Loading
ان دنوں زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت کو قدرے حوصلہ افزا قرار دیا جا رہا ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر جتنے بھی زیادہ ہوں اس وقت اس کے منفی اثرات زیادہ معلوم دے رہے ہوتے ہیں جب درآمدات کی مالیت بہت زیادہ بڑھ جاتی ہے ایسی صورت میں معمول کے مطابق زرمبادلہ کی سطح بھی معیشت کے استحکام کو ناکام کرنے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ پاکستان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر کبھی دو ماہ اور کبھی 4 ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہوتے ہیں مگر اس کی سطح میں کمی آ جاتی ہے تو اس کے ساتھ ہی معیشت پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ ملکی کرنسی اپنے حواس کھو کر نیچے گرنے لگتی ہے اور ڈالر کو پَر لگ جاتے ہیں اور غربت کی کھائی وسیع ہوتی چلی جاتی ہے جس میں غربا ہی بڑی تعداد میں گرتے چلے جاتے ہیں۔ غربت میں کمی لانے کے لیے بہت سے ممالک اپنے غریب عوام کے لیے لاتعداد فلاحی، معاشی منصوبے شروع کر دیتے ہیں البتہ جنرل پرویز مشرف کے دور میں بلدیاتی سطح پر بہت سے ترقیاتی، فلاحی پروجیکٹ پر کام شروع کیا گیا تھا۔ مقصد یہ تھا کہ غریب عوام کو چند ماہ یا ایک دو سال کے لیے روزگار فراہم کیا جائے تاکہ ان کی غربت میں کمی لائی جاسکے۔ انھی دنوں ہندوستان میں بھی کئی تعلیمی، فلاحی منصوبے شروع کیے گئے۔ امریکا کے ساتھ کئی جدید ٹیکنالوجی اور آئی ٹی کے معاہدے ہوئے اور ان کے لاکھوں نوجوانوں نے جدید دورکی انفارمیشن ٹیکنالوجی کی تربیت حاصل کی اور بیرون ملک لاکھوں کی تعداد میں پھیل گئے اور ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافے کا سبب بنتے رہے۔ پاکستان میں گزشتہ ہفتے تک مرکزی بینک کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب ڈیڑھ کروڑ ڈالر تک پہنچ گئے تھے جسے حکومت نے نہایت ہی اطمینان بخش قرار دیتے ہوئے معیشت کو استحکام بخشنے کا ذریعہ بتایا۔ زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے۔ گزشتہ برس 11 اکتوبر کی بات ہے جب یہ معلوم ہوا کہ زرمبادلہ کے ذخائر 16 ارب 11 کروڑ13 لاکھ ڈالر سے زائد ہیں جب ہی حکومت نے کہہ دیا تھا کہ پاکستان کی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ اب تقریباً 6 ماہ بعد یقینی طور پر قرض بھی ادا ہوتے رہے اورکئی ملین ڈالرزکا وقتاً فوقتاً اضافہ بھی ہوتا رہا ہے۔ مثلاً 17 جنوری 2025، 276 ملین ڈالر قرض ادا کیا گیا اور ماہ جنوری کے آخر میں 46 ملین ڈالرز کا اضافہ بھی ہوا۔ یہ گزشتہ برس اکتوبر کی 11 تاریخ کی بات ہے جب پاکستانی حکام بھی آئی ایم ایف کے بیانیے کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستانی معیشت کے بارے میں کہہ رہے تھے کہ درست سمت میں جا رہی ہے کیونکہ اس سے قبل 26 ستمبر کو آئی ایم ایف نے کہا تھا کہ معیشت درست سمت میں جا رہی ہے اور یہ بھی کہا گیا کہ حکومت امیروں سے ٹیکس لے کر غریبوں کی مدد کر رہی ہے، اس کے ساتھ ہی 7 ارب ڈالرز کے بیل آؤٹ پیکیج ریلیف کی بھی منظوری دی گئی۔ امیروں سے ٹیکس لینے کی بات آئی ایم ایف نے کہی تو شاید درست ہی کہی ہوگی۔ عرض یہ کر رہا تھا کہ زرمبادلہ کے ذخائر کو کتنا ہی تسلی بخش قرار دیا جائے اور معیشت کو درست سمت کی جانب گامزن کہا جائے لیکن درآمدات میں اضافہ ساری سمت کو غلط رخ پر ڈال سکتا ہے، کیونکہ ڈالر ریٹ میں اگرچہ بہت کم اضافہ ہو رہا ہے لیکن پھر بھی یہ معمولی اضافہ خطرے کی گھنٹی بجا رہا ہے اس کے ساتھ آئی ایم ایف کی طرف سے بہت سی شرائط کو من و عن پورا کرنے کا تقاضا اور درآمدات بھی بڑھ رہی ہیں۔ مثلاً جولائی تا فروری 2025 کی کل درآمدی مالیت 37 ارب 87 کروڑ46 لاکھ ڈالرز گزشتہ مالی سال کے اسی مدت میں 35 ارب 19 کروڑ89 لاکھ روپے کی درآمدات کے ساتھ 7.60 فی صد کا اضافہ ہوا ہے۔ اب آئی ایم ایف نے کاروں کی درآمد پر ٹیکس اور دیگر کسٹم ڈیوٹیز اور ٹیرف میں کمی لانے کا کہہ دیا ہے لہٰذا امپورٹ بل اب بڑھتا چلا جائے گا لہٰذا حکومت بہت سی احتیاطی تدابیر اختیار کرے تاکہ معیشت کے درست سمت میں جانے کے عمل کو قدغن نہ لگ جائے۔ اس کے ساتھ ڈالر کو بھی پَر لگ جاتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل