Friday, August 29, 2025
 

میئر کراچی کا بارشوں سے متاثرہ 106 سڑکوں کی پیوندکاری اور استرکاری کا اعلان

 



میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا ہے کہ کراچی میں حالیہ بارشوں کے بعد متاثرہ 106 سڑکوں کی پیوندکاری اور استرکاری کا کام پیر سے شروع ہوگا جو کہ 60 یوم میں مکمل کرلیا جائے گا، اس کام کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ کے ایم سی ہیڈ آفس میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے اس بات کا اعلان کیا۔ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے مزید کہا کہ کراچی بارشوں کی صورتحال سے نکل آیا ہے اور اب شہر میں ٹوٹی پھوٹی سڑکوں کی استرکاری اور پیوندکاری کی جائے گی، 106 سڑکوں کی بحالی کے لیے 75 کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے 15، 15 کروڑ روپے ضلعی سطح پر خرچ ہوں گے اور بارش کے بعد خراب ہونے والی سڑکوں پر پیچ ورک شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام بجٹ، ترقیاتی اسکیموں اور کام کے دائرہ کار سے متعلق سوالات کے جوابات کے لیے کے ایم سی کی آفیشل ویب سائٹ کا معائنہ کر سکتے ہیں جہاں 106 سڑکوں کی تفصیلات، ٹھیکیداروں اور انجینیئرز کے نام، کمپنی کی تفصیلات، حتیٰ کہ ایکس ای این کے واٹس ایپ نمبرز بھی موجود ہیں۔ میئر کراچی نے کہا کہ شہری کسی بھی شکایت کے لیے 1339 پر رابطہ کرسکتے ہیں، سڑکوں اور اسٹریٹ لائٹس کا کنٹریکٹ ہے جبکہ گلی محلوں کی ترقیاتی اسکیموں کی تفصیلات بھی ویب سائٹ پر اپڈیٹ ہو رہی ہیں۔ میئر اور ڈپٹی میئر ان منصوبوں کی براہِ راست مانیٹرنگ کریں گے۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ساتوں اضلاع میں سڑکوں کی مرمت کے لیے سالانہ کنٹریکٹ کیا گیا ہے اور ہر ضلع کے لیے الگ کنٹریکٹر مقرر ہے۔ اگر کسی ضلع میں سڑک خراب ہوگی تو وہیں کا کنٹریکٹر اس کی مرمت کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ مایوسی پھیلانے والے عناصر کے علاقوں میں بھی ہم کام کریں گے، جو ادارے ہماری سڑکیں بغیر اجازت کاٹیں گے، ان کے خلاف مقدمات درج کروائیں گے، تفصیلات میں نالے اور پارکس بھی شامل ہیں جو ویب سائٹ پر ڈال رہے ہیں۔ مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ کچھ ٹاؤن چیئرمین صرف تنخواہوں کا بہانہ بناتے ہیں جبکہ انہیں پراپرٹی ٹیکس، روڈ کٹنگ، ایڈورٹائزمنٹ ٹیکس، رجسٹریشن ٹیکس اور ٹریڈ لائسنس کی مد میں بھاری رقوم حاصل ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیو کراچی ٹاؤنز کو سوا تین ارب روپے روڈ کٹنگ کی مد میں ملے ہیں، اگر انہوں نے دو ارب روپے خود خرچ کیے ہیں تو حساب دیں۔ اگر واقعی ان کے تمام پیسے تنخواہوں میں جاتے ہیں تو وہ پیچھے ہٹنے کے لیے تیار ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ یہ رقوم آخر جا کہاں رہی ہیں۔ مئیر کراچی نے کہا کہ جماعت اسلامی کے ساتھ سیاسی اختلاف ہے مگر وہ سب کو ساتھ لے کر چلنے کو تیار ہیں۔ انہوں نے کہا میں حافظ نعیم الرحمٰن سے کہوں گا کہ وہ پریس کانفرنس کر کے اپنے کام دکھائیں، صرف تنقید سے شہر کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔ میئر کراچی کا کہنا تھا کہ لاہور میں سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کے نرخ طے کیے گئے ہیں لیکن کراچی میں کسی شہری سے پیسہ نہیں لیا جاتا۔ عیدالاضحیٰ کے موقع پر سالڈ ویسٹ مینجمنٹ نے بہترین کام کیا جس کا کریڈٹ کچھ ٹاؤن چیئرمین نے لیا۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل