Tuesday, June 09, 2026
 

سفارتکاری پہلی ترجیح ہے ورنہ دوسری زبان میں بھی جواب دینا جانتے ہیں؛ ایران

 



ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور امریکا کے ساتھ مذاکرات کے چیف محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ایران امن اور سفارتکاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن ہمارے ساتھ وعدہ خلافی یا جارحیت کی گئی تو بھرپور انداز میں جواب دینا جانتے ہیں۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور حالیہ تنازعات کے دوران ایرانی قوم نے ثابت کیا ہے کہ وہ دباؤ کے سامنے جھکنے والی نہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران کی ترجیح ہمیشہ سفارتی حل اور مذاکرات رہے ہیں لیکن ملک اپنی سلامتی اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے دیگر ذرائع استعمال کرنا بھی جانتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سفارتکاری کی زبان کو ترجیح دیتے ہیں لیکن دوسری زبانیں بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔ اگر وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی تو ہم اسی زبان میں جواب دیں گے جس پر ہمیں زیادہ عبور حاصل ہے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر نے مخالف فریق کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ جن قوتوں نے موجودہ صورتحال پیدا کی ہے اب انہیں اس کے نتائج کا سامنا بھی کرنا ہوگا۔ ان کے بقول بعض ممالک نے خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن ایرانی عوام کی مزاحمت نے ان منصوبوں کو ناکام بنا دیا۔ باقر قالیباف نے کہا کہ ایران کے قومی جہاد کو 100 دن مکمل ہو چکے ہیں اور اس عرصے میں ایرانی عوام، مسلح افواج اور ریاستی اداروں نے یکجہتی کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے ان تمام افراد کو خراج تحسین پیش کیا جنھوں نے ان کے بقول دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا اور ملک کا دفاع کیا۔ اپنے خطاب کے اختتام پر باقر قالیباف نے ایرانی قوم کی مزاحمت کو سراہتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور قومی وقار کا دفاع ہر قیمت پر جاری رکھا جائے گا اور ملک کے خلاف کسی بھی اقدام کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کے نزدیک تباہ ہونے والے امریکی اپاچی ہیلی کاپٹر کا ذمہ دار ایران کو ٹھہراتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل