Saturday, June 06, 2026
 

آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر پر حملے کے وقت میں بھی وہاں موجود تھا اور ملبے سے باہر نکلا، عباس عراقچی

 



ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے دعویٰ کیا ہے کہ میں حملے کے وقت آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر میں موجود تھا اور ملبے سے باہر نکلا۔ ایرانی وزیر خارجہ نے امریکا اور ایران کے تعلقات پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی سپریم لیڈر اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان ملاقات فی الحال حقیقت پسندانہ نہیں لگتی کیونکہ امریکی صدر ٹرمپ حقیقی دنیا میں نہیں رہ رہے۔ عباس عراقچی نے خطے میں ایران اور سعودی عرب کے تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب خطے کا بڑا ملک اور اہم کھلاڑی ہے، ایران اور سعودی عرب مل کرخطے میں امن، استحکام اور ترقی لا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایران ہمیشہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو اہمیت دیتا آیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان تعاون پورے خطے کے مفاد میں ہے۔ دوسری جانب روسی میڈیا کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے 50 لڑاکا طیاروں نے آیت اللہ خامنہ ای کے دفتر کو نشانہ بنایا تھا، تاہم اس حوالے سے آزاد ذرائع سے تصدیق سامنے نہیں آئی۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل