Loading
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حل کے لیے گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران اہم پیش رفت ہوئی ہے اور ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے سے متعلق مزید خبریں آج سامنے آسکتی ہیں۔
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے یہ بیان نئی دہلی میں اپنے بھارتی ہم منصب جے شنکر کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران دیا، مارکو روبیو اس وقت چار روزہ دورے پر بھارت میں موجود ہیں۔
مارکو روبیو نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر بات چیت جاری ہے، جس کا مقصد جنگی صورتحال کا خاتمہ اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ابھی مزید کام ہونا باقی ہے لیکن مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی وزیر خارجہ نے ایران پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دنیا میں دہشت گردی کی سب سے بڑی سرپرست ریاست ایران ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران عوام کی فلاح، سڑکوں کی تعمیر اور ترقیاتی کاموں پر سرمایہ خرچ کرنے کے بجائے حزب اللہ اور حماس جیسے گروہوں کی حمایت پر وسائل خرچ کرتا ہے۔
مارکو روبیو نے الزام عائد کیا کہ ایران بین الاقوامی آبی گزرگاہوں میں بارودی سرنگیں بچھا رہا ہے اور شہری جہازوں کو یرغمال بنا رہا ہے، جس سے عالمی تجارت اور سمندری سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کا مؤقف واضح ہے کہ ایران کو کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق اس حوالے سے جاری مذاکرات میں ایران کی رضامندی اور مکمل عملدرآمد ضروری ہوگا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل