Saturday, September 19, 2026
 

نیند

 



’’ایک دن نیند پوری نہ ہو بیٹا! اگلے ایک مہینے تک اس کی کمی محسوس ہوتی ہے۔ پوری نیند لینا صحت کے لیے بہت ضروری ہے۔‘‘ وہ بہت پڑھے لکھے نہیں تھے لیکن یہ ان کی اپنی زندگی کا تجربہ تھا جو انھوں نے بیان کیا تھا۔کئی سال پرانی بات ہے ہمیں ایک ٹی وی اداکارہ سے انٹرویو کرنا تھا مع تصاویر کے، فوٹو گرافر نے ان صاحبہ کی کئی تصاویر لیں اور آگے پیش کر دیں۔ صفحے کے انچارج صاحب نے تصویریں دیکھیں اور انکار کر دیا۔ ’’ہمارا اخبار اتنا بڑا ہے ہم اپنے پیج پر ایک ایسی فنکارہ کی تصویر کیسے لگا سکتے ہیں، ان کے چہرے سے ہی تھکن صاف نظر آ رہی ہے۔‘‘ ان کے یہ کمنٹس مرحوم عظیم جمال صاحب نے ہم تک پہنچائے۔ ’’اب آپ ہی بتائیں، میں کیا کرتا ؟یہ آرٹسٹ لوگ کتنے مصروف ہوتے ہیں۔ اب انھوں نے اتنی مشکل سے ٹائم نکالا۔ آج کل ان کی دن رات ریکارڈنگ چل رہی ہیں وہ بے چاری یہی کہہ رہی تھیں کہ تصویریں اچھی نہیں آئیں گی، اتنے دنوں سے ان کی نیند بھی پوری نہیں ہو رہی۔‘‘…’’پھر کیا ہوگا انکل! آپ کی تو ساری محنت ضایع گئی۔‘‘ ’’ضایع کیا گئی، دوبارہ گیا تھا اور پہلے ہی کہہ کر آیا تھا (ہنستے ہوئے) آپ ٹھیک سے سوئیے گا تاکہ تصاویر میں فریش تو نظر آئے۔ لوگ تو یہی دیکھتے ہیں ناں، اب کسی کو کیا پتا کہ یہ بے چارے آرٹسٹ بھی اپنی کمائی کرتے ہیں جب جب کام ملتا ہے کرتے ہیں۔ وہ تو بڑے آرٹسٹوں کی بات ہے ناں جن کے پاس کام زیادہ ہوتا ہے وہ اپنی سہولت دیکھتے ہیں اور انکار بھی کر دیتے ہیں۔‘‘زندگی میں کوئی بھی کام کرنا ہو تو سب سے پہلے انسان اپنی عمومی صحت کے بارے میں سوچتا ہے۔ کیا میں یہ کر بھی سکتا ہوں۔ کیا میں اسے مقررہ مدت میں مکمل کر سکتا ہوں، کیا یہ کرنا میرے لیے درست ہوگا۔ سوالات اگر نہ بھی ابھریں تب بھی دماغ متوازن حالت میں ہو، تب ہی کوئی کام اپنے بھرپور انجام تک پہنچتا ہے۔ دماغ کے فریش ہونے کا تعلق ہمارے ذہن سے ہے جو مستقل دن بھر کاموں میں جڑا رہتا ہے اسے بھی ایک بریک چاہیے اور یہ وقفہ اسے نیند میں ملتا ہے۔ یہ قدرت کا ایک اصول ہے اور اگر اس اصول کو توڑنے کی کوشش کی گئی تو اس کا نقصان واضح طور پر نظر آتا ہے۔ ’’ایک نئی تحقیق کے مطابق اگر کوئی شخص اپنی اصل عمر سے زیادہ بوڑھا محسوس کرتا ہے تو اس کی ایک بڑی وجہ معیاری نیند کی کمی ہو سکتی ہے۔‘‘یہ معیاری نیند کیا ہے؟ معیاری نیند دراصل ایسی پرسکون اور گہری نیند ہے جو ہمارے جسم اور دماغ کو مکمل آرام دے۔ ایسی نیند جس میں ہمیں احساس ہو کہ ہم سو نہیں رہے بلکہ جاگ رہے ہیں، ہم اپنے اردگرد کے معمولات زندگی کو دیکھ اور محسوس کر سکتے ہیں تو دراصل ہم ایک تھکے ہوئے جسم کی تھکن اتار رہے ہیں لیکن یہ ہماری معیاری نیند نہیں ہے۔ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ہر انسان کو کم ازکم آٹھ گھنٹے سونا چاہیے لیکن عام طور پر ایسا کم ہوتا ہے لوگ بظاہر سوتے تو ہیں لیکن صبح اٹھنے کے بعد ان کی شکایات کم نیند والوں کی طرح ہوتی ہیں جس کی وجہ نیند میں بے سکونی کا ہونا ہے اور اس کی کوئی ایک یا خاص وجہ نہیں ہوتی، ہماری دن بھر کی مصروفیات کے علاوہ ضروریات زندگی کے لیے بھاگم دوڑ، مہنگائی، کرپشن، زیادتی، جلن، حسد وغیرہ شامل ہے جو سب مل کر ایک عام سی بیماری ڈپریشن کو جنم دیتا ہے۔ نیند کم لینا یا زیادہ لینا صحت پر اثر انداز نہیں ہوتی لیکن ایک پرسکون اور کم مدت کی نیند انسانی صحت پر خوش گوار اثرات مرتب کرتی ہے۔ ایک زمانے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ زیادہ نیند وقت کا زیاں ہے اور بحالی جسم کے لیے صرف غذا ضروری ہے۔ یعنی ذہن کے سکون کے لیے تھوڑی دیر کی پرسکون نیند بھی کافی ہے بہرحال تحقیق کے در تو ہمیشہ وا رہتے ہیں۔ ’’میں بظاہر سوئی نظر آتی ہوں لیکن میںجاگ رہی ہوتی ہوں۔‘‘یہ کہنا تھا ایک ایسی خاتون کا جو گھریلو زندگی کے مسائل سے دوچار تھیں، مسائل انھیں سونے نہ دیتے تھے جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے انھیں اپنے کندھے میں درد محسوس ہوا جو ایک ہاتھ تک منتقل ہوتا گیا، ڈاکٹر ان کے مرض کو سمجھ نہ پا رہے تھے، ایکسرے، دوائیاں بے اثر رہیں اور آخر کار یہ کئی سالوں کی بے خوابی انھیں کارپل ٹنل سنڈروم تک لے گئی۔ کارپل ٹنل سنڈروم اعصاب سے جنم لینے والی بیماری ہے جو پہلے انگلیوں اور ہاتھ کو سُن کر دیتا ہے پھر اس کا درد ایک کندھے سے دوسرے کندھے تک پھیلتا جاتا ہے اور ان کیساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ ڈاکٹرز نے اس کا علاج آپریشن پر موقوف کیا پر چیرا پھاڑی کے بعد بھی کوئی خاص اثر نہ پڑا۔ دراصل بیماری اب بھی برقرار تھی اور وہ بھی معیاری نیند کی کمی۔ہم اپنی زندگی میں بہت سی ان نعمتوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو بنا مانگے ہمیں عنایت کی گئی ہیں۔ انھی نایاب نعمتوں میں ایک نعمت ہماری نیند بھی ہے جو ذہن کو پرسکون گولیوںکے عوض بھی بہ مشکل دستیاب ہوتی ہے۔ یہ ہمارے ذہن کو فریش، فیصلہ سازی کے لیے متحرک کرتی ہے ہمارے چہرے کو با رونق بناتی ہے کہ جسم کی مشینری کو ایک وقفہ دینا ضروری ہے جسے معیاری نیند ہی پورا کر سکتی ہے۔ رات ہوتے ہی سگنل ملنا شروع ہو جاتے ہیں کہ سونے کا وقت ہو رہا ہے، اب ہمیں سو جانا چاہیے لیکن اگر ہم اسے نظرانداز کرکے غیر ضروری کاموں سے جڑے رہیں گے تو یہ قیمتی نعمت ہم سے روٹھ کر ہمارے جسم پر کسی نہ کسی صورت ضرور اثرانداز ہوتی ہے۔ ہمارے مذہب نے ہماری زندگی کے لائف اسٹائل کو کئی صدیوں پہلے متعین کر دیا تھا، لیکن ہم اپنے لائف اسٹائل کو بدل کر غیر محفوظ اور غیر متوازن لائف اسٹائل میں الجھ کر اپنے لیے نقصانات پیدا کر رہے ہیں۔ رات دیر تک جاگ کر فضولیات میں کھو کر ٹائم گنوانا اور صبح دیر تک سو کر احسان جتانے سے ہم ماڈرن نہیں بلکہ جاہلوں کی فہرست میں شامل ہو رہے ہیں۔ وہ جاہل جو شعائر زندگی سے نابلد تھے جو بیٹیوں کو زندہ گاڑ دیتے تھے، سالہا سال دشمنیاں نبھاتے تھے اور قتل و خون خرابہ پر خوش ہوتے تھے، بتوںکو پوجتے تھے۔ ایسے میں ہمیں حضور اکرمؐ کی صورت زندگی گزارنے کا پورا اصول سمجھا دیا گیا، یہاں تک کہ کھانا پینا، سونا جاگنا اور دوپہر کے کھانے کے بعد قیلولہ کرنا۔ سائنس کی رو میں قیلولہ کرنا یا Napلینا کتنا فائدہ مند ہے اس پر پھر کبھی بات ہوگی لیکن قوموںکے لیے زیادہ نیند بگاڑ پیدا کر دیتی ہے جسے ٹھیک کرنا کبھی آسان نہیں رہا ہے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل