Sunday, November 01, 2026
 

ایم 4 توسیعی منصوبہ، اگلے ماہ کے وسط تک ٹریفک بحال کرنے کا حکم

 



وفاقی وزیر مواصلات عبدالعلیم خان نے موٹروے ایم 4 کے توسیعی منصوبے پر تعمیراتی کام تیز کرنے اور اگلے ماہ کے وسط تک ٹریفک بحال کرنے کی ہدایت کر دی۔ وفاقی وزیر نے کمال پور انٹرچینج پر منصوبے کا معائنہ کیا اور این ایچ اے، این ایل سی اور تعمیراتی کمپنیوں کے حکام سے پیش رفت پر بریفنگ لی۔ عبدالعلیم خان نے ہدایت کی کہ منصوبے پر مشینری اور افرادی قوت بڑھائی جائے، تعمیراتی کام جلد مکمل کیا جائے اور معیار پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب منصوبے کے تمام فنڈز این ایچ اے نے خود فراہم کیے ہیں تو کسی صورت تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔وفاقی وزیر کے مطابق فیصل آباد سے پنڈی بھٹیاں تک 53 کلومیٹر طویل موٹروے ایم 4 کو چار سے چھ لین میں توسیع دی جا رہی ہے۔ موٹروے کے درمیان خوبصورت گرین بیلٹ، کھجور کے پودے اور تزئین و آرائش کی جائے گی، جبکہ پورے روٹ پر مکمل لائٹنگ بھی نصب ہوگی۔ عبدالعلیم خان نے ایک ہفتے میں ریسٹ ایریاز کے ڈیزائن فائنل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ موٹروے ایم 4 کو اسٹیٹ آف دی آرٹ شاہراہ بنانا چاہتے ہیں۔ فیصل آباد کے لیے 30 سال سے زیر التوا دیرینہ مطالبہ پورا کر دیا ہے اور نئے سال کے آغاز پر عوام کو موٹروے کا تحفہ دیں گے۔انہوں نے کہا کہ موٹروے پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئیں، ایم 4 کی توسیع سے حادثات سے بچنے میں مدد ملے گی۔ وفاقی وزیر نے این ایچ اے اور موٹروے پولیس افسران کی کارکردگی کو بھی سراہا۔ حکام نے بریفنگ میں بتایا کہ موٹروے ایم 4 کا توسیعی منصوبہ تین حصوں میں تقسیم ہے، جس پر این ایل سی اور دیگر ادارے کام کر رہے ہیں۔دورے کے موقع پر چیئرمین این ایچ اے، این ایل سی اور تعمیراتی کمپنیوں کے سینئر حکام کے علاوہ سابق صوبائی وزیر میاں خالد محمود، سابق رکن قومی اسمبلی رانا نذیر احمد اور رکن صوبائی اسمبلی شعیب صدیقی بھی موجود تھے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل