Monday, August 31, 2026
 

امریکا ایران میں پھر ٹکراؤ، عالمی منڈی میں تیل کی قیمت ایک ڈالر سے زائد بڑھ گئی

 



لندن: امریکا کی جانب سے ایرانی جزیرے لارک پر حملے اور ایران کی جوابی کارروائی کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوگیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مشرق وسطیٰ میں جاری تنازع چھٹے ماہ میں داخل ہونے کے دوران عالمی توانائی کی منڈی ایک بار پھر شدید غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہے۔ برینٹ خام تیل کی قیمت 1.08 ڈالر یا 1.23 فیصد اضافے کے بعد 89.18 ڈالر فی بیرل ہوگئی۔ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ  خام تیل کی قیمت بھی 92 سینٹ یا 1.10 فیصد اضافے کے بعد 84.32 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان تازہ فوجی کشیدگی نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات دوبارہ بڑھا دیے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کتنے عرصے تک برقرار رہے گی، اس بارے میں حتمی اندازہ لگانا مشکل ہے اور کشیدگی چند دن یا کئی ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہے۔ امریکا نے حالیہ کارروائی میں ایران کے جزیرے لارک کو نشانہ بنایا تھا۔ امریکی فوج کے مطابق اس کارروائی کا مقصد ایرانی فورسز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں ممکنہ کارروائی کو روکنا تھا، جبکہ امریکی حکام نے جزیرے پر دو راکٹ لانچرز تباہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ لارک جزیرے پر امریکی حملے میں متعدد ایرانی فوجی اہلکار اور شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔ ایران نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیتے ہوئے جوابی کارروائی کا اعلان کیا تھا۔ بعد ازاں ایران نے لارک جزیرے پر حملے کے جواب میں اردن میں موجود امریکی فورسز کو میزائلوں سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا۔ اردن نے بھی اپنی فضائی حدود میں آنے والے متعدد میزائلوں کو روکنے کا اعلان کیا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل