Loading
تل ابیب: ایران میں مبینہ طور پر حکومت کی تبدیلی سے متعلق خفیہ منصوبے میں ناکامی کے بعد اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد میں بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق موساد کے نئے سربراہ رومن گفمین نے اپنے نائب کو عہدے سے ہٹا دیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق رومن گفمین نے حال ہی میں موساد کی سربراہی سنبھالی ہے اور عہدہ سنبھالنے کے چند ہی دن بعد انہوں نے ادارے کے اعلیٰ سطح پر اہم فیصلے کیے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سے قبل موساد کی انٹرنیشنل ریلیشنز برانچ کے سربراہ بھی اچانک اپنے عہدے سے مستعفی ہوگئے تھے۔
امریکی نیوز ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق موساد کے برطرف کیے گئے نائب سربراہ کو گزشتہ سال ایران سے متعلق ایک اہم خفیہ آپریشن کی نگرانی سونپی گئی تھی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس مقصد کے لیے سیکڑوں خفیہ ایجنٹوں کی ٹیم اور ایک ارب شیکل سے زائد وسائل فراہم کیے گئے تھے، تاہم مطلوبہ نتائج حاصل نہ ہو سکے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی قیادت نے اس آپریشن کے نتائج کو غیر تسلی بخش اور ناقابل قبول قرار دیا، جس کے بعد موساد کے اندر احتساب اور تنظیمی تبدیلیوں کا عمل شروع کیا گیا۔
اگرچہ موساد کی جانب سے جاری کردہ عوامی بیان میں برطرف کیے گئے نائب سربراہ کی 22 سالہ خدمات کو سراہا گیا، تاہم ان کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ بیان میں انہیں صرف حرف ’A‘ سے ظاہر کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ موساد کے اندر حالیہ تبدیلیاں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ ادارہ اپنی حکمت عملی اور قیادت کے ڈھانچے کا ازسرِنو جائزہ لے رہا ہے۔ بعض رپورٹس میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید سینئر افسران اپنے عہدوں سے الگ ہو سکتے ہیں۔
تاہم ایران میں حکومت گرانے سے متعلق دعوؤں اور ان کے پس منظر کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، جبکہ اسرائیلی حکام نے بھی اس حوالے سے باضابطہ تفصیلات جاری نہیں کیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل