Monday, February 23, 2026
 

افغانستان نے دراندازی کے ثبوتوں کے باوجود مثبت ردعمل نہ دیا جس پر فضائی کارروائی کی، طارق فضل چوہدری

 



وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہا ہے کہ افغانستان کو بارہا سرحد پار دراندازی کے ثبوت دیے مگر افغان حکومت نے کوئی مثبت ردعمل نہیں دیا، ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے۔ چیئرمین سینیٹ سید یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں وفاقی وزیر طارق فضل چوہدری نے افغانستان میں کی گئی پاکستان کی فضائی کارروائی پر حکومت کا باضابطہ موقف پیش کیا۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ افغانستان میں ہوئی حالیہ کارروائیاں انٹیلی جنس بیسڈ تھیں، ان کارروائیوں میں دہشت گردوں کے کیمپوں کو نشانہ بنایا گیا، پاکستان نے افغانستان کے تین صوبوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا یہ کارروائی ایک دم سے نہیں ہوئی اس کا ایک پس مںظر ہے۔ انہوں ںے کہا کہ پاکستان نے افغانستان کو بار بار سرحد پار دراندازی سے آگاہ کیا، افغانستان نے پاکستان سے ان طالبان کو دوسری سرحد پر منتقل کرنے کے لیے 10 ارب روپے مانگے، ہمارے وزیر دفاع نے کہا کہ ہم دس ارب روپے دینے کے لیے تیار ہیں لیکن ضمانت دیں کہ پاکستان میں مداخلت نہیں ہوگی تاہم انہوں نے ضمانت دینے سے انکار کردیا۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ترلائی، بنوں اور باجوڑ میں ہوئے حملوں کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، معذرت کے ساتھ ہم لاشیں اٹھانے کے لیے نہیں ہیں، ہمیں ردعمل دینا آتا ہے، افغانستان سے پاکستان کے اندر دہشت گردی ہو رہی ہے اس کے بڑے مصدقہ ثبوت ہمارے پاس ہیں یہ ثبوت افغانستان کے سامنے بھی رکھے گئے، افغان طالبان رجیم سے متعدد دفعہ درخواست کی گئی کہ افغانستان سے دراندازی روکی جائے مگر افغان رجیم نے کوئی مثبت ردعمل ظاہر نہیں کیا۔ طارق فضل چوہدری نے کہا کہ دہشت گردی صرف قبائلی علاقوں تک محدود نہیں بلکہ اس کا دائرہ کار پورے پاکستان میں پھیلا ہوا ہے، پاکستان میں پاک افغان بارڈر سے دہشت گرد پاکستان میں آتے ہیں، ان کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں، وہاں دہشت گردوں کی تربیت گاہیں ہیں، ان کی نشاہدی بھی ہم کرچکے ہیں اور افغان رجیم کو آگاہ کر چکے ہیں مگر افغان رجیم نے پھر بھی ان دہشت گردوں اور ٹی ٹی پی کے فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں کے خلاف کچھ۔ نہیں کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل