Loading
دفتر خارجہ نے گزشتہ روز افغان سفارت خانے کے ناظم الامور کو طلب کر کے 16 فروری 2026 کو باجوڑ میں پیش آنے والے دہشت گرد حملے کے حوالے سے افغان عبوری حکومت کو سخت احتجاجی مراسلہ (ڈی مارش) پہنچایا۔
واضح رہے کہ دہشت گردی کے اس واقعے میں 11 پاکستانی فوجی جوان شہید ہوئے تھے۔
پاکستان نے باجوڑ میں مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی چوکی پر گاڑی میں نصب خودکش بم حملے، جس کے بعد مسلح فائرنگ کی کارروائی بھی کی گئی، کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ یہ حملہ فتنۃ الخوارج / تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کی جانب سے کیا گیا تھا۔
وزارتِ خارجہ نے اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا کہ فتنۃ الخوارج/ٹی ٹی پی، جس کی قیادت افغانستان میں موجود ہے، افغان سرزمین سے بلاروک ٹوک سرگرمِ عمل ہے۔ علاوہ ازیں اس بات کا اعادہ بھی کیا گیا کہ پاکستان کو افغان عبوری حکومت کی جانب سے متعدد مواقع پر یقین دہانیاں موصول ہوئیں، تاہم ان کے باوجود کوئی نمایاں، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدام سامنے نہیں آیا۔
افغان عبوری حکومت کو واضح طور پر آگاہ کیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین سے سرگرم تمام دہشت گرد گروہوں، بشمول ان کی قیادت کے خلاف فوری، مؤثر، ٹھوس اور قابلِ تصدیق اقدامات یقینی بنائے۔
مزید برآں افغان عبوری حکومت کو دو ٹوک انداز میں مطلع کیا گیا کہ پاکستان اپنے فوجیوں، شہریوں اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فتنۃ الخوارج (ایف اے کے) سے وابستہ عناصر اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف، جہاں کہیں بھی وہ موجود ہوں، کارروائی کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل