Loading
اگر آپ باقاعدگی سے رات گئے سونے کے عادی ہیں تو ممکن ہے وزن کم کرنے کی آپ کی تمام کوششیں متاثر ہو رہی ہوں۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ سخت ڈائیٹ اور باقاعدہ ورزش کے باوجود وزن کم نہیں ہوتا بلکہ بڑھنے لگتا ہے، اور اس کی ایک بڑی وجہ نیند کا بے ترتیب معمول ہوسکتا ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق جب وزن گھٹانے کی بات کی جاتی ہے تو زیادہ تر افراد خوراک اور ورزش کو ہی اصل عنصر سمجھتے ہیں، مگر نیند کا وقت اور اس کا دورانیہ بھی اتنا ہی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سے لوگ اس پہلو کو نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہی خاموش غلطی ان کی تمام محنت پر پانی پھیر سکتی ہے۔
ڈاکٹرز کے مطابق آدھی رات کے قریب یا اس کے بعد سونے کی عادت جسم کے میٹابولزم، ہارمونز کے توازن، نظامِ ہضم اور مجموعی وزن میں کمی کے عمل کو نمایاں طور پر متاثر کرتی ہے۔ یہ مسئلہ ان افراد کو بھی درپیش آ سکتا ہے جو باقاعدگی سے صحت بخش غذا لیتے اور ورزش کرتے ہیں۔
انسانی جسم کا ایک قدرتی حیاتیاتی نظام ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ ہم آہنگ رہ کر کام کرتا ہے۔ رات ساڑھے دس بجے کے بعد جسم بتدریج ہاضمے کی سست رفتار کیفیت میں داخل ہونے لگتا ہے۔ اگر اس مرحلے پر انسان جاگتا رہے تو جسم تناؤ کی کیفیت میں چلا جاتا ہے۔
اس تناؤ کے نتیجے میں کورٹیسول نامی ہارمون کی مقدار بڑھ جاتی ہے، جسے عموماً ’اسٹریس ہارمون‘ کہا جاتا ہے۔ ہنگامی حالات میں یہی ہارمون جسم کو فوری توانائی فراہم کرنے میں مدد دیتا ہے، تاہم اس عمل کے دوران معمول کا میٹابولزم متاثر ہوتا ہے۔ ڈاکٹرز کے مطابق جب رات کے وقت کورٹیسول کی سطح بلند رہتی ہے تو جسم میں چربی جمع ہونے کا رجحان بڑھ جاتا ہے اور چربی جلنے کا عمل سست پڑ جاتا ہے، چاہے خوراک کتنی ہی متوازن کیوں نہ ہو۔
اسی لیے جو افراد تمام احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوجود وزن کم نہیں کر پا رہے، انہیں اپنی نیند کے معمول پر بھی توجہ دینی چاہیے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بروقت اور مناسب نیند نہ صرف مجموعی صحت بلکہ وزن میں کمی کے لیے بھی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل