Loading
بلیوں میں پائے جانے والے کچھ حیاتیاتی نظام اور بیماریوں کے خلاف قدرتی مزاحمت انسانوں میں کینسر کے علاج کی نئی راہیں کھول سکتی ہے۔
بلیوں میں ایک وائرس پایا جاتا ہے جسے FIV) Feline Immunodeficiency Virus) کہتے ہیں، جو انسانی ایچ آئی وی سے ملتا جلتا ہے۔ چونکہ دونوں وائرس مدافعتی نظام پر حملہ کرتے ہیں، اس لیے سائنس دان بلیوں پر ہونے والی تحقیق سے قوتِ مدافعت کے ردِعمل کو بہتر طور پر سمجھ رہے ہیں۔
اسی طرح سائنسدان امیونوتھراپی کے نئے طریقے دریافت بھی کر سکتے ہیں۔ یہ تحقیق کینسر کے علاج میں مدافعتی خلیوں کو مضبوط یا ہدفی بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
دوسری جانب بلیوں میں کئی ایسے کینسر قدرتی طور پر پیدا ہوتے ہیں جو انسانوں میں پائے جانے والے کینسر سے بہت ملتے جلتے ہیں جیسے لیمفوما اور چھاتی کا کینسر۔ کیونکہ یہ کینسر قدرتی ماحول میں بنتے ہیں اس لیے ادویات کے حقیقی اثرات جانچنے میں مدد ملتی ہے اور نئی تھراپیوں کی آزمائش زیادہ حقیقت پسندانہ ہوتی ہے۔
انسان اور بلی کے جینوم میں کئی حیاتیاتی راستے بھی مشترک ہیں، خاص طور پر سیل گروتھ کنٹرول، ڈی این اے مرمت کے نظام اور ٹیومر کے پھیلاؤ کا عمل۔
یہی وجہ ہے کہ سرطان شناسی ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جس میں جانوروں اور انسانوں میں کینسر کا مشترکہ مطالعہ کیا جاتا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل