Loading
امریکی سینیٹر لنڈسے گراہم نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے کے خطے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور ایسا معاہدہ اسرائیل کے لیے بڑا سکیورٹی چیلنج بن سکتا ہے۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں لنزے گراہم نے کہا کہ اگر ایران کے ساتھ جاری تنازع کا خاتمہ ایسے معاہدے کے ذریعے کیا جاتا ہے جس میں آبنائے ہرمز کو ایرانی خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہ بنایا جا سکے، تو اس سے ایران خطے میں ایک طاقتور اور غالب قوت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس نہ صرف آبنائے ہرمز پر اثر انداز ہونے کی صلاحیت موجود ہے بلکہ وہ خلیجی ممالک کی تیل تنصیبات کو بھی شدید نقصان پہنچا سکتا ہے، جو عالمی توانائی منڈی اور مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
لنزے گراہم کے مطابق اگر کسی معاہدے کے نتیجے میں ایران مستقبل میں آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ یا کنٹرول برقرار رکھنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اس سے خطے میں ایران کا دباؤ مزید بڑھ جائے گا اور خلیجی ممالک کے لیے نئے سکیورٹی خدشات پیدا ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو ایسا کوئی بھی معاہدہ کرتے وقت اسرائیل اور خلیجی ممالک کی سکیورٹی کو اولین ترجیح دینی چاہیے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رکھا جا سکے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل