Tuesday, June 09, 2026
 

بااختیار مقامی حکومتوں کی ضرورت

 



کیا بنیاد کے بغیر کوئی عمارت کھڑی کی جاسکتی ہے؟ ہر گز نہیں۔ جس طرح بنیاد کے بغیر کوئی عمارت نہیں بن سکتی، اسی طرح اسکول کی بنیادی تعلیم کے بغیر کوئی ڈاکٹر اور انجینئر نہیں بن سکتا، ایسا ممکن ہی نہیں۔ ہمارے ہاں عرصۂ دراز سے چونکہ ملک کی زمامِ کار قوم کے حقیقی نمائندوں کے ہاتھ میں نہیں رہی اس لیے ہم جمہوریت کے مختلف روپ دیکھتے رہے ہیں، کبھی عمارت ہے تو اس کی بنیاد ہی نہیں ہے۔ ایسی عمارت انتہائی کمزور اور غیر مستحکم ہوتی ہے اور کبھی آمروں نے بنیاد تو بنادی مگر اوپر عمارت بنانا گوارا نہ کیا۔ یہی وجہ ہے کہ نظام نامکمل رہا اور اس نامکمل نظام کے ثمرات عام آدمی تک نہ پہنچ سکے۔ لوکل باڈیز یعنی مقامی حکومتیں جمہوری نظام کی بنیاد ہیں۔ ان کی اہمیّت سے انکار کیا ہی نہیں جاسکتا۔ ان کی افادیّت جمہوری ملکوں میں جا کر نظر آتی ہے۔ نیویارک میں کروڑوں ڈالر کے پراجیکٹ اگر کوئی سوچتا اور اسے مکمل کراتا ہے تو وہ امریکا کا صدر نہیں بلکہ نیویارک کا منتخب میئر ہے۔ لندن میں ہر ترقیاتی منصوبے کا افتتاح وزیراعظم نہیں لندن کا میئر کرتا ہے۔ استنبول اور تہران میں بھی بڑے بڑے میگا پراجیکٹس پر وہاں کے منتخب میئرز کی تختیاں نظر آتی ہیں۔ کسی فلائی اوور یا میٹرو کے منصوبے پر وزیراعظم یا وزیراعلیٰ کی تختی نظر نہیں آتی۔ مگر ہمارے ہاں وزرائے اعظم اور وزرائے اعلیٰ معمولی نوعیّت کے انتظامی اور مالی اختیارات بھی delegate کرنے یا کسی کے ساتھ شیئر کرنے کے لیے تیّار نہیں۔ اگر کہیں پرائمری اسکول بنانا ہے یا کسی دیہاتی علاقے کی سڑک بننی ہے تو خواہش یہی ہوتی ہے کہ فنڈز کی فراہمی سربراہِ صوبہ کے ہاتھوں انجام پائے اور ان پر میئر یا ضلع ناظم یا چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کی بجائے وزیراعلیٰ کی تختی لگے۔ یہ کم ظرفی اور غیرجمہوری سوچ ہے۔ آمروں نے جب بھی منتخب حکومتیں ختم کیں، تو چارج شیٹ میں یہ الزام لگانا نہ بھولے کہ سابق حکمرانوں نے مقامی حکومتیں قائم کرنے کی آئینی ذمے داری پوری نہ کی، لہٰذا وہ آئین شکنی کے مرتکب پائے گئے ہیں۔ جمہوریّت صرف پیسے یا اثر ورسوخ کے ذریعے ووٹ ڈلوانے کا نام نہیں، جمہوریت ایک سوچ اور روئیے کا نام ہے، سوچ ایسی جو دوسرے آئینی اداروں کا وجود، ان کی افادیت اور ان کے اختیارات کو تسلیم کرے اور رویّہ ایسا جو اپنے سیاسی مخالفین کو اہمیّت اور عزّت دے، جو فراخدلی، ایثار اور مفاہمت سے عبارت ہو اور جس پر مخالف پارٹیاں بھی اعتراض نہ کرسکیں۔ اگر کوئی حکمران اپوزیشن کا وجود ہی تسلیم نہ کرے، اسے اپنا آئینی کردار ادا کرنے کا حق دینے سے انکار کردے، ان کے جلسہ کرنے پر بھی پابندی لگا دے اور انھیں جیلوں میں بند کر دے تو ایسا رویّہ سراسر غیرجمہوری کہلائے گا، یہ رویّہ نہ جمہوریّت کے لیے مفید ہے اور نہ ہی ملک کے لیے، ایسا رویّہ اختیار کرنے والے حکمران دراصل ایک ایسا گڑھا کھودتے ہیں جس میں وہ بالآخر خود بھی جاگرتے ہیں۔ تنگ نظر اور کوتاہ بین سیاستدان کئی بار گڑھے میں گرنے کے باوجود سبق نہیں سیکھتے اور اس غیرجمہوری رویے سے باز نہیں آتے۔ ایسا حکمران یقیناً احساسِ کمتری کا شکار ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ کچھ مالی اختیارات مقامی حکومتوں کو منتقل کرنے سے اس کے قد کاٹھ میں یا اس کی اہمیّت میں کمی واقع ہوجائے گی۔ پنجاب میں لوکل باڈیز کا جو مجوزہ نقشہ سامنے آیا ہے وہ نہ صرف انتہائی ناقص ہے بلکہ منتخب نمائندوں کے لیے توہین آمیز ہے۔ اس میں منتخب نمائندوںکو تحصیل اور ضلع کے افسروں کے ماتحت ملازمین کا درجہ دیا گیا ہے جو ہمیشہ افسروں کے رحم وکرم پر رہیں گے۔  ہمارے ملک کے تین بنیادی یونٹ ہیں مرکز، صوبہ اور ضلع۔ مرکزی سطح پر قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتیجے میں منتخب ہونے والا قائدِایوان ملک کا وزیراعظم کہلاتا ہے اور اسے بے پناہ انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہو جاتے ہیں، وہ انتظامیہ کا ماتحت نہیں بلکہ سربراہ اور Boss ہوتا ہے، وہی انتظامی افسران کی تقرری اور تبادلے کا اختیار رکھتا ہے۔ اسی طرح صوبے کی سطح پر، صوبائی اسمبلی کے انتخابات جیت کر جو قائدِایوان بنتا ہے وہ وزیراعلیٰ کہلاتا ہے اور اپنے صوبے میں وہ ہر قسم کے انتظامی اور مالی اختیارات کا حامل ہوتا ہے۔ یہی اصول ضلعی سطح پر لاگو کرنے میں کیا امر مانع ہے؟ اگر مرکز، صوبائی حکومتوں کے معاملات میں معمولی سی مداخلت کرے تو صوبے اسے صوبائی خودمختای اور صوبے کے حقوق پر حملہ قرار دیتے ہیں اور اس پر شور مچاتے ہیں۔ اسی طرح ضلعی اور تحصیل کی سطح پر مقامی حکومتوں کی اہمیّت اور افادیّت تسلیم کی جانی چاہیے۔ انھیں انتظامی اور مالی طور پر خودمختاری دی جائے مگر احتساب کا بڑا کڑا نظام وضع کیا جائے اور کسی کرپشن یا بے ضابطگی میں ملوث افراد کو سخت ترین سزا دی جائے۔ ہم نے جمہوری نظامِ حکومت اور صوبائی اور وفاقی حکومت کا تصوّر جن مغربی ممالک سے لیا ہے وہاں مقامی حکومتوں کا نظام بہت مستحکم ہے۔ جمہوری نظام کی اس سب سے اہم کڑی بلکہ بنیاد کے بغیر کوئی نظام مکمل نہیں ہوسکتا۔ اس کڑی کا انکار خود جمہوریت سے انکار کے مترادف ہے۔ وزرائے اعلیٰ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ مقامی سطح کے منتخب نمائندے کسی طرح بھی ان کے اختیارات نہیں چھین سکتے بلکہ وہ تو صوبائی حکومتوں کے دست و بازو بن کر انتہائی کارآمد ثابت ہوسکتے ہیں۔ ہمارے کئی صوبوں اور علاقوں میں امن وامان اور سکیوریٹی کے حالات بڑے دگرگوں ہیں، مجھے یقین ہے کہ اگر وہاں مقامی حکومتوں کا نظام قائم ہوتا اور مستحکم بھی ہوتا اور وہاں کی مقامی حکومتوں کو صوبائی حکومتوں کی مکمل آشیرباد حاصل ہوتی تو وہ امن وامان کے حالات بہتر کرنے میں بہت موثّر کردار ادا کرسکتے تھے، میں نے اپنی سروس کے دوران خود ان کی افادیت کا بارہا مشاہدہ کیا ہے۔ ہمیں کئی بار ان کی خدمات حاصل کرنا پڑیں اور انھوں نے امن وامان بحال کرانے میں قابلِ قدر کردار ادا کیا۔ اس میں کوئی دو آراء نہیں ہیں کہ عوام کے نوّے فیصد مسائل تحصیل اور ڈسٹرکٹ لیول پر ہی حل ہوسکتے ہیں، اگر مقامی حکومتوں کو empower کیا جائے تو بہت اچھے، پڑھے لکھے افراد بھی ان کا حصّہ بننا پسند کریں گے۔ جب ڈسٹرکٹ کونسلیں توانا تھیں، اُس وقت سید فخر امام اور شاہ محمود قریشی جیسے لوگ اس کے چیئرمین بنتے تھے، اور ان کی وجہ سے لوگوں کے مسائل مقامی سطح پر ہی حل ہوجاتے تھے۔ میری تعیناتی کے دوران ایبٹ آباد میں بابا حیدر زمان صاحب (اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائیں) ڈسٹرکٹ ناظم تھے، وہ ایک باکردار، ایماندار اور اعلیٰ پائے کے منتظم تھے، کوئی افسر ان کا مقابلہ نہیں کرسکتا تھا۔ کراچی میں انفراسٹرکچر کی ڈوپلیمنٹ کی جب بھی بات ہوتی ہے تو کراچی کے میئرز عبدالستار افغانی اور نعمت اللہ خان کا ذکر ضرور ہوتا ہے، ملک کے کسی بھی شہر میں کوئی افسر یا ایڈمنسٹریٹر اُن جیسے اخلاص، جذبے، جنون اور ایمانداری سے کام نہیں کرسکا اور نہ ہی کرسکتا ہے، لہٰذا بہتر ہے کہ وزیراعظم اور وزرائے اعلیٰ دل بڑا کریں اور خود ہی مقامی حکومتوں کو پورے مالی اختیارات کے ساتھ بحال کردیں ورنہ عوام سپریم کورٹ یا فیلڈ مارشل صاحب کی طرف رجوع کریں گے۔ موجودہ وزرائے اعلیٰ سے توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ خوشدلی سے اپنے صوبوں میں مقامی حکومتوں کا مضبوط اور مستحکم نظام قائم کریں، اگر سپریم کورٹ یا اسٹیبلشمنٹ کے حکم پر انھیں کرنا بھی پڑا تو ان کی کوششیں ہوں گی کہ لوکل باڈیز کا کوئی لولالنگڑا سا نظام قائم کردیں جو افسرشاہی کے سائے تلے کام کرے، جن کے اختیارات بلکہ وجود بھی افسر شاہی کا محتاج ہو۔ اس لیے وہ مقامی حکومتوں کو انتہائی کمزو رکھنا چاہتے ہیں، اسی لیے پنجاب کے مجوّزہ نظام میں وہ عہدے ہی غائب کردیے گئے ہیں جو ترقیاتی فنڈز کا مطالبہ کرتے تھے اور اس سلسلے میں ارکانِ اسمبلی کو چیلنج کرسکتے تھے۔ ضرورت اس بات کی ہے ایک اپاہج سا نظام رائج کرنے کی بجائے مضبوط قسم کی ڈسٹرکٹ کونسلیں قائم کی جائیں جن میں اور دسٹرکٹ کونسل کا چیئرمین انتہائی بااختیار ہو۔ اسی طرح بڑے شہروں کے میئرز بھی لندن اور نیویارک کی طرح براہِ راست منتخب ہوں، ان کے انتخاب میں پارٹیوں کو حصہ لینے کی اجازت نہ ہو اور میئرز کو ہر قسم کے انتظامی اور مالی اختیارات حاصل ہوں اور انھیں آئینی اور قانونی تحفّظ بھی حاصل ہو۔ بااختیار مقامی حکومتیں قائم کیے بغیر جمہوریت کے ثمرات عام آدمی تک ہرگز نہیں پہنچ سکتے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل