Loading
امریکا اورایران کے درمیان جاری تنازع کے حل کے لیے پاکستان کی میزبانی میں امن کوششوں کا آغاز ہوچکا ہے، چار ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک خوش آیند قدم ہے، کیونکہ جنگ کا خاتمہ خطے کی سلامتی اور معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، اس وقت ساری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں کہ اس کی امن کوششیں کیا رنگ لاتی ہیں، جب کہ ایرانی صدر اور پاکستانی وزیراعظم کے درمیان ایک گھنٹے کی طویل گفتگو بھی پرامن حل کی امید پیدا کرتی ہے۔
دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میامی میں سعودی ویلتھ فنڈ کے زیر ِ اہتمام انویسٹمنٹ فورم سے خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران کو بڑی حد تک ختم کردیا گیا ہے، انھوں نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ اب اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لاکر ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو، انھوں نے کہا کہ ایران کی طاقت کمزور ہو چکی ہے اور خطے کا مستقبل کبھی اتنا روشن نہیں رہا، جب کہ ایران جنگ کے خلاف امریکا میں بڑے پیمانے پر نو کنگز مظاہرے ہوئے، مختلف شہروں میں ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف ریلیاں نکالی گئیں۔
نو کنگز مظاہرے سے خطاب میں امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر ٹرمپ پوری دنیا کو بحران سے دوچار کر رہے ہیں، جب کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی خطرناک حد تک بڑھ گئی ہے جہاں یمن کے ایران نواز حوثی باغیوں نے پہلی بار اسرائیل پر میزائل حملے کر کے جنگ کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے۔دوسری جانب امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ امریکا نے بھی خطے میں اپنی فوجی موجودگی بڑھاتے ہوئے ہزاروں اہلکار تعینات کرنا شروع کر دیے ہیں۔امریکا ایران میں زمینی کارروائیوں کی تیاری کر رہا ہے۔ کارروائیاں کئی ہفتوں پر محیط ہوگی۔
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر ایک ایسے بھنور میں پھنستا دکھائی دے رہا ہے جہاں تاریخ، طاقت، نظریات اور مفادات ایک دوسرے سے ٹکرا رہے ہیں اور اس ٹکراؤ کی بازگشت نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا میں سنائی دے رہی ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی محض ایک وقتی تنازع نہیں بلکہ اس کی جڑیں کئی دہائیوں پر محیط تاریخی، سیاسی اور اسٹرٹیجک عوامل میں پیوست ہیں۔
ایسے میں پاکستان کی میزبانی میں چار اہم مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت ہے، جس نے عالمی سطح پر امید کو جنم دیا ہے۔ دنیا کی نظریں اس وقت اسلام آباد پر مرکوز ہیں کہ یہ کوششیں ایک ممکنہ جنگ کو روکنے میں کیا رنگ لاتی ہیں۔
اگر اس تنازع کے تاریخی پس منظر پر نظر ڈالی جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ یہ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی وقت کے ساتھ ساتھ مختلف شکلیں اختیار کرتی رہی ہے۔ کبھی یہ اقتصادی پابندیوں کی صورت میں سامنے آئی، کبھی خفیہ آپریشنز کی شکل میں،اور کبھی براہِ راست عسکری دھمکیوں کے ذریعے۔ حالیہ بحران اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے، مگر اس بار صورتحال زیادہ خطرناک اس لیے ہے کہ اس میں اسرائیل، خلیجی ممالک اور دیگر علاقائی طاقتیں بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو چکی ہیں۔
امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات، جن میں انھوں نے ایران کو کمزور قرار دیتے ہوئے مشرقِ وسطیٰ کے روشن مستقبل کی نوید سنائی، درحقیقت زمینی حقائق سے متصادم دکھائی دیتے ہیں، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ خطہ اس وقت غیر یقینی حالات، خوف اور کشیدگی کی کیفیت میں مبتلا ہے۔
ٹرمپ کی پالیسیوں کو سمجھنے کے لیے ان کے سیاسی انداز اور عالمی نقطہ نظر کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کی خارجہ پالیسی میں روایتی سفارت کاری کے بجائے دباؤ، دھمکی اور یکطرفہ اقدامات کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے علیحدگی اختیار کی، جسے عالمی سطح پر ایک اہم سفارتی کامیابی سمجھا جاتا تھا۔ اس فیصلے نے نہ صرف ایران کو مشتعل کیا بلکہ یورپی اتحادیوں کو بھی امریکا سے دور کر دیا۔ مزید برآں اسرائیل کے ساتھ غیر مشروط حمایت نے خطے میں طاقت کے توازن کو مزید بگاڑ دیا ہے۔اسی تناظر میں ابراہیمی معاہدوں کا معاملہ بھی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔
یہ معاہدے بظاہر عرب ممالک اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کو معمول پر لانے کی ایک کوشش ہیں، مگر درحقیقت یہ ایک بڑی جیوپولیٹیکل حکمت عملی کا حصہ ہیں جس کا مقصد ایران کو خطے میں تنہا کرنا ہے۔ سعودی عرب پر ان معاہدوں میں شامل ہونے کا دباؤ ڈالنا اسی حکمت عملی کی ایک کڑی ہے۔ تاہم سعودی قیادت اب تک محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہے، کیونکہ وہ اس بات سے بخوبی آگاہ ہے کہ اس فیصلے کے اثرات نہ صرف اس کی داخلی سیاست بلکہ پورے مسلم دنیا پر مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب ایران بھی کسی کمزور پوزیشن میں نظر نہیں آتا۔ اگرچہ اسے اقتصادی پابندیوں اور سفارتی دباؤ کا سامنا ہے، مگر اس نے خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو برقرار رکھا ہوا ہے۔ لبنان میں حزب اللہ، یمن میں حوثی باغی اور عراق و شام میں اس کے اتحادی گروہ اس کی اسٹرٹیجک گہرائی کا حصہ ہیں۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق یمن کے حوثیوں کی جانب سے اسرائیل پر میزائل حملے اور ایران کی جانب سے جوابی کارروائیوں کے دعوے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ جنگ کسی بھی وقت ایک وسیع علاقائی تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
امریکا کی جانب سے خطے میں فوجی موجودگی میں اضافہ اور ممکنہ زمینی کارروائیوں کی تیاری بھی صورتحال کو مزید سنگین بنا رہی ہے، اگر یہ جنگ زمینی سطح پر داخل ہو جاتی ہے تو اس کے نتائج نہایت تباہ کن ہوں گے۔ نہ صرف ہزاروں جانیں ضایع ہوں گی بلکہ پورا خطہ ایک طویل عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے اثرات عالمی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی منڈیوں میں بے یقینی، اور سرمایہ کاری میں کمی جیسے عوامل عالمی اقتصادی نظام کو متاثر کریں گے۔
امریکا کے اندر بھی اس جنگ کے خلاف شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔’’نو کنگز‘‘کے عنوان سے ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں لاکھوں افراد کی شرکت اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکی عوام اس جنگ سے خوش نہیں ہیں۔ امریکی سینیٹر Bernie Sanders کی جانب سے اس جنگ کو غیر آئینی قرار دینا اور حکومت پر تنقید کرنا اس داخلی اختلاف کو مزید نمایاں کرتا ہے۔ یہ صورتحال ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک سیاسی چیلنج بھی ہے، کیونکہ انھیں ایک طرف عالمی سطح پر اپنی پالیسیوں کا دفاع کرنا ہے اور دوسری طرف اندرونِ ملک عوامی دباؤ کا سامنا بھی کرنا ہے۔
اس تمام تناظر میں پاکستان کا کردار نہایت اہم ہو جاتا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس کے امریکا، ایران، سعودی عرب اور ترکیے سب کے ساتھ تعلقات ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایک مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسلام آباد میں ہونے والا وزرائے خارجہ کا اجلاس اسی سمت میں ایک اہم قدم ہے، اگر یہ ممالک ایک مشترکہ حکمت عملی ترتیب دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ نہ صرف اس بحران کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مسلم دنیا کے اتحاد کو بھی مضبوط کر سکتا ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ سے توازن اور اعتدال پر مبنی رہی ہے۔ اس نے ماضی میں بھی مختلف تنازعات میں ثالثی کا کردار ادا کیا ہے، اور اب ایک بار پھر اس کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک بڑے بحران کو ٹالنے میں مدد دے۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ پاکستان نہ صرف سفارتی سطح پر سرگرم رہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔یہ بھی ضروری ہے کہ پاکستان اس صورتحال کے ممکنہ معاشی اثرات کے لیے خود کو تیار رکھے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں، اور خطے میں عدم استحکام پاکستان کی معیشت پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ اس لیے حکومت کو ایک جامع حکمت عملی اپنانا ہوگی تاکہ ان چیلنجز کا مقابلہ کیا جا سکے۔
آخرکار یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ موجودہ بحران ایک امتحان ہے نہ صرف عالمی قیادت کے لیے بلکہ انسانیت کے لیے بھی۔ اگر طاقت کے استعمال کو ہی مسائل کا حل سمجھا جاتا رہا تو اس کے نتائج نہایت بھیانک ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور دیگر ذمے دار ممالک کی کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ ابھی بھی امید باقی ہے، مگر اس امید کو حقیقت میں بدلنے کے لیے امریکا سمیت عالمی برادری کی سنجیدہ، مسلسل اور مخلصانہ کوششوں کی ضرورت ہے۔ اگر عالمی برادری نے اس موقع کو ضایع کیا تو تاریخ ایک بار پھر خود کو دہرا سکتی ہے، اور اس بار اس کی قیمت کہیں زیادہ بھاری ہو سکتی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل