Loading
چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ حکومت کو جو کرنا تھا کردیا اب اسے ریورس کرے، دہشت گردی کی آڑ میں سیاسی مفادات کا تحفظ نہیں ہونا چاہے۔
راولپنڈی اڈیالہ روڈ داہگل ناکے پر میڈیا سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ 24 اور 25 نومبر 2024 کو میری بانی سے ملاقاتیں ہوئی تھیں 25 نومبر کو میری تین مرتبہ بانی سے ملاقاتیں ہوئی تھیں 25 نومبر کو صبح، دوپہر اور رات کو ملاقاتیں ہوئی تھیں ملاقات کے دوران علی امین گنڈا پور سے فون پر بات ہوئی تھی، علی امین نے بانی کو بتایا کہ آپ ویڈیو بیان ریکارڈ کرائیں جگہ کا تعین کریں تاکہ وہاں بیٹھ جائیں، میرے پاس اڈیالہ سے فون کال آئی کہ آپ آجائیں بانی پی ٹی آئی ویڈیو بیان ریکارڈ کرنا چاہتے ہیں مجھے عمر ایوب کی جانب سے بھی یہ پیغام آیا تھا 25 نومبر جب اڈیالہ آیا تو رات 12 بجے پہنچا رات کے درمیانی پہر بانی اپنے سیل سے کانفرنس روم میں نہیں آسکتے تھے اس لیے مجھے بانی کے سیل میں بھیجا گیا میں بانی کے سیل میں گیا کہ بانی نے کہا کہ یاد رکھو ویڈیو بیان میں رینجرز کی شہادت پر تعزیت کروں گا۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ بانی نے بیان ریکارڈ کرانے سے انکار نہیں کیا بس بانی کا مطالبہ تھا کہ گوہر اپنے موبائل سے ریکارڈنگ کرے تاکہ ٹیمپرنگ نہ ہوسکے، بانی نے کہا علی امین جہاں ہے وہاں رہے آپ پھر کل آجائیں ویڈیو ریکارڈ کرائیں گے، میرا موبائل جیل والوں کے پاس تھا، جس موبائل سے ویڈیو بیان ریکارڈ ہونا تھا وہ جیل والوں کا تھا۔
انہوں نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اس ملک کا ایک ایسا قیدی ہے جس کی ملاقاتیں ایک سال سے بند ہیں بانی سے ملاقات کا مطالبہ ہی کے پی میں گورنر راج کا سبب بنا ہے، ہم ہر قسم کی دہشت گردی کی مخالفت کرتے ہیں فوج کی قربانیوں پر ہم نے کہا یہ رائیگاں نہیں جائیں گی، کوئی ایک ٹولہ ہے جو پی ٹی آئی اور اداروں میں تناؤ ختم کرنا نہیں چاہتا، یہ مسترد شدہ لوگ ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی والے آئیں گے تو حملہ کریں گے، کے پی میں ووٹ سے بنا ہمارا قلعہ گرادیا گیا گورنر راج غیر قانونی اور غیر آئینی اقدام ہے ایک ہی صوبے میں ہماری حکومت تھی وہ بھی چھین لی گئی بانی پی ٹی آئی کی بہنوں کو روایت کے خلاف جیل میں رکھا گیا، دہشت گردی کی آڑ میں سیاسی مفادات کا تحفظ نہیں ہونا چاہیے، ہم غیر مشروط طور پر حکومت کے ساتھ بیٹھے ہیں۔
بیرسٹر گوہر نے کہا کہ حکومت نے ہمیں مایوس کیا ہمارے لانگ مارچ کے مطالبات میں بانی سے ملاقات، علاج اور بچوں سے فون پر بات تھی، حکومت ہمارے ساتھ بیٹھ کر دہشت گردی حل کرنا چاہتی تھی اور صوبائی معاملات پر بات کرنا چاہتی تھی، نیشنل ایکشن پلان پر ہم آج بھی چاہتے ہیں عمل درآمد ہو، ہم نہیں چاہتے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ پر کوئی اثر پڑے، حکومت نے جو کرنا تھا وہ کردیا اب اس کو ریورس کرنا چاہیے، مذاکرات کی ٹیبل سے اٹھنا ہی نہیں چاہیے تھا، ہمارے پاس اگر اختیار نہیں ہوتا تو ہم مذاکرات میں کیوں بیٹھتے؟ کوئی ایک ٹولہ ہے جو ملک میں سیاسی استحکام نہیں چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے ڈی سی تبدیل کیے، دفعہ 144 لگائی اور ہمارے منصوبوں پر لگی تختیاں بھی اکھاڑی جارہی ہیں، کے پی میں جاری حکومتی اقدامات سے نفرتیں بڑھ رہی ہیں، حکومت اگر یہ کہہ گئی کہ کے پی حکومت دہشت گردوں کا ساتھ دے رہی ہے تو عالمی سطح پر آپ نے پاکستان کا امیج خراب کیا ہے۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا کہ عمران خان نے اچکزئی کو اپوزیشن لیڈر بنایا ہم نے اس پر کبھی سوال نہیں اٹھایا، مشعال یوسف زئی نے لائن کراس کی ہے ہم اس کو نوٹس جاری کررہے ہیں، مشعال یوسف زئی نے جو باتیں کی ہیں اس میں کوئی صداقت نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ سہیل آفریدی کا پاکستان پرچم سے متعلق بیان اے آئی سے بنا ہوا ہے، وہ وزیراعلیٰ تھا اس نے آئین کے تحت حلف اٹھایا ہوا تھا، میں مذاکراتی کمیٹی میں تھا ہم نے بڑی کوشش کی تھی معاملہ سیاسی طور پر حل ہوجائے، ہمارے تین ممبر وہاں بیٹھے تھے، مذاکرات کے دوران کے پی لیڈرشپ سے ہماری مشاورت ہوئی ہے، یہ بات غلط ہے کہ ہماری مذاکراتی کمیٹی کو ہدایات کے پی سے آرہے تھیں، میرے علم میں مذاکرات کے دوران مراد سعید کی مشاورت کا کہیں کوئی ذکر نہیں تھا، محسن نقوی کی باتوں کا جواب میں نے اسمبلی کے فلور پر کیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مولانا فضل الرحمان کو اپوزیشن لیڈر بنانے سے متعلق کوئی بات نہیں ہوئی، اچکزئی صاحب کو بانی نے اختیار دیا ہے اس پر کوئی بات نہیں ہوسکتی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل