Loading
کراچی میں گزشتہ ماہ ایک خوش آئند منظر دیکھنے میں آیا۔ ترقی پسند مصنّفین کی تحریک کے نوے برس مکمل ہونے کے موقع پر اس تحریک کے دو الگ الگ دھڑوں نے مشترکہ طور پر تقریب منعقد کی۔ سہیل یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں منعقد ہونے والی یہ تقریب محض ایک تنظیمی اجتماع نہیں تھی بلکہ ایک ایسی فکری روایت کو خراج تحسین پیش کرنے کا موقع تھی جس نے برصغیر کے ادب، ثقافت اور سماجی شعور کو نئی جہت عطا کی۔ اس تقریب کے منتظمین اور شرکاء مبارک باد کے مستحق ہیں۔ ایسے وقت میں جب دنیا بھر میں تعصب، جنگ، منافع پرستی اور انسان دشمن سیاست کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہیں، ترقی پسند روایت کی یاد تازہ کرنا اور اس کے بنیادی انسانی اصولوں کو ازسرنو دریافت کرنا یقینا ایک قابلِ ستائش عمل ہے۔
ترقی پسند مصنّفین کی تحریک کی تاریخ برصغیر کی جدید تاریخ کے ان روشن ابواب میں سے ہے جنھیں فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ اس تحریک کے باضابطہ آغاز کا سال 1936 مانا جاتا ہے جب لکھنؤ میں اس کی پہلی آل انڈیا کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس تحریک کے بیج اس سے چند سال پہلے ہی لندن میں بوئے جا چکے تھے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ہندوستان برطانوی استعمار کے شکنجے میں جکڑا ہوا تھا۔ ایک طرف آزادی کی تحریکیں زور پکڑ رہی تھیں اور دوسری طرف دنیا بھر میں فاشزم اور سامراج کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ انھی دنوں چند نوجوان ہندوستانی ادیب اور دانشور لندن میں زیرتعلیم تھے۔ ان میں سجاد ظہیر، ڈاکٹر ایم ڈی تاثیر، احمد علی، محمود الظفر اور رشید جہاں جیسے نام شامل تھے۔ ان نوجوانوں نے محسوس کیا کہ ادب کو محض حسن وعشق کی داستانوں تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اسے انسان کے دکھ درد، معاشی استحصال، طبقاتی ناانصافی اور آزادی کی جدوجہد کا ترجمان بھی بننا چاہیے۔
1935 میں ترقی پسند مصنّفین کے منشور کا مسودہ تیار کیا گیا۔ اس منشور نے ادب کو زندگی کے حقیقی مسائل سے جوڑنے کی بات کی۔ یہ ایک انقلابی تصور تھا جس نے آنے والے عشروں میں برصغیر کے ادبی منظرنامے کو بدل کر رکھ دیا۔
1936 میں لکھنؤ میں منعقد ہونیوالی پہلی کانفرنس کی صدارت منشی پریم چند نے کی۔ اپنے تاریخی صدارتی خطبے میں انھوں نے کہا تھا کہ’’ وہی ادب زندہ رہتا ہے جو زندگی کی سچائیوں کی عکاسی کرے۔‘‘ پریم چند کے یہ الفاظ آج بھی اسی طرح تازہ محسوس ہوتے ہیں جیسے نوے برس پہلے تھے۔اس تحریک سے وابستہ ہونیوالوں کی فہرست طویل ہے۔ فیض احمد فیض، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطان پوری، عصمت چغتائی ،کرشن چندر، راجندر سنگھ بیدی، مخدوم محی الدین، احمد ندیم قاسمی، جوش ملیح آبادی، سبط حسن، شوکت صدیقی اور بیشمار دوسرے ادیبوں اور شاعروں نے اس تحریک کو اپنی تخلیقی قوت عطا کی۔ ان کے قلم نے مزدوروں، کسانوں، عورتوں اور محروم طبقات کے مسائل کو ادب کا موضوع بنایا۔
پاکستان بننے کے بعد بھی یہ روایت ختم نہیں ہوئی، اگرچہ سرد جنگ کے زمانے میں ترقی پسند ادیبوں کو مشکلات، پابندیوں اور قید وبند کا سامنا کرنا پڑا لیکن انھوں نے اپنے نظریات سے دستبردار ہونے سے انکار کیا۔ فیض کے اشعار جیل کی دیواروں سے نکل کر عوام کے دلوں تک پہنچے۔ حبیب جالب نے آمریت کے خلاف آواز بلند کی اور مزاحمت کا پرچم تھامے رکھا۔ ترقی پسند تحریک کو صرف ایک ادبی تحریک سمجھنا اس کی اہمیت کو کم کر دینا ہوگا۔ یہ دراصل انسان دوستی انصاف، برابری اور آزادی کے ان خوابوں کا نام ہے جو نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں۔ اس تحریک نے ہمیں یہ سکھایا کہ ادب کا کام صرف تفریح فراہم کرنا نہیں بلکہ انسان کو اپنے عہد کے سوالوں سے آشنا کرنا بھی ہے۔
آج جب ہم نوے برس کی اس تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو بہت سے سوال ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ کیا غربت ختم ہو گئی؟ کیا جنگیں رک گئیں؟ کیا عورتوں کو مکمل انصاف مل گیا؟ کیا مزدور استحصال سے آزاد ہو گئے؟ کیا نسل، مذہب اور قومیت کی بنیاد پر نفرتوں کا خاتمہ ہو گیا؟
ان سوالوں کا جواب نفی میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک کے بنیادی اصول آج بھی اپنی معنویت رکھتے ہیں، شاید پہلے سے بھی زیادہ۔
کراچی کی تقریب میں شریک ہونے والے بزرگ ادیب اور نوجوان اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ چراغ ابھی بجھا نہیں ہے۔ اس کی لو اگرچہ کبھی مدھم پڑ جاتی ہے لیکن ہر نسل میں کچھ لوگ ایسے پیدا ہوتے ہیں جو اسے دوبارہ روشن کر دیتے ہیں۔
ادب کا سفر دراصل انسان کی آزادی کے سفر سے جڑا ہوا ہے۔ جب تک دنیا میں ظلم موجود ہے، جب تک بھوک ہے، جب تک کسی عورت کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے لڑنا پڑتا ہے، جب تک مزدور اپنے پسینے کا پورا معاوضہ حاصل نہیں کر پاتا، تب تک ترقی پسند ادب کی ضرورت باقی رہے گی۔
کراچی میں اس تقریب نے ہمیں یہی یاد دلایا ہے کہ نظریاتی اختلافات اپنی جگہ لیکن انسان دوستی کے مشترکہ خواب زیادہ اہم ہوتے ہیں۔ اگر ترقی پسند روایت کے مختلف دھڑے ایک چھت کے نیچے جمع ہو کر اپنی مشترکہ تاریخ کو خراجِ تحسین پیش کر سکتے ہیں تو یہ خود ایک امید افزا علامت ہے۔
اس کامیاب تقریب کے منتظمین، مقررین اور شرکاء کو دلی مبارک باد۔ نوے برس کا یہ سفر محض ماضی کی یاد نہیں بلکہ مستقبل کی ذمے داری بھی ہے۔ آنے والی نسلوں کو یہ بتانا ضروری ہے کہ ادب صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ انسان کی آزادی، وقار اور انصاف کی جدوجہد کا ایک اہم ہتھیار بھی ہے۔
یہی وہ پیغام ہے جو سجاد ظہیر، رشید جہاں، احمد علی، محمود الظفر، ڈاکٹر تاثیر، پریم چند اور فیض کی روایت آج بھی ہم تک پہنچا رہی ہے۔ نوے برس گزر گئے مگر انسان اور انسانیت سے محبت کا یہ خواب اب بھی زندہ ہے۔
مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے انسانی زندگی کو بدل ضرور دیا ہے لیکن بھوک، غربت، بے گھری، استحصال اور جنگ کے مسائل اب بھی زیادہ بھیانک انداز میں ہمارے سامنے موجود ہیں۔ غزہ سے لے کر دنیا کے مختلف حصوں میں بے گھر ہونے والے انسانوں تک ہر جگہ یہی سوال گونجتا ہے کہ کیا ترقی اور تہذیب کا مقصد صرف منافع ہے یا انسان کی فلاح۔ ترقی پسند روایت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ادب کا اصل منصب انسان کے دکھ میں شریک ہونا، سچائی کا ساتھ دینا اور ایک زیادہ منصفانہ دنیا کے خواب کو زندہ رکھنا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل