Tuesday, May 14, 2024

وزیراعظم کی آئی ایم ایف کی سربراہ سے ملاقات، نئے قرض پروگرام پر تبادلہ خیال

 



 اسلام آباد: وزیراعظم شہبازشریف اور عالمی مالیاتی ادارہ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کے درمیان سعودی عرب میں جاری عالمی اقتصادی فورم کے اجلاس کے دوران غیررسمی اہم ملاقات ہوئی جہاں پاکستان کے ایک اور قرض پروگرام میں داخل ہونے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران کرسٹالینا جارجیوا کا گزشتہ سال آئی ایم ایف سے 3 ارب امریکی ڈالر کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ (ایس بی اے) حاصل کرنے میں پاکستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

وزیر اعظم شہباز شریف کے دو بارہ وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد یہ ان کی ایم ڈی آئی ایم ایف کے ساتھ پہلی ملاقات تھی، اس سے قبل جون 2023 میں پیرس میں سمٹ فار نیو گلوبل فنانشل پیکٹ کے دوران ملاقات ہوئی تھی۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کا اجلاس کل متوقع ہے، جس میں ممکنہ طور پر ایس بی اے کے تحت  1.1 ارب امریکی ڈالرز کی حتمی قسط کا فیصلہ کیا جائے گا، ملاقات کے دوران ایم ڈی آئی ایم ایف نے پچھلے سال اسٹینڈ بائے ارینجمینٹ کے حوالے سے وزیراعظم کی قائدانہ کردار کو سراہا۔

اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی سربراہ کو بتایا کہ ان کی حکومت پاکستان کی معیشت کو دوبارہ پٹڑی پر لانے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی سربراہی میں اپنی مالیاتی ٹیم کو اصلاحات کرنے، سخت مالیاتی نظم و ضبط یقینی بنانے اور ایسی دانش مندانہ پالیسیوں پر عمل کرنے کی ہدایت کی ہے جو میکرو اکنامک استحکام اور پائیدار اقتصادی ترقی یقینی بنائیں۔

وزیراعظم شہباز شریف اور کرسٹالینا جارجیوا نے پاکستان کے آئی ایم ایف کے ایک اور پروگرام میں داخل ہونے پر بھی تبادلہ خیال کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ گزشتہ سال حاصل ہونے والے فوائد مستحکم کیے جائیں اور اس کی اقتصادی ترقی کی رفتار مثبت رہے۔

ملاقات کے دوران آئی ایم ایف کی سربراہ نے پاکستان کے ساتھ جاری پروگرام بشمول جائزہ کے عمل کے بارے میں اپنے ادارے کے نکتہ نظر سے آگاہ کیا جبکہ وزیراعظم شہباز شریف نے ایم ڈی آئی ایم ایف کو ان کی سہولت کے مطابق دورہ پاکستان کی دعوت بھی دی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل