Loading
عیدِ قربان یا عید الاضحی سر پر ہے اور ہمارے محبوب وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف ، چار روزہ دَورۂ چین پر ہیں۔پرسوں جب ہم سب عید الاضحٰی منا رہے ہوں گے ، تب بھی شائد جناب شہباز شریف چین میں ہوں گے ۔ عجب منظر ہے کہ جنگی کشیدگی ایران اور امریکہ کے درمیان چل رہی ہے اور دَوڑیں پاکستان کی لگ رہی ہیں ۔
پاکستان کی مانند امریکہ بھی چین کی طرف التفات اور اُمید بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے کہ چین ،شائد، ایران سے اپنے مبینہ ’’بہترین‘‘ تعلقات کو بروئے کار لا کر یہ کشیدگی ختم کرا دے ۔ شائد چین آبنائے ہرمز کھلوا دے ۔ شائد چین آگے بڑھ کر ایران کو مائل و قائل کر سکے کہ وہ متنازع افزودہ یورینیم’’کسی‘‘ کے حوالے کردے ۔ شائد چین کے کہنے پر ایران جوہری ہتھیار بنانے کے عزائم سے دستکش ہو جائے ۔ ایران و امریکی کشیدگی کے طُول کھنچ جانے سے اب تو یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے پانی میں مدھانی ڈال دی گئی ہے ۔
ایرانی قیادت مگر سب درمیان داروں کو ترسا رہی ہے ۔ لاتعداد کوششوں کے باوصف ثالثی اب تک مکمل طور پر ثمر بارثابت نہیں ہو سکی ہے ۔ امریکی صدر ، ڈونلڈ ٹرمپ، نے بھی حالیہ ایام میں تسلیم کیا ہے کہ ایرانی قیادت Tough Negotiator ہے ۔ پچھلے ہی ہفتے امریکی صدر ، ٹرمپ،نے چین کا دو روزہ دَورہ کیا ہے ، مگر وہ چین سے خالی ہاتھ لَوٹے ہیں ۔ ٹرمپ صاحب بیجنگ سے واپس واشنگٹن پہنچے ہی تھے کہ رُوسی صدر ، پوٹن ، چین پہنچ گئے ۔ وہ بھی مگر اپنے مقاصد و اہداف حاصل نہیں کر سکے ۔
پوٹن صاحب اپنی گیس بیچنے کے لیے چینی صدر سے اپنی مرضی کا معاہدہ کر سکے نہ وہ چینی قیادت کو ایران بارے کوئی بھی کردار ادا کرنے پر راضی کر سکے ۔ہمارے وزیر داخلہ ، محسن نقوی صاحب ، بھی پچھلے ایک ہفتے کے دوران دو بار تہران کا دَورہ کر چکے ہیں ۔ فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر بھی گذشتہ روز ہنگامی بنیادوں پر تہران پہنچے اور واپس بھی آگئے ۔دونوں کی ایرانی صدر و دیگر اعلیٰ ایرانی حکام سے ملاقاتیں بھی ہُوئی ہیں،یقین تو بہرحال یہی کیا جارہا ہے کہ فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر اورمحسن نقوی صاحب ایرانی قیادت کو ( پاکستانی و شرقِ اوسط اور عالمی مفادات میں) منانے اور کسی متفقہ و محترم ڈَھب پر لانے کی کوشش و سعی ہی کررہے ہوں گے ۔ اب تو قطر بھی پُر اسرار انداز میں تہران پہنچ گیا ہے ۔
پچھلے ہفتے ہی صدرِ پاکستان ، جناب آصف علی زرداری، چین کے تفصیلی دَورے سے واپس وطنِ عزیز پہنچے ہیں ۔اُن کے دَورے کے مقاصد کیا تھے، ہنوز اِن کی پردہ کشائی نہیںکی گئی ہے۔ اور اب عین عید الاضحی کے ایام میں وزیر اعظم پاکستان ، جناب شہباز شریف ، چین پہنچے ہیں تو اِس کا سبب بھی یقیناً اہم ترین ہی ہوگا۔ مشکل بجٹ بھی سر پر ہے ، ملک بھر کے سیاسی و سماجی اور قانونی حلقوں میں کسی مبینہ اٹھائیسویں آئینی ترمیم کا غلغلہ بھی بلند ہے اور وزیر اعظم صاحب چین پہنچے ہیں تو اِس کا مطلب ہے کوئی ’’ایمر جنسی‘‘ ہی ہوگی ۔
ہو سکتا ہے کہ پچھلے دو ہفتوں کے دوران امریکی و رُوسی صدور نے جو اہم چینی دَورے کیے ہیں، اُن کے حوالے سے چینیوں نے ہمارے وزیر اعظم صاحب کو بھی اعتمادِ خاص میں لینا ہو ۔چین روانگی سے قبل اسلام آباد کی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہُوئے جناب شہباز شریف نے نہائت پُر جوش انداز میں، بہ زبانِ انگریزی ، خطاب کرتے ہُوئے کہا:’’مجھے عظیم ملک ، چین، کے متعدد مرتبہ دَورے کرنے کے مواقع ملے ہیں ۔ جتنی بار وہاں گیا ہُوں، ہر مرتبہ چین میں نئے شہر، نئی صنعتیں، اور نئے عظیم منصوبے اُبھرتے دیکھتا ہُوں ۔ یہ سب چینی صدر ، شی جن پنگ، کی بصیرت اور دُور اندیشی کا نتیجہ ہے ۔ چین نے اپنے80کروڑ لوگوں کو غربت کے گڑھوں سے باہر نکالا ہے ۔‘‘
وزیر اعظم ، جناب شہباز شریف ، نے بجا طور پر ہمہ دَم بڑھتی چینی ترقی کے مشاہدات کا ذکر کیا ہے ۔ راقم الحروف بھی چین کی تین بار وزٹ میں خود چین کی محیر العقول اور حیرت ناک علمی، عسکری، سائنسی ، سماجی ، معاشی ، صنعتی اور ہائی ٹیک ترقی دیکھ چکا ہے ۔ یہ کہنا بجا ہوگا کہ ہر شعبہ حیات میں چینی ترقی نے دُنیا بھر کی آنکھیں چندھیا رکھی ہیں ۔
چین نے اپنے80کروڑ شہریوں کو غربت کے گڑھے سے باہر نکالا ہے تو ایسے میں جناب شہباز شریف اور ان کی ٹیم سے بھی ایک ( معصومانہ) سوال کرنے کو جی چاہتا ہے :جناب شہباز شریف پچھلے 4سال سے وزیر اعظم پاکستان ہیں۔ ایسے میں اپنے پالیسی سازوں سے کیا ہر پاکستانی سوال نہیں کر سکتا ہے کہ آپ کی حکومت کے دور میں کتنے کروڑ پاکستانیوں کو غربت کے گڑھے سے باہر نکالا گیا ہے؟ پاکستانی بھی آپ کی اور آپ کی اقتصادی ٹیم ’’بصیرت‘‘ اور ’’دُور اندیشی‘‘ دیکھنے کے منتظر ہیں !
سفاک حقیقت مگر یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے عسرت زدہ پاکستانیوں کو غربت کے گڑھے سے باہر کیا نکالنا تھا، اُلٹا اُن کے افلاس میں کئی گنا اضافہ کر دیا ہے ۔ عام پاکستانی مسلسل خط غربت سے نیچے اور غربت کے گڑھے میں لڑھکتا جا رہا ہے اور پاکستان کی اعلیٰ ترین سرکاری مراعات یافتہ اشرافیہ اپنی مراعات سے ایک انچ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے ۔ پاکستان کے ممتاز ماہرِ معیشت ( اور نون لیگ کے سابق وزیر خزانہ) جناب مفتاح اسماعیل آن دی ریکارڈ ہمیں بتا رہے ہیںکہ :’’پچھلے10 مہینوں میں،ملکی اشرافیہ کے لیے ، تین ارب ڈالرز کی لگژری گاڑیاں امپورٹ کی گئی ہیں جب کہ دوسری طرف پاکستان ایک ارب ڈالر قرض کے لیے آئی ایم ایف کے سامنے ناک رگڑ رہا ہے ۔‘‘ حکمرانوں کی اپنی سہولتوں اور مراعات کے لیے عالمی قرضوں کی دلدل میں ہر پاکستانی کی گردن دھنس چکی ہے اور قرض مانگنے والے ہمارے حاکم پیچھے نہیں ہٹ رہے :قرض کی پیتے تھے مَے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں/ رنگ لاوے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن !!
یہ قومی ’’فاقہ مستی ‘‘ روز افزوں بھی ہے اور اِس کا دائرہ بھی ہر روز وسعت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ مایوسی اورتنگدستی کے سیاہ سائے طویل سے طویل تر ہوتے جا رہے ہیں ۔ اور اُمید کی کوئی کرن نظر نہیں آ رہی ۔ تنگدستی کے یہ سائے اسقدر مہیب اور سنگین ہیں کہ اِس کی لپیٹ میں ہمارا میڈیا اور صحافی بھی آ چکے ہیں ۔ یہ تنگدستی عید الاضحی کے موقع پر خاص طور پر اسلیے بھی زیادہ تکلیف دِہ اور محسوس ہو رہی ہے کہ قربانی کا جانور صحافی کی رسائی سے دُور ہے ۔
ایسے میں پشاور پریس کلب سے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا سامنے آیا ہے ۔خبر آئی ہے کہ پشاور پریس کلب کے صدر ( ایم ریاض خان صاحب) اور اُن کی گورننگ باڈی نے ، خیبر پختونخوا حکومت کے تعاون سے ، پشاور پریس کلب سے وابستہ ہر رکن کو عید الاضحیٰ کے موقع پر ایک لاکھ روپے نقد کا تحفہ پیش کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُمید ہے اِن سطور کی اشاعت تک یہ تحفہ پشاور پریس سے جُڑے متعلقہ صحافیوں تک پہنچ چکا ہوگا۔ اور یوں وہ اِس عید الاضحی پر قدرے بآسانی قربانی کا فریضہ بھی ادا کر سکیںگے ۔یہ مثال اور اقدام دیگر پاکستانی پریس کلبوں کی منتخب باڈیز کے لیے بھی قابلِ تقلید ہونا چاہیے ۔ حیرت کی بات مگر یہ ہے کہ پی ٹی آئی کے سابق وفاقی وزیراطلاعات، چوہدری فواد حسین ، نے اپنے ایک ٹوئٹر میسج پر صحافیوں کی دی گئی اِس اعانت کی سخت الفاظ میں مخالفت کی ہے ۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل