Loading
دہشتگردی، منشیات اسمگلنگ اورجابرانہ پالیسیوں نے طالبان رجیم پرعالمی برادری کااعتماد مکمل ختم کردیا ہے۔
اہم عالمی شخصیات نےبھی افغانستان میں دہشتگردوں کی موجودگی تسلیم کرلی۔ برطانوی نشریاتی ادارےبی بی سی کوانٹرویومیں افغانستان کیلیےبرطانیہ کے خصوصی نمائندےرچرڈ لنڈسےنےکہاکہ افغان سرزمین کودہشتگرد گروہوں کےہاتھوں دوسرےممالک کیخلاف استعمال ہونےسےروکناہوگا۔
انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین پردہشتگردتنظیمیں سرگرم ہیں جوخطےکی سلامتی کیلئےسنگین خطرہ ہیں۔ رچرڈ لنڈسے نے طالبان رجیم کیساتھ سفارتی تعلقات کوعالمی برادری کی جانب سےانہیں جائزحکومت تسلیم کرنےسےمشروط کردیا۔
برطانوی نمائندہ خصوصی نے کہا کہ طالبان رجیم کی بین الاقوامی سطح پرقبولیت کا انحصار انسانی حقوق، سکیورٹی اورخواتین کےحقوق سےمتعلق عملی اقدامات پرہے۔ طالبان رجیم کوانسانی حقوق کااحترام اورلڑکیوں کیلئےثانوی واعلیٰ تعلیم تک رسائی یقینی بناناہوگی۔
ماہرین کےمطابق برطانوی نمائندہ خصوصی رچرڈ لنڈسےکابیان اس بات کاواضح اشارہ ہےکہ دنیااب طالبان رجیم کےدعوؤں پر اندھااعتمادکرنےکیلئےتیارنہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل