Loading
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے انکشاف کیا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ تنازعے کی ابتداء میں ایک منصوبے پر غور کیا گیا جس کا مقصد سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانا تھا ۔ اسرائیلی حکام کا تیارکردہ منصوبہ ایک خطرناک حملے پر مبنی تھا جس کے ذریعے تہران میں احمدی نژاد کو آزاد کرایا جانا تھا ۔ساتھ ہی کرد فورسز کے استعمال اور توانائی کے ڈھانچے پر بمباری کے ذریعے حکومت کو گرانے کی کوشش شامل تھی۔
ٹرمپ نے دوران جنگ اس بات کی نشاندہی کی تھی کہ ایران کے اندر سے کسی جانشین کا ابھرنا زیادہ موزوں ہو گا۔ تاہم احمدی نژاد کے انتخاب پر ٹرمپ کے نزدیکی ساتھی بھی ششدر رہ گئے ۔امریکی حکام کے مطابق احمدی نژاد کو اس منصوبے کے بارے میں اعتماد میں لیا گیا تھا ۔ جنگ کے پہلے دن ایک اسرائیلی فضائی حملہ ان کی رہائشگاہ پر کیا گیا۔ جس کا مقصد ان کی حفاظت پر مامور فورسز کو ختم کرکے ان کی رہائی کو یقینی بنانا تھا۔ احمدی نژاد اس حملے میں زخمی ہوئے اور رپورٹ کے مطابق اسرائیلی منصوبہ توقع کے مطابق کامیاب نہ ہو سکا ۔ ایرانی سپریم لیڈر مجتبی خامنائی نے اپنے پیغام میں کہاکہ ایران اس وقت دو عالمی دہشتگرد افواج امریکا اور اسرائیل کے خلاف تنہا تاریخی مزاحمت کر رہا ہے۔
ایرانی اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے آخری سانس تک لڑیں گے اور شرانگیز ممالک کی دھمکیوں میں نہیں آئیں گے۔ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی ظاہری اور خفیہ نقل وحرکت دیکھ کر لگتا ہے کہ ایران پر اقتصادی اور سیاسی دباؤ ڈالنے کے ساتھ ساتھ اس نے اپنے عسکری مقاصد بھی نہیں چھوڑے ہیں ۔ ایران نے جنگ بندی کے ایک مہینے کو اپنی فوجی اپریشنل صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا ہے ۔ چین میں تعینات ایرانی سفیر عبدالرضا رحمانی فضلی نے کہا ہے کہ ثالثی عمل دراصل ایران پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تعاون اور سفارتی روابط کا نتیجہ ہے ۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ اگر ایران کے خلاف دوبارہ کسی بھی قسم کی عسکری محاذ آرائی کی گئی تو اس کے نتیجے میں دشمن کو مزید سرپرائز ملیں گے ۔ جنگ میں جو کچھ سیکھا ہے اس کی مدد سے مزید حیرت انگیز ردعمل دیا جائے گا۔ امریکی کانگریس نے بھی ایران پر حالیہ جنگ کے دوران ہونے والے بھاری نقصانات بشمول درجنوں جنگی طیاروں جن کی تعداد42 کے قریب ہے، کی تباہی کا باضابطہ اعتراف کرلیا ہے ۔ ایرانی پارلیمنٹ کے نیشنل سیکیورٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے کہا ٹرمپ جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف کسی بھی اقدام کا مطلب یہ ہے کہ انھیں ایک فیصلہ کن فوجی ردعمل اور متحد قوم کا سامنا کرنا ہوگا۔ ٹرمپ کی کسی نئی جارحانہ کارروائی سے ہچکچاہٹ کی واحد وجہ ایرانی فوج کے فیصلہ کن ردعمل اور ایرانی عوام کے اتحاد کا خوف ہے۔
طاقت ہی وہ واحد زبان ہے جسے ٹرمپ بخوبی سمجھتے ہیں ۔ پاسداران انقلاب نے بھی کہا ہے کہ اگر دشمن نے دوبارہ حملے کیے تو جنگ خطے سے باہر پھیل جائے گی۔ ہمارے حملے ایسے مقامات پر پہنچیں گے جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے ۔ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ پیر کو حملے سے صرف ایک گھنٹہ پہلے سعودی عرب ، قطر اور متحدہ عرب عمارات کی اپیل پر حملہ روک دیا۔ اﷲ نہ کرے ۔ ذرا یاد کریں فروری میں ایران پر امریکا ، اسرائیل کے حملے سے ذرا پہلے مودی نے اسرائیل کا دوروزہ دورہ کیا ۔ اس دورے کے ختم ہونے کے صرف ایک روز بعد بروز ہفتہ 28فروری کو دوران مذاکرات امریکا اور اسرائیل نے اچانک ایران پر حملہ کردیا۔ دورہ اسرائیل کے دوران مودی کی خصوصی اورخفیہ میٹنگز ہوئیں ۔ کیونکہ نیتن یاہو کو یقین تھا کہ رجیم چینج صرف چند روز کی بات ہے اور مودی اس معاملے میں اس کا پارٹنر ہوگا۔
اس طرح دونوں مل کر مشرق وسطی کا کنٹرول سنبھالیں گے ۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ بھارتی وزیر اعظم نے اسرائیل کے ایران پر حملے کی نہ صرف تائید کی بلکہ آیت اﷲ خامنائی کی شہادت پر تعزیت کی بجائے خاموشی اختیار کی جس کی بھارتی اپوزیشن نے شدید مذمت کی ۔ یہ سب کچھ اس پس منظر میں ہوا کہ بھارت ایران سے نہ صرف انتہائی سستا بلکہ مفت میں بھی تیل حاصل کرتا رہا۔ حالیہ جنگ میں اسرائیلی فوج کے ترجمان نے عرب ملکوں کو کہا کہ تم ایران کا ساتھ کیوں دے رہے ہو۔ تمہیں کیا ہو گیا ہے ۔ ایک طرف امریکا اور اسرائیل کا منصوبہ کہ ایران پر قبضہ کرتے ہوئے وہاں اپنی کٹھ پتلی حکومتیں قائم کرنا تو دوسری طرف عرب خطے سے پاکستان تک فرقہ واریت پھیلانے کی مذموم سازش کرنا تاکہ مسلمان ایک دوسرے کو مذہب کے نام پر قتل کریں۔ اس طرح گریٹر اسرائیل کے منحوس منصوبے پر عمل کرنا۔ یہ منصوبہ امریکی فوجی رسالے میں نقشے سمیت شائع ہو چکا ہے ۔
2جون سے مثبت وقت شروع ہو رہا ہے ۔ اس حوالے سے اہم تاریخیں 25-26مئی ،29-31 مئی اور یکم جون ہیں کہ ڈیل ہوسکتی ہے لیکن اس کے باوجود مئی کے آخر تک سب کچھ الٹ بھی سکتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل