Friday, August 29, 2025
 

30 کھرب کی معیشت بننے کیلیے آبادی ماحولیاتی تبدیلیوں سے نمٹنا ہو گا، وزیر خزانہ

 



وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ 2047 تک 3 ٹریلین کی معیشت بننے کیلیے آبادی و ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنا ہوگا اور ان دوچیزوں سے نہ نمٹ سکے تو بطور ملک صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھا سکیں گے۔  انہوں نے کہا کہ ہم ملک کو درست سمت میں لے جانے میں کامیاب رہے ہیں، بجٹ میں چھوٹے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی کوشش کی ہے، ٹیکس گوشوارہ پر کرنے کیلئے 800 کے بجائے 35 یا 40 خانے رہ گئے ہیں۔ کرپٹو کرنسی کے حوالے سے رولز اینڈ ریگولیشنز بنیں گے اور اس کے بعد معاملے کو آگے بڑھائیں گے، اتنے عرصے سے کرپٹو کرنسی قانونی نہیں ہوئی دو تین ماہ مزید صبر کرلیں، پاکستان رواں سال دسمبر تک پانڈا بونڈ جاری کریگا، چین کے ساتھ رول اوور سمیت تمام معاملات طے پاچکے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس آف پاکستان (آئی کیپ) کے زیراہتمام پبلک فنانشل مینجمنٹ کے موضوع پرمنعقدہ کانفرنس سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ محمد اورنگزیب نے کہا کرپٹو کرنسی کے حوالے سے کان اور آنکھیں کھلی رکھنی ہونگی۔ اس سوال پر کہ کیا سیلاب سے ہونیوالے نقصانات سے نمٹنے کیلئے عالمی برادری سے مدد لیں گے انہوں نے کہا ہم پہلے اپنے وسائل استعمال کریں گے، ہمارے پاس وسائل دستیاب ہیں۔ 2022 میں سیلاب کے بعد عالمی برادری نے ہماری امداد کا اعلان کیا لیکن ہم قابل عمل منصوبے نہیں بنا سکے۔ تین سال قبل جنیوا میں 11 ارب ڈالر امداد کے اعلانات ہوئے تھے تاہم ہم اس سے فائدہ اٹھانے کیلئے قابل عمل سرمایہ کاری منصوبے تیار نہیں کر سکے۔ اس وقت ریلیف اینڈ ریسکیو چل رہا ہے، بحالی، ری سٹرکچرنگ اور تعمیر نو بعد کا مرحلہ ہے۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا بروقت فیصلے اور بروقت عمل درآمد ضروری ہے، یہ بہترمینجمنٹ کی خوبیاں ہیں، موڈیز، فچ اور ایس اینڈ پی پاکستان کی ریٹنگ اپ گریڈ کر چکے ہیں۔ کچھ سال سے میکرو اکنامک استحکام آیا ہے ہمیں اس راستے پر سفر برقرار رکھنا ہے۔ ٹیکسز، توانائی اور ایس او ایز سمیت سٹرکچرل اصلاحات کر رہے ہیں،24 ادارے نجکاری کی فہرست میں شامل کئے گئے ہیں۔ پاکستان میں سبسڈی کا بے دریغ اور ناجائز استعمال کیا جاتا ہے ہم نے کم از کم بلیڈنگ روک دی ہے۔ موسمیاتی تبدیلیاں اور بڑھتی ہوئی آبادی پاکستان کیلئے وجودی خطرات ہیں، ماحولیاتی موزونیت اورمطابقت کیلئے منصوبوں میں تمام متعلقہ شراکت داروں اورنجی شعبہ کوحکومت کاساتھ دینا چاہئے۔ پاکستان پانڈا بانڈز کے ذریعے بین الاقوامی کیپٹل مارکیٹ میں داخلے کاخواہاں ہے۔ ہم دیگربین الاقوامی کیپٹل مارکیٹوں سے بھی استفادہ کرنے کے خواہاں ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر مساتو کانداسے ملاقات میں وزیر خزانہ نے توانائی کی منتقلی، ماحولیاتی لچک، ٹرانسپورٹ و لاجسٹکس، انسانی وسائل کی ترقی اور وسائل کے بہتر استعمال میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ گہرے تعاون کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا گزشتہ چند سالوں کے متعدد چیلنجز کے باوجود معیشت میں استحکام آیا ہے۔ صدر ایشیائی ترقیاتی بینک نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور استحکام کی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ معیشت میں بہتری اور ڈھانچہ جاتی اصلاحات خوش آئند ہیں۔ اے ڈی بی خصوصاً ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے، آبادی کے مسائل، بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر اور وسائل کے حصول کے شعبوں میں پاکستان کی معاونت جاری رکھے گا۔ اے ڈی بی پانڈا بانڈ سمیت دیگر جدید مالیاتی ذرائع متعارف کرانے میں مدد فراہم کریگا۔ فریقین نے ترقیاتی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل