Monday, January 26, 2026
 

چائے زیادہ پینے سے صحت پر کیا اثرات پڑتے ہیں؟

 



چائے ہمارے روزمرہ معمولات کا حصہ بن چکی ہے۔ صبح کی شروعات ہو یا دوستوں کے ساتھ گپ شپ، ایک کپ چائے اکثر لازمی سمجھی جاتی ہے۔ مگر ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ حد سے زیادہ چائے پینا فائدے کے بجائے نقصان کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ آیئے جانتے ہیں کہ ضرورت سے زیادہ چائے نوشی جسم پر کیسے اثر ڈالتی ہے اور کن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ چائے میں موجود کیفین کیا اثر ڈالتی ہے؟ چائے میں کیفین پائی جاتی ہے جو وقتی طور پر تازگی اور چستی تو دیتی ہے، مگر زیادہ مقدار میں یہ بے چینی، دل کی دھڑکن تیز ہونے اور گھبراہٹ کا باعث بن سکتی ہے۔ کچھ افراد میں سر درد یا چکر آنے کی شکایت بھی سامنے آ سکتی ہے، خاص طور پر جب دن بھر میں کئی کپ چائے پی لی جائے۔ نیند متاثر ہونے کا خطرہ زیادہ چائے پینے سے نیند کا نظام بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ شام یا رات کے وقت چائے پینے کی عادت رکھنے والے افراد کو سونے میں دقت، بار بار آنکھ کھلنے یا بے خوابی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کیفین جسم میں کئی گھنٹے تک اثر دکھاتی ہے، اس لیے رات گئے چائے سے پرہیز بہتر ہوتا ہے۔ معدے اور تیزابیت کے مسائل کچھ لوگوں میں زیادہ چائے پینے سے معدے میں جلن، تیزابیت اور بدہضمی کی شکایت ہو جاتی ہے۔ خاص طور پر خالی پیٹ چائے پینا معدے کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ یہ معدے میں تیزاب کی مقدار بڑھا دیتی ہے۔ آئرن جذب ہونے میں رکاوٹ چائے میں موجود ٹیننز نامی اجزاء جسم میں آئرن کے جذب کو کم کر سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کھانے کے فوراً بعد چائے پینے سے خون کی کمی کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، خاص طور پر خواتین اور کمزور افراد میں یہ مسئلہ زیادہ دیکھا جاتا ہے۔ ہڈیوں پر ممکنہ اثرات زیادہ مقدار میں کیفین لینے سے بعض تحقیق کے مطابق جسم سے کیلشیم کے اخراج میں اضافہ ہو سکتا ہے، جو طویل مدت میں ہڈیوں کی کمزوری کا باعث بن سکتا ہے۔ اگرچہ اعتدال میں چائے پینا عام طور پر محفوظ سمجھا جاتا ہے، مگر حد سے زیادہ استعمال نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ دانتوں پر داغ اور منہ کی صحت چائے میں موجود قدرتی رنگ دانتوں پر داغ ڈال سکتے ہیں، جس سے دانت پیلے دکھائی دینے لگتے ہیں۔ اس کے علاوہ بہت گرم چائے پینے کی عادت مسوڑھوں کو حساس بھی بنا سکتی ہے۔ روزانہ کتنی چائے مناسب ہے؟ ماہرینِ غذائیت کے مطابق زیادہ تر صحت مند بالغ افراد کے لیے دن میں دو سے تین کپ چائے مناسب سمجھی جاتی ہے۔ اس سے زیادہ مقدار لینے کی صورت میں جسمانی ردِعمل پر نظر رکھنا ضروری ہے، اور اگر بار بار بے چینی، بدہضمی یا نیند کی خرابی محسوس ہو تو چائے کی مقدار کم کر دینی چاہیے۔ چائے پینے کا بہتر طریقہ کیا ہے؟ چائے کو متوازن انداز میں پینا ہی صحت کے لیے بہتر ہے۔ کوشش کریں کہ خالی پیٹ چائے نہ پیئیں، رات کے وقت کیفین والی چائے سے پرہیز کریں اور دودھ و چینی کی مقدار بھی محدود رکھیں۔ سبز چائے یا ہربل ٹی کو کبھی کبھار متبادل کے طور پر شامل کیا جا سکتا ہے۔ چائے اگر اعتدال میں پی جائے تو لطف اور تازگی کا ذریعہ بن سکتی ہے، مگر حد سے زیادہ استعمال نیند کی خرابی، معدے کے مسائل، آئرن کی کمی اور بے چینی جیسے مسائل کو جنم دے سکتا ہے۔ بہتر صحت کے لیے چائے نوشی میں توازن رکھنا ہی دانش مندی ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل