Tuesday, June 09, 2026
 

گلگت بلتستان میں ن لیگ کی ہار ؟

 



گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج کافی حد تک مکمل ہو گئے ہیں۔ اب تک کے نتائج کے مطابق پیپلزپارٹی نے جی بی کے انتخابات کا معرکہ مار لیا ہے۔ پیپلزپارٹی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے جب کہ ن لیگ دوسرے نمبر پر رہی ہے۔ ن لیگ نے اپنی شکست تسلیم بھی کر لی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے زیادہ سیٹیں جیتنے پر پیپلزپارٹی کو مبارکباد بھی دی ہے اور انھیں حکومت بنانے کا بھی کہا ہے۔ گلگت کے انتخابات کا معرکہ کافی حد تک پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان ہی تھا۔ تحریک انصاف بطور جماعت وہاں انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی تھی اور بطورآزاد بھی اس کے امیدواران کی کارکردگی کوئی خاص اچھی نہیں رہی۔ اب ایک طرف پیپلزپارٹی کی جیت ہے اور دوسری طرف ن لیگ کی ہار ہے۔ جہاں تک پیپلزپارٹی کی جیت کا تعلق ہے، تو بلا شبہ ان کی کمپین اچھی تھی۔ بلاول اور آصفہ بھٹو نے مل کر یہ مہم چلائی ۔ انھوں نے کافی جلسے کیے۔ ان کے جلسے اچھے بھی تھے۔ وہ وہاں کافی دن رہے۔ جلسوں کے علاوہ بھی لوگوں سے ملے۔ پیپلزپارٹی کی باقی قیادت بھی وہاں موجود تھی۔ میڈیا کمپین بھی نظر آئی اور نظر آرہا تھا کہ پیپلزپارٹی بطور جماعت وہاں یکسوئی سے انتخابات میں حصہ لے رہی تھی۔ دوسری طرف ن لیگ کافی مردہ دلی سے انتخابی مہم چلاتی ہوئی نظر آئی۔ پہلی بات میاں نواز شریف صرف ایک چھوٹی سی کارنر میٹنگ کے لیے گئے اور اس کے بعد بیرون ملک چلے گئے۔ ان کے بعد شریف فیملی کا کوئی بھی فرد گلگت نہیں گیا۔ میاں شہباز شریف وزیراعظم ہونے کی وجہ سے انتخابی مہم میں نہیں جا سکتے تھے۔ مریم نواز وزیر اعلیٰ ہونے کی وجہ سے وہاں نہیں جا سکتی تھیں۔ حمزہ شہباز بھی نہیں گئے۔ اس طرح شریف فیملی نے گلگت کی انتخابی مہم میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ ساری انتخابی مہم دوسرے درجہ کی قیادت کے سپرد تھی۔ خواجہ سعد رفیق، خرم دستگیر اور دیگر ہی مہم چلا رہے تھے۔ اس طرح اگر پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان انتخابی مہم کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو فرق صاف نظر آتا ہے۔ پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول اور ان کی بہن آصفہ بھٹو وہاں نظر آرہے تھے۔ ہر حلقہ میں نظر آرہے تھے۔ ہر امیدوار کے لیے جلسہ کر رہے تھے۔ ماحول کو گرما رہے تھے۔ بلاول جان بوجھ کر اپنی تقاریر میں ن لیگ کو نشانہ پر رکھ رہے تھے۔ دوسری طرف سے ن لیگ کی دوسرے درجہ کی قیادت جواب دے رہی تھی لیکن بلاول کا قد کاٹھ ان کے مقابلے میں بڑا تھا۔ مقابلہ نہیں تھا۔ گلگت انتخابات کے لیے پیپلزپارٹی کی میڈیا کمپین اور سوشل میڈیا کمپین بھی نظر آرہی تھی۔ دوسری ن لیگ کی کوئی میڈیا کمپین تھی ہی نہیں۔ ایسا لگتا تھا کہ ن لیگ الیکشن کو الیکشن سمجھ کر لڑ ہی نہیں رہی۔ کہا جا سکتا ہے جہاں ن لیگ کی دوسرے درجے کی قیادت پیپلزپارٹی کی صف اول کی قیادت سے مقابلہ کر رہی تھی، وہاں ن لیگ کی تیسرے درجہ کی سوشل میڈیا ٹیم پیپلزپارٹی کی صف اول کی سوشل میڈیا ٹیم سے لڑ رہی تھی۔ ن لیگ کی میڈیا کیمپین تو تھی ہی نہیں۔ تیر کو ووٹ ڈالیں کی مہم نظر آرہی تھی۔ شیر کی مہم کا وجود ہی نہیںتھا۔ ایسا لگتا تھا کہ ن لیگ سمجھتی ہے کہ اب انھیں کسی انتخابی مہم کی کوئی ضرورت نہیں۔ آٹھ فروری 2024کے انتخابات میں بھی یہی ہوا تھا۔ ن لیگ کی انتخابی مہم پیپلزپارٹی سے کافی کمزور تھی لیکن تب بھی ن لیگ کو کافی دھچکا لگا تھا۔ نتائج ن لیگ کی مرضی کے نہیں تھے۔ وہ بھی جیت نہیں تھی تا ہم اقتدار مل گیا تھا۔ پنجاب مکمل مل گیا۔ وفاق بھی مل گیا لیکن انتخابی نتائج مکمل جیت کے نہیں تھے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ ن لیگ نے 2024کے انتخابی مہم کی خامیوں اور ان کے نتائج کے بعد کچھ سیکھا نہیں ہے کیونکہ گلگت کے انتخابات میں بھی وہی غلطیاں کی گئی ہیں جو گزشتہ عام انتخابات میں کی گئی تھیں۔ تب بھی بلاول مسلم لیگ ن کو للکار رہے تھے اور ن لیگ کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جا رہا تھا۔ اب بھی بلاول شیر کو للکار رہے تھے، جواب کمزور تھا۔ میاں نواز شریف کی واحد تقریر تھی۔ اس پر بھی بہت بات ہوئی۔ کیا وہ ایک انتخابی تقریر تھی۔ کیا اس ایک تقریر پر ن لیگ گلگت کا پوار الیکشن لڑ سکتی تھی۔ نہیں، بلکہ میں سمجھتا ہوں ایک تقریر کے لیے میاں نواز شریف کا گلگت جانا کوئی اچھی حکمت عملی نہیں تھی۔ اس کا فایدہ کم اور نقصان زیادہ ہوا ہے۔ ایک رائے بن رہی ہے کہ ن لیگ نے گلگت میں نیم مردہ دل کے ساتھ انتخابی مہم چلائی ہے۔ کوئی بڑا شو آف پاور نہیں کیا گیا۔ کوئی جلسے نہیں کیے گئے۔ کوئی انتخابی نعرہ نہیں تھا۔ گلگت کے عوام کے لیے نہ تو کوئی ایجنڈا دیا گیا اور نہ ہی کوئی انتخابی منشور سامنے آیا۔ ایسا لگ رہا تھا کہ ن لیگ جان بوجھ کر خاموش ہو گئی ہے۔ میری رائے میں یہ کوئی ا چھی حکمت عملی نہیں تھی۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے گلگت کے صدر حافظ حفیط الرحمٰن کی بھی کوئی قائدانہ صلاحیت سامنے نہیں آئیں۔ خیر سے وہ اس بار اپنی سیٹ جیت گئے ہیں ورنہ پچھلی دفعہ تو وہ اپنی سیٹ بھی ہار گئے تھے۔ اگر مریم نواز انتخابی مہم کے دوران وہاں نہیں جا سکتی تھیں تو وہ انتخابی مہم شروع ہونے سے پہلے وہاں چند جلسے کر کے آسکتی تھیں۔ اسی طرح شہباز شریف بھی کچھ سیاسی سرگرمیاں کر سکتے تھے لیکن یہ بات کسی کی سمجھ میں نہیں آئی کہ جب میاں نواز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت واپس سنبھال چکے ہیں، انھوں نے پارٹی قیادت سنبھال لی ہے تو انھیں انتخابی مہم کو مکمل وقت دینا چاہیے تھا۔ اگر ان کا بیرون ملک جانا بہت اہم تھا اور اس کو آگے نہیں کیا جا سکتا تھا تو پہلے چلے جاتے۔ ایسا بھی لگ رہا تھا کہ ن لیگ کے پاس کوئی متبادل حکمت عملی بھی نہیں تھی۔ ایک دن کے لیے، چند گھنٹوں کے لیے جانا اچھی انتخابی حکمت عملی نہیں تھی۔ پھر حمزہ شہباز بھی غائب تھے۔ کم از کم انھیں تو انتخابی مہم کے لیے بھیجا ہی جا سکتا تھا۔ وہ بھی مسلم لیگ کا ہی چہرہ ہیں۔ انھیں تو انتخابی مہم چلانے کا ماہر بھی سمجھا جاتا ہے۔ وہ بھی انتخابی منظرنامہ سے مکمل غائب تھے۔ اگر مریم نواز جا نہیں سکتی تھیں تو وہ گلگت بلتستان کے لیے کچھ ٹی وی انٹرویوز دے سکتی تھیں۔ کوئی ویڈیو پیغام جاری کر سکتی تھیں لیکن ایسا لگتا ہے کسی کی کوئی توجہ ہی نہیں تھی۔ ایسا لگ رہا ہے کہ اس وقت ساری ن لیگ اقتدار کے مزے لوٹ رہی ہے۔ بطور سیاسی جماعت ن لیگ کا کوئی سیاسی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ کوئی سیاسی حکمت عملی نہیں ہے۔ سب اقتدار کے مزے لے رہے ہیں۔ کسی کو گلگت انتخابات کی کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔ یہ کوئی اچھا شگون نہیں ہے۔ کیا گلگت بلتستان کی ہار نے ن لیگ کو سیاسی طور پر نقصان پہنچایا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کافی نقصان پہنچایا ہے۔ پیپلزپارٹی کو کافی عرصہ بعد ن لیگ پر سیاسی برتری حاصل ہوئی ہے۔ اس کے اشارے اسلام آباد میں بجٹ پر بھی مل رہے ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے کہ ن لیگ نے چپ کا روزہ رکھ لیا ہے۔ یہ چپ کا روزہ کافی نقصان دہ ہوگا اور نقصان کی علامات سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں۔ ن لیگ کی طرف سے خواجہ سعد فیق بھی گلگت میں مہم چلا رہے تھے، ان کی ایک پوسٹ میں خود اعتراف کیا گیا ہے کہ پیپلزپارٹی کے مالی وسائل کے مقابلے میں ن لیگ خالی ہاتھ تھی۔ کوئی پارٹی فنڈ نہیں تھا۔ اگر اقتدار میں بھی پارٹی فنڈ نہیں ہے، اتنے زیادہ ارکان پارلیمنٹ کے ہوتے ہوئے بھی پارٹی فنڈ نہیں ہے تویہ کس کا قصور ہے۔ اس کا مطلب ہے کسی نے گلگت انتخابات کے لیے پارٹی فنڈ بنانے کی طرف کوئی توجہ ہی نہیں دی کہ انتخابات ہیں، پارٹی فنڈ چاہیے ہوگا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل