Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے عائد کیے جانے والے ٹیرف کے بعد ان کی حمایت میں کھڑے ہونے والے ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ارب پتیوں کو شدید نقصان کا سامنا کرنا پڑ گیا ہے۔ امریکی صدر کے ٹیرف پلان کے نفاذ کے بعد ٹیکنالوجی کمپنی میٹا کے اسٹاک میں 8.96 فی صد، ایمازون 8.98 فی صد، گوگل 3.92 فی صد جبکہ ایپل کے شیئرز میں 9 فی صد سے زائد کمی واقع ہوئی۔ وائٹ ہاؤس کے مشیر ایلون مسک بھی اس کا شکار بنے اور ٹیسلا اسٹاک کو 5.47 فی صد کمی کا سامنا کرنا پڑا۔ ان ارب پتیوں کو یہ نقصان جمعرات کو صدر ٹرمپ کی جانب سے ’لبریشن ڈے‘ ٹیرف کے اعلان کے بعد وال اسٹریٹ کی تاریخ میں ایک خراب دن کے بعد جھیلنا پڑا۔ ڈاؤ جونز میں ہونے والا پوائنٹ ڈراپ تاریخ پانچ بدترین تنزلیوں میں سے ایک قرار دی جارہی ہے۔ دوسری جانب ایس اینڈ پی 500 میں مارچ 2020 کے بعد سے ایک دن میں ہونے والی اب تک کی سب سے بڑی تنزلی دیکھی گئی۔ مارکیٹ میں چین کی جانب سے 34 فی صد جوابی ٹیرف عائد کرنے کے بعد تنزلی کا سلسلہ برقرار رہا۔ فوربز کے مطابق تنزلی کے نتیجے میں میٹا کے مارک زکربرگ کو 17.9 ارب ڈالر، ایمازون کے مالک جیف بیزوس کو 16 ارب ڈالر اور ایلون مسک کی مجموعی دولت میں 8.7 ارب ڈٓالر کی کمی واقع ہوئی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل