Tuesday, June 09, 2026
 

عوام اور مہنگائی

 



یہ سچ ہے کہ بجلی بلوں میں فکسڈ چارجز ڈبل ہو گئے ہیں جو پہلے بل کے 3 یا چار فیصد پر لیے جاتے تھے، اب بل کے دس فیصد پر لیے گئے ہیں۔ یہ کہنا کہ بجلی بلوں کی فکس کاسٹ پورے سال کے لیے ایک ہی ہوتی ہے اور گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے نرخوں میں کمی آئی ہے۔ اگر حقائق پر غور کیا جائے تو صورتحال مختلف ہے ۔ فکسڈ چارجز ڈبل سے بھی زائد وصول کیے گئے ہیں، یوں گھریلو صارفین کے لیے فکسڈ چارجز لگائے جانے کے بعد سے بجلی مزید مہنگی ہوئی ہے۔ عجیب فارمولہ ہے کہ جتنی بجلی استعمال زیادہ ہوتی ہے وہ مزید مہنگی کر دی جاتی ہے جب کہ معاشی اصول یہ ہے کہ جو چیز بھی زیادہ مقدار میں خریدی جائے، وہ کچھ نہ کچھ ضرور سستی ملتی ہے۔ اس سرکاری پالیسی پر صارفین نے مختلف میم بنا کر سوشل میڈیا پر وائرل کی ہوئی ہیں۔ فکسڈ چارجزگیس پر بھی عائد ہیں لیکن صارفین نے کوئی احتجاج نہیں کیا تھا۔ عوام کی خاموشی نے حکومت کا حوصلہ بڑھایا اور فکسڈ چارجز گیس کے بعد بجلی بلوں پر عائدکر دیے گئے جس پر بجلی صارفین بھی مجبوری میں خاموش ہیں جس کے بعد فکسڈ چارجز ڈبل سے بھی زیادہ کر دیے گئے جن پر خاموش رہنے والے صارفین کی طرف سے کوئی احتجاج سامنے نہیں آیا جس کے بعد گیس مزید مہنگی کی جائے گی اور ممکن ہے کہ پٹرول وڈیزل پر بھی فی لیٹر فکسڈ چارجز عائد کر دیے جائیں کیونکہ ان پر لیوی تو آئی ایم ایف کے مطالبے سے بھی زیادہ وصول کی جا رہی ہے۔ اپریل میں پٹرول کے نرخوں میں ڈیڑھ سو روپے فی لیٹر اضافہ کیا گیا تھا اور بعد میں عالمی سطح پر نرخ کم ہونے پر صرف 80 روپے لیٹر کم کیے گئے، اس کو ریلیف قرار دیا جاسکتا ہے ۔ یوں عوام پر مہنگائی کا بوجھ مسلسل بڑھانے کی پالیسی پر عمل ہورہا ہے۔ بعض لوگوں تو یہاں تک کہتے ہیں کہ بجلی کی مہنگائی کی وجہ سے مسلم لیگ ن گلگت بلتستان میں الیکشن نہ جیت سکی۔گلگت کی انتخابی مہم میں بلاول بھٹو زرداری کے جلسوں میں مسلم لیگ (ن) کے جلسوں سے زیادہ لوگ آتے تھے۔ یوں دیکھا جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ لوگوں کی تعداد سے ظاہر تھا کہ وہاں کے عوام بھی وفاقی حکومت سے خوش نہیں ہیں۔  محکمہ توانائی بجلی مہنگی کرنے پر کسی کو جواب دہ نہیں ہے۔ حکومت جب چاہتی ہے بجلی کے نرخ بڑھا دیتی ہے اور جواز آئی ایم ایف کو بنایا جاتا ہے جب کہ ہر ماہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے نام پر بھی استعمال شدہ بجلی کے نرخ بڑھا دیے جاتے ہیں۔ فیول ایڈجسٹمنٹ چارجز میں اضافہ زیادہ اور کمی برائے نام ہی کی جاتی ہے تاکہ حکومت کی آمدنی میں کمی واقع نہ ہو۔ عوام کو یوٹیلٹی بلز میں اتنا پھنسا دیا گیا ہے کہ انھیں ہوش ہی نہیں ہے کہ حکومت کون سے ترقیاتی کام کررہی ہے ۔ عوام کی مجبوریاں ہر دور میں حکومتی کمائی کا ذریعہ رہی ہیں۔ پٹرولیم مصنوعات، بجلی وگیس اور ریلوے کرائے حکومت کے کنٹرول میں ہیں جن کے ذریعے مسلسل عوام پر مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل