Sunday, May 24, 2026
 

بھارت میں خطرناک ہیٹ ویو، شدید گرمی سے 16 افراد جان کی بازی ہار گئے

 



انڈیا کے جنوبی علاقوں میں شدید گرمی اور ہیٹ ویو کے باعث کم از کم 16 افراد ہلاک ہوگئے ہیں جبکہ مختلف شہروں میں درجہ حرارت 45 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرگیا ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق جنوبی بھارتی ریاست تلنگانہ میں ہیٹ اسٹروک سے اموات رپورٹ ہوئی ہیں۔ ریاستی حکام نے شدید گرمی کے پیش نظر ہنگامی اقدامات اور عوامی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔ تلنگانہ کے ریونیو وزیر سری نیواسا ریڈی نے کہا ہے کہ گرمی کی شدت غیر معمولی حد تک پہنچ چکی ہے، اس لیے پورے صوبے میں الرٹ جاری کرتے ہوئے عوام کو ہیٹ ویو سے بچاؤ کے بارے میں پیشگی آگاہ کیا جائے۔ طبی ماہرین کے مطابق شدید گرمی جسم میں پانی کی کمی پیدا کرتی ہے جس سے خون گاڑھا ہوسکتا ہے، جبکہ سنگین صورت میں جسمانی اعضا کام کرنا بند کر سکتے ہیں۔ حکام نے بزرگ افراد، بچوں اور حاملہ خواتین کو دن کے اوقات میں غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نہ نکلنے کی ہدایت کی ہے۔ بھارتی محکمہ موسمیات نے چند روز قبل ہی خبردار کیا تھا کہ ملک کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت معمول سے زیادہ رہے گا اور شدید ہیٹ ویو کی صورتحال پیدا ہوسکتی ہے۔ دارالحکومت نئی دہلی سمیت کئی شہروں میں اس ہفتے درجہ حرارت مسلسل 40 ڈگری سینٹی گریڈ سے اوپر رہا، جس کے باعث بجلی کی طلب میں بھی ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔ رات کے اوقات میں بھی درجہ حرارت زیادہ رہنے سے شہریوں کو گرمی سے کوئی خاص ریلیف نہیں مل رہا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث بھارت میں ہیٹ ویوز زیادہ طویل، شدید اور بار بار آنے لگی ہیں۔ بھارت دنیا میں گرین ہاؤس گیسوں کا تیسرا بڑا اخراج کرنے والا ملک ہے اور بجلی کی پیداوار کے لیے اب بھی بڑی حد تک کوئلے پر انحصار کرتا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل