Loading
راولپنڈی کے قبرستان میں دفنائی گی سات سالہ بچی کی قبر سے مبینہ چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے جب کہ قریب ہی سفید کپڑا اور روئی پڑی ملی، والد نے پولیس کو اطلاع دی جمعہ کی صبح مجسٹریٹ کی نگرانی میں قبر کشائی کرکے پوسٹ مارٹم کروایا جائے گا۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق پولیس کو سات سالہ مسماتہ علینہ کے والد ظفر اقبال نے بتایا کہ وہ گتجا چوکی کے علاقے گلی نمبر 19 میں رہائش پذیر ہے 7 سالہ بیٹی علینہ 26 اگست کو فوت ہوئی جس کی تدفین خان کالونی والے قبرستان میں کی، جمعرات کی صبح فاتحہ خوانی کے لیے قبرستان گیا تو بیٹی کی قبر سے چھیڑچھاڑ ہوئی تھی اور کفن ملحقہ حویلی میں پڑا ہوا تھا۔ والد نے اطلاع دی تو ایس ایچ او دھمیال ملک اسرار اور پولیس دیگر حکام موقع پر پہنچ گئے۔ ایس پی صدر نبیل کھوکھر کا کہنا تھا کہ والد کی جانب سے اطلاع ملی ہے تاہم قبر موجود ہے آیا قبر کے ساتھ مبینہ چھیڑ چھاڑ کی گئی یا نہیں اس کے کے لیے قبر کشائی کی خاطر عدالت سے اجازت لے لی ہےاس کے بعد ہی صورتحال واضح ہوگی کہ بچی کے والد کی بات درست ہے یا نہیں۔ ادھر پولیس ترجمان کی جانب سے بھی ہینڈ آؤٹ جاری کیا گیا جس موقف اپنایا گیا ہے کہ دھمیال کے علاقے میں قبرستان میں بچی کی قبر کے قریب کفن ملنے کے معاملے کےبعد پولیس نے فوری ریسپانس کرتے ہوئے قبر پر سیکیورٹی تعینات کر دی ہے ابتدائی طور پر بظاہر قبر کی بے حرمتی کے شواہد نہیں ملے۔ پولیس کے مطابق واقعہ کے حوالے سے قانون کے مطابق کارروائی کی جا رہی ہے، عدالت کی اجازت سے قبر کشائی کی جائے گی، لواحقین کے تحفظات کے پیش نظر حقائق کو سامنے لانے کے لئے قبر کشائی کا پراسس کیا جا رہا ہے، قبر کشائی کے بعد حالات و واقعات کی روشنی میں قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس ذرائع کے مطابق عدالت نے جمعہ کی صبع دس بجے قبرکشائی کے احکامات جاری کردیے ہیں اور راولپنڈی پولیس سمیت تمام متعلقہ محکموں کو تمام متعلقہ امور و تیاری کے لیے بھی احکامات دییے گیے۔ ادھر ایکسپریس کے رابطہ کرنے پر بچی کے والد ظفر اقبال نے بتایا کہ وہ رنگ ساز ہیں اور ان کے چار بچے ہیں، جب ان سے دریافت کیا گیا کہ آپ کو کیسے شک گزرا کہ بچی کی قبر کھودی گئی ہے تو انھوں نے بتایا کہ مٹی ہلی ہوئی تھی اور دو پتھر بھی غائب تھے
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل