Loading
پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن (پی پی ڈی اے) نے اعلان کیا ہے کہ سبسڈی شدہ رقم کی ادائیگی کے طریقے کی وضاحت تک ڈیلرز فیول اسکیم کا حصہ نہیں بنیں گے، اگر زبردستی کی گئی تو پیٹرول پمپ اسٹیشنز بند کر دیں گے۔
ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک خدا بخش نے عہدے داروں اور ڈیلرز کے ہمراہ کراچی میں کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی حکومت کی فیول سبسڈی کے پروگرام پر تحفظات کا اظہار کر دیا۔
وائس چیئرمین انور کمال نے کہا کہ سبسڈی شدہ رقم کی ادائیگی کے طریقے کی وضاحت تک ڈیلرز اس اسکیم کا حصہ نہیں بنیں گے، زبردستی کی گئی تو فیول اسٹیشنز بند کر دیں گے۔ حکومت نے ڈیلرز سے مشاورت کے بغیر فیول ریلیف اسکیم وضع کرلی، ریلیف اسکیم کا خیر مقدم کرتے ہیں تاہم اس پر تحفظات ہیں، عوام کو براہ راست اور آسان طریقے سے ریلیف دیا جائے۔
چیئرمین ملک خدا بخش نے کہا کہ فیول ریلیف کا اقدام قابل تعریف ہے لیکن ہمیں اس اسکیم کے طریقہ کار پر اعتراض ہے، سبسڈی شدہ رقم کی ادائیگی کون کرے گا، تاحال حکومت نے اس بارے میں کچھ واضح نہیں کیا، ڈیلرز کو بتایا جائے ڈیلرز کو سبسڈی کون ادا کرے گا۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ فیول ریلیف کی رقم براہ راست صارفین کو ادا کی جائے، فیول سبسڈی کے لیے گزشتہ مکینزم کو استعمال کیا جائے، فیول ریلیف اسکیم کے حق میں ہیں لیکن طریقہ کار پر اعتراض ہے، اعتراضات دور ہونے تک عمل درآمد روکا جائے۔
ملک خدا بخش نے مطالبہ کیا کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں مہینے میں ایک مرتبہ مقرر کی جائیں، حکومت ریلیف اسکیم کے بارے میں پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن سے مشاورت کرے، پیٹرولیم ڈیلرز کا مارجن 8 فیصد کیا جائے۔ انہوں نے شکوہ کیا کہ حکومت سے تین روز سے رابطہ کر رہے ہیں لیکن کوئی جواب نہیں ملا۔
انہوں نے کہا کہ بحیرہ احمر سے پیٹرولیم مصنوعات پاکستان میں لانے پر اضافی لاگت کا سامنا ہے، اس راستے سے سعودی تیل لانے کا عرصہ 23 روز سے تجاوز کر گیا جبکہ آبنائے ہرمز کے راستے پیٹرول خلیجی ممالک سے ایک ہفتے میں پاکستان پہنچ رہا تھا۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل