Loading
ہمارے خیال میں ایسا دنیا میںصرف دومرتبہ ہوا ہے، جب کسی نے کسی بڑے مسئلے کا حل چٹکیوں میں نکالا ہو۔ ہم نے تو یہ کارنامہ جو ابھی ابھی کیا ہے، اس کاذکر بعد میں کریں گے، پہلے اس کارنامے کاذکر کرتے ہیں جو بہت دن ہوئے قہرخداوندی چشم گل چشم عرف کوئڈ نائینٹین نے کردکھایا تھا۔
ہوا یوں کہ ایک بزرگ بڑی شدت سے اس بات پر افسوس کررہے تھے کہ دیکھئے تو ہمارے لوگ خیرات بہت زیادہ دیتے ہیں،مسجدیں بھی پہلے سے کئی گنا زیادہ ہوگئی ہیں، ہر گلی میں ایک اور بعض جگہ ایک ہی سڑک پر تین مسجدیں تعمیر ہوگئیں، نماز عید پر توسڑکوں اور گلیوں میں صفیں بچھائی جاتی ہیں لیکن معاشرے پر نظر ڈالیں تو جرائم میں مسلسلہ اضافہ ہورہا ہے ، بچے اور بچیاں اغوا کرلی جاتی ہیں، راہزنی ، قتل اور اغوا برائے تاوان عام سے بات ہے ، ناجائز منافع خوری ، جائز کام کے لیے بھی سرکاری ملازم رشوت لیتے ہیں حالانکہ یہی لوگ یہ بھی درس دیتے ہیں کہ رشوت لینے اور دینے والا دونوں جہنمی ہیں، سمجھ میں نہیں آتا ، آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ سلسلہ کیا ہے؟ یہ ماجرا کیا ہے؟
کوئی سمجھائے یہ کیا رنگ میخانے کا
ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا
اور یہیں پر قہر خداوندی نے چٹکیوں میں اس کی ’’وجہ‘‘ بتادی۔ بولا ، میرے خیال میں تو یہ سارا کیا دھرا ’’جوتوں‘‘ کا ہے۔، دیکھونا جب پاکستانی حضرات کسی عبادت گاہ یا درگاہ میں داخل ہونے سے پہلے جب جوتے اتار کر داخل ہو جاتے ہیں تو فرشتہ سیرت بن جاتے ہیں اور پھر جیسے ہی باہر آکر جوتے پہنتے ہیں، شیطان بن جاتے ہیں۔ لگتا ہے جیسے ابلیس جوتوں میں بیٹھا ہوتا ہے اورجوتے پہننے پر آدمی میں گھس جاتا ہے یا یہ بھی ممکن ہے کہ چمڑے یا پلاسٹک میں کوئی کیمیکل ہو لیکن ’’کام‘‘ بہرحال ’’جوتوں‘‘ کا ہے، یہ تو جوتوں کے بارے میں قہرخداوندی کا نظریہ تھا۔
اب ہم اپنا ’’حل‘‘ بتاتے ہیں جو ہم نے ایک معاملے کا نکالا ہے لیکن فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں، ہم نے جس معاملے کا حل ڈھونڈا ہے، وہ کوئی تشویشناک یا غمناک معاملہ نہیں بلکہ طرب ناک، حیرت ناک بلکہ فخرناک اورخوشی ناک معاملہ ہے ۔
یہ تو آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ آج کل ساری دنیا میں پاکستان کے چرچے ہیں، ہر ہر سطح پر، ہر ہر معاملے میں، ہر ہر جگہ پاکستان کو شاباشیاں اورآفرینیاں مل رہی ہیں، امریکا سے لے کر ٹمبکٹو تک سے واہ واہ کی صدائیں بلند ہو رہی ہیں، بین الاقوامی سطح پرداد دی جارہی ہے، پاکستان کی سفارت کاریوں، مہارت کاریوں اور پالیسیوں کے چرچے ہیں۔
شہروں شہروں ہمارے چرچے ہیں
اس کے شاہد تمام پرچے ہیں
آخر اس کی وجہ کیا ہے؟ کیا پاکستان کو کسی سے ’’انجیر کا پھول‘‘ ملا ہے، کوئی گیدڑسنگی ہاتھ لگی ہے، کوئی ناگ منی ملی ہے یا سفید سانپ کی کینچلی ڈھونڈی ہے۔ وہ ایک فلم میں شلپا سیٹھی کا ڈائیلاگ یاد آجاتا ہے جو ہیرو سے کہتی ہے کہ ’’مجھ میں ایسا کیا ہے جوتم مجھ پر مرمٹے ہو… مجھ میں ایسا کیا ہے، بتاؤ ایسا کیا ہے، مجھ میں؟
اور تو اور۔ وہ کنجوس مکھی چوس سراسر منحوس، ٹرمپ بھی ہماری تعریف میں رطب اللسان ہے جس کی زبان میں بچھو کا ڈنک ہے بلکہ ہم نے ایک بے وثوق ذریعے سے سنا ہے کہ ٹرمپ اکثر کہتا رہتا ہے کہ ’’تحائف‘‘ دینے میں مصروف نہ ہوتا تو کابل میں جا کر رہائش کر لیتا۔ مطلب یہ کہ ہر جہت سے کامیاب، کامیاب، کامیاب اورکامیاب۔
ہم روزانہ اخبارات میں ڈھونڈتے رہے، بیانات میں کھوجتے رہے، چینلات پر دیکھتے رہے کہ شاید یونان ثانی، فارس دوئم کا کوئی سقراط، بقراط یا بزرجمہر اس راز کو انکشاف کردے کہ پاکستان کی مسلسل، لگاتار، موسلادھار اور شش جہات میں ہونے والی یہ کامیابیاں کس سعادت کی رہین منت ہیں۔
کافی عرصہ تو ہم نے غلط سمت میں اپنی تحقیق کا ٹٹو دوڑایا اورتھکایا، وہ یوں کہ اب اکثر کسی خاص جڑی بوٹی کے بارے میں انکشاف ہوجاتا ہے ، یوں کہ… ایک سیاح کا ’’چین‘‘ کی ایک بستی سے گزر ہوا تو اس نے دیکھا کہ اس بستی میں کوئی بوڑھا نہیں تھا اور قبرستان بھی نہیں تھا کیوں کہ وہاں نہ کوئی بیمار ہوتا تھا نہ مرتا تھا اورلوگوں کی عمریں سیکڑوں سال کی ہوتی تھیں اور تو اورجانوروں کی عمریں بھی بہت طویل ہوتی تھیں، تب اسے پتہ چلا کہ اس گاؤں میں ’’جنک جنک چاؤں‘‘ نام کی ایک جڑی بوٹی اگتی تھی جسے جانور بھی کھاتے تھے اور وہاں کے لوگ بھی بطور ساگ کے پکاکر کھاتے تھے، یہ سب اس جڑی بوٹی کا کمال تھا، سو پھر اس سے یہ دوابنائی گئی، قیمت صرف ڈھائی ہزار روپے لیکن ہم ایسی بوٹی کی تلاش میں بھی ناکام ہوگئے جسے کھا کر پاکستانی ہر ہر ملک، ہر ہرکام میں اے ٹاپ اور نمبر ون جارہے ہیں… تب اچانک ہم پر انکشاف ہوا، ہم نے پالیا آئی گاٹ اٹ۔یہ سارا کمال ’’ ساتھ کھڑے‘‘ ہونے کا ہے، پاکستانیوں کا یہ کمال ہے کہ یہ ہمیشہ ہر جگہ ہرکسی کے ساتھ ’’کھڑے‘‘ ہوتے ہیں۔ یہ سعودی عرب کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، ایران کے ساتھ بھی بلکہ متحدہ عرب امارات اورقطر کے ساتھ بھی کھڑے ہیں، فلسطینیوں کے ساتھ بھی کھڑے ہیں اورکشمیریوں کے ساتھ تو اس وقت تک کھڑے ہیں جب کشمیری خود بھی اپنے ساتھ کھڑے نہیں ہوتے تھے بلکہ امریکا، برطانیہ، فرانس، اٹلی کے ساتھ تو چھاتی تان کر کھڑے ہیں ۔
صرف کھڑے ہی نہیں ہوتے بلکہ یک جہتی کو اپنے ساتھ کھڑی کر کے کھڑے ہوتے ہیں اوراب تو ساری سابق روسی ریاستوں کے ساتھ بھی کھڑے اور یک جہت ہیں جن کے ناموں میں ’’ستان‘‘ آتا ہے، ویسے ستان کا مطلب رہنے کی جگہ کا ہوتا ہے، یہ لفظ اس ’’تان‘‘ سے نکلا ہے، وہ ’’تان‘‘ جہاں ’’اسپ‘‘ یعنی گھوڑے کھڑے ہوتے ہیں۔
دیکھا آخر ہم نے وہ وجہ ڈھونڈ ہی لی ہے جو پاکستانیوں کی ہمہ جہت کامیابی کے پیچھے کارفرما ہے اورآپ کو دل کھول کر ہمیں داد دینا چاہیے اور پاکستانیوں کو ہمیشہ ساتھ کھڑے ہونے اور رہنے کی دعا کرنی چاہیے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل