Tuesday, October 20, 2026
 

شہزادہ ہیری کی اپنے والد کنگ چارلس اور بھائی پرنس ولیم سے صلح کی خواہش

 



برطانوی شہزادے ہیری نے والد کنگ چارلس اور بڑے بھائی شہزادہ ولیم سے تعلقات بہتر بنانے کی خواہش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں پہلے ہی بہت مسائل ہیں خاندان کے ساتھ اختلافات جاری رکھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بات ڈیوک آف سسیکس شہزادہ ہیری نے امریکی جریدے جی کیو کو نیویارک میں دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ انھوں نے مزید کہا کہ والدین اور بچوں کے درمیان تنازعات اور بہن بھائیوں کے خراب تعلقات ایسے مسائل ہیں جن سے بہت سے خاندان گزرتے ہیں۔ شہزادہ ہیری کا کہنا تھا کہ لوگ اکثر ان کے خاندان کے اختلافات کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ یہ تنازعات کیسے ختم ہوں گے اور شاید اس طرح ان لوگوں کو اپنے خاندانی مسائل حل کرنے میں بھی مدد مل سکے۔ پرنس ہیری نے واضح کیا کہ وہ خود تعلقات بہتر کرنا چاہتے ہیں اور ان کے نزدیک صلح سب سے اہم ہے۔ ماضی کے زخم بھرنے کے امکان سے متعلق سوال پر شہزادہ ہیری نے کہا کہ زخموں کے نشان ہمیشہ باقی رہ سکتے ہیں تاہم ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ان کے بقول اگر ماضی کی باتیں روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی رہیں تو انہیں بھلانا مشکل ہو جاتا ہے۔ پرنس ہیری نے برطانیہ واپسی اور بچوں آرچی اور للیبیٹ کی برطانوی اسکولوں میں تعلیم کو بھی اہم قرار دیا۔ انھوں نے اپنی اس دلی خواہش کا بھی اظہار کیا کہ ان کے بچوں کو برطانیہ اور امریکا کے مختلف ثقافتوں کے تجربات اور مشاہدات بھی حاصل ہوں۔ اپنی والدہ شہزادی ڈیانا کی وفات کے بعد غم اور صدمے سے نمٹنے کے تجربات پر بات کرتے ہوئے ہیری نے کہا کہ وہ ہمدردی حاصل کرنے کے لیے نہیں بلکہ دوسروں کی مدد کے لیے اپنے تجربات بیان کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ اس واقعے نے گہرے زخم چھوڑے تھے اور انھیں علاج  اور معاونت سے آگے بڑھنے میں مدد ملی تھی۔ بعد ازاں ہیری کے ترجمان نے وضاحت کی کہ ان کے بیانات شہزادہ ولیم یا شاہی خاندان کے کسی فرد پر تنقید کے لیے نہیں تھے بلکہ عمومی تناظر میں دیے گئے تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل