکے اور خطے کو ایک نئے بحران سے بچایا جاسکے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان نے واضح کیا کہ وہ خلوص نیت کے ساتھ امن کوششوں کا حصہ بنا رہے گا اور امید ظاہر کی گئی ہے کہ مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی جلد کی جائے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ معاہدے سے متعلق عالمی سطح پر قیاس آرائیاں تیز ہوچکی ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل