Loading
سندھ کے وزیربلدیات ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کراچی پریس کلب کے نئے ممبران کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی اگست کے پہلے ہفتے میں کی جائے گی، سندھ کی ترقی کے لیے ایک بڑا منصوبہ شروع ہونے جا رہا ہے جس کے تحت 300 سے زائد سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔ "اس ترقیاتی پلان کے مطابق 100 سے زائد سڑکیں بن بھی چکی ہیں۔
صحافیوں کے پلاٹوں کے حصول کے مسئلے کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔وہ منگل کو کراچی پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔
اس موقع پر پریس کلب کے صدر فاضل جمیلی اور سیکریٹری اسلم خان سمیت گورننگ باڈی کے ارکان موجود تھے۔
انہوں نے کہا کہ آج کی میٹنگ میں نئے ممبران کے پلاٹوں کی قرعہ اندازی کے معاملے پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔وزیر اطلاعات نے اپنی صحت سے متعلق سوشل میڈیا اور بعض حلقوں میں پھیلائی جانے والی افواہوں کو بھی مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا "میری صحت کے بارے میں بہت افواہیں پھیلائی گئیں۔ خبر لگائی گئی کہ میں اسلام آباد میں گر گیا اور پھر ابوظہبی کے اسپتال منتقل ہوا۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔ میں نجی دورے پر ابوظہبی گیا تھا اور وہاں اپنا چیک اپ بھی کرایا۔
انہوں نے مزید کہا کہ خبروں سے انہیں فائدہ ہوا اور انہیں بے شمار دعائیں ملیں۔ "ان لوگوں کا شکریہ جنہوں نے خبریں لگائیں اور جنہوں نے دعا کی۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا ویژن ہے کہ پورے سندھ میں ترقیاتی کام ہوں۔ "ایک دور تھا کہ کراچی کو دنیا کے خطرناک ترین شہروں میں شمار کیا جاتا تھا۔ آج کراچی کا شمار خطرناک شہروں میں نہیں ہوتا۔
انہوں نے بتایا کہ سندھ کی ترقی کے لیے ایک بڑا منصوبہ شروع ہونے جا رہا ہے جس کے تحت 300 سے زائد سڑکیں تعمیر کی جائیں گی۔ "اس ترقیاتی پلان کے مطابق 100 سے زائد سڑکیں بن بھی چکی ہیں۔
وفاقی حکومت پر تنقید کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے کہا کہ پی ایس ڈی پی میں سندھ اور کراچی کا حصہ نہیں ہے۔ وفاق کی طرف سے دیگر صوبوں کو پی ایس ڈی پی فنڈ ملتا ہے۔ ہم سے وفاق نے 100 ارب روپے اور 200 ارب روپے دینے کے وعدے کیے تھے جو پورے نہیں ہوئے۔ ہم پرامید ہیں کہ وفاق ہمارے ساتھ تعاون کرے گی۔
ناصر حسین شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت کا پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کا فارمولا کامیاب ہوا ہے۔ ہم ورلڈ بینک، ایشین ڈویلپمنٹ بینک اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جہاں ترقیاتی کاموں میں شکایات موصول ہو رہی ہیں وہاں فوری ایکشن لیا جا رہا ہے۔ ریڈ لائن منصوبے کے ٹھیکیدار کا کنٹریکٹ بھی شکایات پر منسوخ کیا گیا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل