Sunday, May 24, 2026
 

وزیراعلیٰ کے نوٹس کے باوجود کراچی میں پانی کا بحران ختم نہ ہوسکا

 



وزیراعلیٰ سندھ کے نوٹس کے باوجود کراچی میں پانی کا بحران ختم نہ ہوسکا، شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے جو مہنگے داموں ٹینکرز خرید کر اپنی  ضروریات پوری کرنے پر مجبور ہیں۔ ایکسپریس کے مطابق کراچی میں کسی بھی مہذبی تہوار سے قبل پانی کا بحران ہونا معمول بن گیا، وزیراعلیٰ سندھ نے نوٹس بھی لیا لیکن کارآمد ثابت نہ ہوا اور شہر میں اب تک پانی کی فراہمی معمول پر نہیں آسکی، مختلف علاقوں میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہے  جہاں شہری ٹینکروں اور ٹنکیوں کے ذریعے پانی حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔   ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والے شہر میں لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس رہے ہیں، جمعہ کو کنڈیوٹ کی لائن کے مرمتی کام کی وجہ سے پانی کی فراہمی متاثر ہوئی اسی رات دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ سے لائن نمبر 5 پھٹ گئی جس کا مرمتی کام  مکمل کر نے کا واٹر کارپوریشن حکام دعوی کرر ہے ہیں۔   لائن نمبر 5 درجنوں بار پھٹ چکی ہے جس کے باعث واٹر کارپوریشن حکام سے جب ایکسپریس نیوز سے گزشتہ ماہ بات چیت ہوئی تھی تو ان کا کہنا تھا کہ یہ لائن خستہ ہوگئی اس کی ازسر نر تعمیر کی جار ہی ہے،، بھا ری معاوضے کے بعد لائن نمبر 5 کو بنایا گیا اور اس کے لیے 25 اپریل 2026ء کو دھابیجی پمپنگ اسٹیشن سے پانی کی فراہمی روکی گئی، 48 گھنٹوں کے لیے اور لائن نمبر 5 کو پانی کے نیٹ ورک میں نئی لائن کو منسلک کیا گیا لیکن صرف 30 دن بعد پھر لائن نمبر 5 پھٹ گئی جس پر بہت سے سوالات اٹھ گئے۔   شہریوں کا کہنا ہے کہ واٹر کارپوریشن حکام نے لائن کا یہ کام معیاری نہیں کرایا، شہریوں کی جانب سے مطالبہ سامنے آرہا ہے کہ وزیراعلی سندھ اس کی تحقیقات کرائیں کے جب لائن نمبر 5 کو ازسر نو تعمیر کیا گیا تو پھر یہ صرف 30 دن میں کیسے دوبارہ پھٹ گئی؟ لائن نمبر 5 پھٹنے سے شہر میں پانی کی فراہمی بری طرح متاثر ہوگئی ہے۔   دوسری  جانب این ای کے پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ سے شہر میں پانی کا بدترین بحران ہی کھڑا ہوگیا ہے جس کی وجہ سے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے۔ مختلف علاقوں کورنگی، لانڈھی، گلستان جوہر، گلشن اقبال، لیاقت آباد، ناظم آباد، گلبرگ، پی آئی بی کالونی، اولڈ سٹی ایریا، بلدیہ ٹاؤن ، محممود آباد، ڈیفنس، کلفٹن  سمیت دیگر علاقوں میں پانی کی فراہمی شدید متاثر ہے۔   شہریوں نے ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کر اچی میں پانی کا بحران معمول بنتا جارہا ہے وزیراعلیٰ تحقیقات کرائیں کہ ہر مہذہی تہوار سے قبل پانی کے مسائل کیوں آجاتے ہیں؟ شہر میں لائنوں کے ذریعے پانی کی فراہمی بند ہوجاتی ہے جبکہ ٹینکروں کے ذریعے پانی کی فراہمی جا رہی رہتے ہے۔   واضح رہے کہ کراچی میں پانی کی فراہمی میں مزید 24 سے 48 گھنٹے لگے سکتے ہے۔   اس ضمن میں ترجمان واٹر کارپوریشن کا کہنا ہے کہ دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر بجلی کا بریک ڈاؤن ہوا تھا کراچی کو پانی فراہم کرنے والی 72 قطر انچ کی لائن نمبر 5تین مختلف مقامات سے متاثر ہوئی تھی دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر20 اور 21مئی کی درمیانی شب بجلی کا بریک ڈاؤن ہونے سے دھابیجی پمپنگ اسٹیشن کے 2پمپ بند ہوگئے اور پانی کے بریک پریشر سے کراچی کو پانی فراہم کرنے والی 72 قطر انچ کی لائن نمبر 5 تین مختلف مقامات سے متاثر ہوئی جس کے باعث مذکورہ لائن سے کراچی کو پانی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی۔   ترجمان کا کہنا ہے کہ ریکارڈ مدت میں لائن کا کام مکمل کر کے دھابیجی سے شہر کو پانی کی فراہمی معمول کے مطابق بحال کر دی گئی ہے۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل