Sunday, May 24, 2026
 

ایران امریکا مفاہمت،امن کی امید

 



مشرق وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے، مگر اس مرتبہ منظر نامہ صرف جنگ، دھمکیوں اور پابندیوں تک محدود نہیں بلکہ سفارت کاری، مفاہمت اور ممکنہ امن کی نئی راہوں کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ بیانات نے عالمی سطح پر ایک غیر معمولی امید پیدا کی ہے، اگرچہ ماضی میں واشنگٹن اور تہران کے تعلقات عدم اعتماد، اقتصادی پابندیوں، خفیہ کارروائیوں اور عسکری تناؤ سے عبارت رہے ہیں، تاہم موجودہ پیش رفت اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ طویل دشمنی کے باوجود دنیا کی دو اہم طاقتیں بالآخر اس نتیجے پر پہنچی ہیں کہ مستقل تصادم کسی کے مفاد میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب صرف ایک دوطرفہ معاہدے کی بات نہیں ہورہی بلکہ پورے خطے کی سیاسی، اقتصادی اور تزویراتی ساخت میں ممکنہ تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔  ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ امریکا اور ایران کے درمیان بیشتر معاملات طے پا چکے ہیں اور فریقین حتمی معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں، بظاہر ایک سفارتی بیان محسوس ہوسکتا ہے، لیکن اس کے اثرات نہایت گہرے ہیں۔ خاص طور پر یہ نکتہ اہم ہے کہ مجوزہ معاہدہ ایران کے ایٹمی پروگرام، افزودہ یورینیم کے مسئلے، جنگ بندی، آبنائے ہرمز کی بحالی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے بنیادی امور پر محیط بتایا جارہا ہے، اگر واقعی یہ معاہدہ عملی صورت اختیار کرلیتا ہے تو اس کے اثرات صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں، اسلامی دنیا کی سیاست اور بین الاقوامی سلامتی کے پورے نظام پر مرتب ہوں گے۔ یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ گزشتہ کئی برسوں سے ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی کشیدگی نے پوری دنیا کو اضطراب میں مبتلا رکھا۔ ایران کے جوہری پروگرام پر اختلافات، اسرائیل کے تحفظات، خلیجی ممالک کی سیکیورٹی تشویشات اور امریکا کی پابندیوں نے خطے کو مسلسل جنگ کے دہانے پر رکھا۔ ہر چند ماہ بعد ایسی خبریں سامنے آتی رہیں کہ کسی بھی وقت محدود یا وسیع جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف خطے کے عوام کو عدم تحفظ کا شکار رکھا بلکہ عالمی معیشت کو بھی شدید متاثر کیا۔ تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ، تجارتی راستوں میں رکاوٹیں، سرمایہ کاری میں کمی اور عالمی مالیاتی دباؤ نے ترقی پذیر ممالک کی مشکلات میں اضافہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ حالیہ بحران کے دوران ستائیس ممالک کا عالمی بینک سے ہنگامی مالی امداد طلب کرنا اس امر کا واضح ثبوت ہے کہ مشرق وسطیٰ کی جنگی کیفیت صرف ایک جغرافیائی مسئلہ نہیں بلکہ عالمی اقتصادی استحکام کے لیے بھی خطرہ بن چکی تھی۔ آبنائے ہرمز کی اہمیت اس تمام صورتحال میں غیر معمولی ہے۔ دنیا کی تیل کی بڑی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے اور اگر یہ گزرگاہ متاثر ہو تو پوری عالمی معیشت لرز اٹھتی ہے۔ امریکی صدر کی جانب سے یہ کہنا کہ ممکنہ معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا، دراصل عالمی تجارتی اعتماد کی بحالی کا اشارہ ہے۔ اس سے نہ صرف توانائی کی عالمی رسد میں استحکام آسکتا ہے بلکہ تیل کی قیمتوں میں توازن پیدا ہونے کی امید بھی پیدا ہوگی۔ ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی مہنگائی، قرضوں اور مالی دباؤ کا شکار ہیں، ان کے لیے یہ پیش رفت کسی بڑی معاشی راحت سے کم نہیں ہوگی۔  اس پورے عمل میں ایک اور اہم پہلو مسلم دنیا کی اجتماعی سفارت کاری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے جن ممالک کی قیادت سے رابطوں کا ذکر کیا، ان میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ، مصر، اردن، بحرین اور پاکستان شامل ہیں۔ اس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ واشنگٹن اب یکطرفہ پالیسی کے بجائے علاقائی شراکت داری کو اہمیت دے رہا ہے۔ ماضی میں امریکا کی مشرق وسطیٰ پالیسی اکثر عسکری مداخلت اور طاقت کے استعمال کے گرد گھومتی رہی، مگر حالیہ صورتحال میں سفارت کاری، ثالثی اور کثیرالجہتی تعاون کو ترجیح دی جارہی ہے، اگر یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو خطے میں نئی سیاسی صف بندیاں جنم لے سکتی ہیں، جہاں دشمنی کے بجائے مفادات کے اشتراک کو فوقیت حاصل ہوگی۔  پاکستان کا کردار اس پورے معاملے میں غیر معمولی اہمیت اختیار کرگیا ہے۔ امریکی اور بین الاقوامی اخبارات کی رپورٹس کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے ایران، امریکا اور خلیجی ممالک کے درمیان اعتماد سازی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ یہ امر پاکستان کی سفارتی اہمیت اور علاقائی حیثیت کو اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور سرحدی تعلقات بھی ہیں اور امریکا و خلیجی دنیا کے ساتھ تزویراتی روابط بھی۔ یہی متوازن حیثیت اسے ایک موثر ثالث بنا سکتی تھی، حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستان نے پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا ہے ،یہ نہ صرف ایک بڑی سفارتی کامیابی ہے بلکہ اس سے عالمی سطح پر پاکستان کے مثبت تشخص کو بھی تقویت ملے گی۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امن کوششوں میں خلوص نیت کے اظہار اور مذاکرات کے اگلے دور کی میزبانی کی خواہش بھی اسی بدلتے منظرنامے کی عکاس ہے۔ پاکستان طویل عرصے سے یہ موقف اختیار کرتا آیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے مسائل کا حل جنگ نہیں بلکہ مذاکرات اور سیاسی مفاہمت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد نے ہمیشہ ایسے کسی بھی تصادم سے گریز کی کوشش کی جو پوری مسلم دنیا کو مزید تقسیم کرسکتا ہو۔ موجودہ پیش رفت پاکستان کے اس اصولی مؤقف کی کامیابی کے طور پر بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ یہاں ایک اہم سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ اگر معاہدہ طے پا جاتا ہے تو کیا واقعی دنیا میں امن کی بحالی ممکن ہوسکے گی؟ اس سوال کا جواب مکمل طور پر اثبات میں تو نہیں دیا جاسکتا، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے سے عالمی سطح پر تنازعات کے ایک بڑے مرکز کو ٹھنڈا کیا جاسکتا ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان براہ راست یا بالواسطہ تصادم کا خطرہ ہمیشہ عالمی طاقتوں کو ایک بڑے بحران کی طرف دھکیل سکتا تھا، اگر یہ خطرہ کم ہوجاتا ہے تو نہ صرف خطے میں پراکسی جنگوں کی شدت میں کمی آسکتی ہے بلکہ لبنان، شام، عراق اور یمن جیسے ممالک میں بھی سیاسی استحکام کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔ اسرائیل کا معاملہ بھی اس تناظر میں اہم ہے۔ ٹرمپ کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کو مذاکراتی پیش رفت سے آگاہ رکھا گیا ہے۔ یہ ایک حساس پہلو ہے کیونکہ اسرائیل ہمیشہ ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے لیے وجودی خطرہ قرار دیتا آیا ہے، اگر امریکا ایران کے ساتھ ایسا معاہدہ کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جو اسرائیل کی سیکیورٹی تشویشات کو بھی کسی حد تک مطمئن کرے، تو یہ خطے میں ایک بڑی سفارتی کامیابی ہوگی۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان عدم اعتماد کی خلیج بہت گہری ہے، اس لیے کسی بھی معاہدے کی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ تمام فریق اس پر کس حد تک عملدرآمد کرتے ہیں۔معاشی اعتبار سے بھی یہ ممکنہ معاہدہ دنیا کے لیے نہایت اہم ہوسکتا ہے، اگر ایران پر عائد پابندیوں میں نرمی آتی ہے اور عالمی منڈی میں ایرانی تیل کی واپسی ممکن ہوتی ہے تو توانائی کے بحران میں نمایاں کمی آسکتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ خطے میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا، تجارتی راستے محفوظ ہوں گے اور عالمی منڈیوں میں اعتماد بحال ہوگا۔ دنیا کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت اسی سوچ کی ہے۔ یوکرین جنگ، غزہ بحران، عالمی معاشی دباؤ اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی تقسیم نے بین الاقوامی نظام کو کمزور کردیا ہے۔ ایسے میں اگر امریکا اور ایران جیسے دیرینہ مخالف ممالک مذاکرات کے ذریعے کسی سمجھوتے تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ دنیا کے لیے ایک مثبت مثال ہوگی۔ اس سے یہ پیغام جائے گا کہ شدید ترین اختلافات بھی سفارت کاری، تحمل اور سیاسی بصیرت کے ذریعے کم کیے جاسکتے ہیں۔ اگرچہ ابھی حتمی معاہدے کا اعلان باقی ہے اور کئی نکات پر اختلافات برقرار ہیں، لیکن موجودہ پیش رفت کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔ یہ صرف دو ملکوں کے درمیان مذاکرات نہیں بلکہ ایک ایسے خطے کے مستقبل کا سوال ہے جو دہائیوں سے جنگوں، پابندیوں، فرقہ وارانہ کشیدگی اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے، اگر یہ عمل کامیاب ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ آنے والے برسوں میں مشرق وسطیٰ میں ایک نئے سیاسی اور اقتصادی دور کا آغاز ہو، جہاں اسلحے کی دوڑ کے بجائے ترقی، تجارت اور علاقائی تعاون کو ترجیح حاصل ہو۔  دنیا نے بارہا دیکھا ہے کہ جنگیں تباہی تو لاتی ہیں مگر استحکام نہیں۔ اس کے برعکس کامیاب سفارت کاری قوموں کو قریب لاتی اور عالمی نظام کو متوازن بناتی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدہ اسی سمت میں ایک اہم قدم ثابت ہوسکتا ہے، اگر فریقین دانشمندی، صبر اور سیاسی عزم کا مظاہرہ کرتے رہے تو نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا ایک بڑے بحران سے محفوظ ہوسکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی نظریں اس وقت ان مذاکرات پر مرکوز ہیں، کیونکہ ان کی کامیابی صرف دو ممالک کی کامیابی نہیں بلکہ عالمی امن، اقتصادی استحکام اور بین الاقوامی تعاون کی امید بن سکتی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل