Loading
روس نے یوکرین کے دارالحکومت کیف اور دیگر شہروں پر رات بھر شدید فضائی حملہ کیا جس کے نتیجے میں کم از کم 18 افراد جاں بحق ہوگئے، جن میں چار بچے بھی شامل ہیں۔ یوکرینی حکام کے مطابق مرنے والوں میں 2، 14 اور 17 سال کی عمر کے بچے بھی شامل ہیں۔ حملے کے دوران یورپی یونین مشن اور برٹش کونسل کی عمارتیں بھی متاثر ہوئیں، جس پر یورپی یونین اور برطانیہ نے اپنے دارالحکومتوں میں روسی سفیروں کو طلب کرلیا ہے۔ یوکرینی فضائیہ نے بتایا کہ روس نے ایک ہی رات میں 598 ڈرونز اور 31 میزائل داغے۔ فضائیہ کے ترجمان یوری اِہنات نے اسے یوکرین پر ہونے والے ’سب سے بڑے حملوں میں سے ایک‘ قرار دیا۔ روس کی وزارتِ دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ ان حملوں میں یوکرین کے فوجی صنعتی اداروں اور فضائی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے کہا کہ یہ حملہ شہریوں کا دانستہ قتل عام ہے۔ یورپی کمیشن کی صدر اُرسولا وان ڈیر لائن نے بھی شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ کریملن اندھا دھند شہریوں، بچوں اور خواتین کو قتل کر رہا ہے اور اب یورپی یونین کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن پر زور دیا کہ وہ مذاکرات کی میز پر آئیں۔ برطانوی وزیر اعظم کیر اسٹارمر نے کہا کہ روسی حملے میں برٹش کونسل کی عمارت بھی متاثر ہوئی ہے، جبکہ برطانوی وزیرِ خارجہ ڈیوڈ لیمی نے روسی سفیر کو طلب کرکے حملوں کی شدید مذمت کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل