Monday, January 26, 2026
 

سانحہ گل پلازہ: مزید ایک اور لاش کا ڈی این اے، 23 لاشوں کی شناخت، 73 افراد جاں بحق

 



سانحہ گل پلازہ میں ڈی این اے کے ذریعے مزید ایک لاش کی شناخت کرلی گئی، شناخت شدہ لاشوں کی تعداد 23 جبکہ جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی۔ ایکسپریس نیوز کے مطابق سانحہ گل پلازہ میں ملبے سے انسانی باقیات نکلنے کا سلسلہ جاری ہے، آج مزید ایک لاش کی شناخت ڈی این اے کی مدد سی ہوئی ہے۔ انچارچ شناخت پروجیکٹ سی پی ایل سی عامر حسن کے مطابق شناخت ہوئی لاش عبدالحسیب نامی شخص کی ہے، اب تک 23 لاشوں کی شناخت کرلی گئی ہے جس میں 16 لاشوں کی شناخت ڈی این اے سے ہوئی جس کے بعد تاحال جاں بحق افراد کی تعداد 73 ہوگئی ہے۔ عامر حسن کے مطابق ہفتے اور اتوار کی درمیانی شب دو افراد کی باقیات ملی تھیں۔ ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ ادا، دو تاحال لاپتا دریں اثنا گل پلازہ آتشزدگی میں جاں بحق ایک ہی خاندان کے 4 افراد کی نمازِ جنازہ دہلی کالونی عید گاہ گراؤنڈ میں ادا کردی گئی جس میں رشتے داروں سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔ نماز جنازہ میں ایم کیو ایم رہنما فاروق ستار، منعم ظفر، نجمی عالم سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی۔ ایدھی حکام کے مطابق 4 میتوں میں 2 بہنیں اور ایک بھائی شامل ہیں۔ دہلی کالونی کے ایک ہی خاندان کے 6 افراد جاں بحق ہوگئے تھے، متاثرہ خاندان کے خاتون سمیت 2 افراد کی شناخت ہونا باقی ہے، متاثرہ خاندان شاپنگ کے لیے گل پلازہ گیا تھا۔ شہری محمد شیث کی نماز جنازہ گارڈن کشتی والی مسجد میں ادا   اسی طرح سانحہ گل پلازہ میں شہید محمد شیث کی نماز جنازہ ادا کردی گئی، نماز جنازہ شہید محمد شیث کے والد نے پڑھائی جو کہ گارڈن کشتی والی مسجد میں ادا کی گئی۔ بعدازاں شیث کو گارڈن میں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔ تحقیقات کے لیے لاہور سے ٹیکنیکل ٹیم گل پلازہ پہنچ گئی سانحہ گل پلازہ میں تحقیقات کے لیے لاہور سے ٹیکنیکل ٹیم گل پلازہ پہنچی جس نے مختلف مقامات کا جائزہ لیا۔ ٹیم میں لاہور سے آئے فارنزک ٹیم کا عملہ بھی موجود ہے جسے پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے مختلف مقامات کا معائنہ کرایا۔ اربن سرچنگ آپریشن ٹیم کی جانب سے مختلف مقامات پر مارکنگ کردی گئی۔ اربن سرچنگ ٹیم کے مطابق جہاں سرچنگ کا عمل مکمل کیا جا رہا ہے وہاں مارکنگ کی جا رہی ہے، گل پلازہ کے مختلف مقامات پر H کا نشان مارک کیا گیا ہے، H نشان کا مطلب خطرے کی نشاندہی، عمارت گرنے کا خدشہ ہے۔ گل پلازہ میں ریسکیو آپریشن تاحال جاری ریسکیو 1122 اور اربن سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں تاحال متاثرہ عمارت کے ملبے میں موجود انسانی باقیات کی تلاش میں مصروف ہیں۔ سانحہ گل پلازہ میں منہدم ہونے والی عمارت کا ملبہ پاک کالونی کے علاقے کے ایم سی ورکشاپ گراؤنڈ میں لے جانا کا سلسلہ مسلسل جاری رہا۔ کے ایم سی ورکشاپ میں سیکیورٹی کے فرائض انجام دینے والے ڈی ایس پی پاک کالونی نے بتایا کہ مجموعی طور پر دونوں شفٹوں میں 25 سے 30 پولیس افسران و اہلکار سیکیورٹی کی ڈیوٹیاں انجام دے رہے ہیں جبکہ تاجروں کا نمائندے بھی 24 گھنٹے اس گراؤنڈ میں موجود رہتے ہیں جبکہ ڈمپروں کے ذریعے لائے جانے والے ملبے کے نگرانی پر مامور ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متعدد ڈمپروں کے ذریعے لائے جانے والے سامان میں نقدی اور زیورات شامل تھے جو پولیس نے اندراج کے بعد تاجروں کے حوالے کردیے جبکہ دکانوں کے کھاتوں کی رسید بکیں اور دیگر قیمتی سامان بھی تاجر نمائندوں کے حوالے کردیا۔ انہوں نے بتایا کہ کے ایم سی گراؤنڈ میں اب تک 215 ڈمپر لائے جا چکے ہیں اب گراؤنڈ میں جگہ ختم ہو گئی ہے ، جگہ بنانے کے لیے ڈمپروں کے ذریعے ملبے کا پہاڑ بنایا جا رہا ہے تاکہ مزید آنے والے ڈمپروں کا ملبہ بھی ڈالا جا سکے، عمارت کے ملبے میں بچوں کے کھلونے، برتن، خواتین، بچوں اور مردوں کے سلے سلائے اور بغیر سلے ملبوسات ، سجاوٹ کا سامان، قالین، برتن، اسپورٹس کا سامان سمیت ضروریات زندگی کا تقریباً مکمل سامان ملتا تھا، گل پلازہ کراچی کی سب سے مشہور مارکیٹ تھی جہاں سے نہ صرف پورے کراچی بلکہ اندرون سندھ سے ہر طبقے کے لوگ خریداری کے لیے آتے تھے۔ گل پلازہ کو نو روز گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کی آزمائش ختم نہ ہو سکی رپورٹ : دعا عباس کراچی میں سانحہ گل پلازہ کو نو روز گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کی آزمائش ختم نہ ہو سکی، کچھ والدین اب بھی معجزے کی امید لگائے بیٹھے ہیں تو کہیں وقت کے ساتھ ناامیدی گہری ہوتی جا رہی ہے۔ لاپتہ افراد کے اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں، لیکن سرکاری اسپتالوں اور دفاتر میں بدتمیزی، بے حسی اور دھکے سہنے پر مجبور ہیں، جو ان کی اذیت میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے 27 سالہ لاپتا عمران کے والدین ابراہیم اور زیب النساء نے ایکسپریس نیوز کو بتایا کہ ہمارا بچہ ہفتے والے دن کام پر آیا تھا، اسی دن رات تقریباً دس، سوا دس بجے ہماری آخری بات اس سے ہوئی، اس کے بعد اس کا کوئی رابطہ نہیں ہوسکا، ہمیں کبھی یہاں بھگایا جا رہا ہے، کبھی وہاں، کبھی کہا جاتا ہے اسپتال میں انتظار کرو۔ ہمیں کسی قسم کا انصاف نہیں مل رہا۔ہمیں کچھ نہیں چاہیے، جس حال میں بھی ہمارا بچہ ہو، ہمیں بس اسی کو دے دیا جائے تاکہ ہم اسے اپنے گھر لے جا سکیں۔ہم کراچی کے تمام اسپتال چھان مارے ہیں، لیکن ہمیں کوئی یہ نہیں بتا رہا کہ زخمی کہاں ہیں اور کہاں نہیں۔ہمیں کسی قسم کی معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔بس یہی کہا جا رہا ہے کہ فون کا انتظار کرو، جب فون آئے گا تو ڈیڈ باڈی لینے آجانا۔ اس کے علاوہ کچھ نہیں ہو رہا، حادثے کے دن مارکیٹ صدر نے کہا کہ نام لکھوا دو اور خون کے نمونے دے دو۔یہاں آتے ہیں تو یہ لوگ بھگادیتے ہیں۔ 28 سالہ لاپتا عارف کے چچا نے گل پلازہ کے سانحے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میں یہاں گل پلازہ پر موجود ہوں، جہاں نو دن قبل افسوسناک سانحہ پیش آیا۔ حادثے کے دس منٹ کے اندر پوری عمارت میں آگ پھیل گئی۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ آگ شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی، لیکن ہم اتنے ناسمجھ نہیں اور نہ ہی اندھے ہیں کہ یہ مان لیں۔ شارٹ سرکٹ سے لگنے والی آگ اتنی کم مدت میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں نہیں لے سکتی۔ انہوں نے کہا کہ رینجرز اور فائر فائٹرز اب بھی موقع پر موجود ہیں اور اس وقت بھی میری آنکھوں کے سامنے عمارت سے دھواں نکل رہا ہے، یعنی اندر کہیں نہ کہیں آگ اب بھی لگی ہوئی ہے۔ہمیں ملبے تلے کم از کم ایک ہزار سے بارہ سو افراد دبے ہونے کا خدشہ ہے، جبکہ پہلے دن کہا گیا کہ اندر صرف چھ افراد موجود ہیں۔اگر اندر کوئی تھا ہی نہیں تو 71 لاشیں کہاں سے آئیں؟ اصل اعداد و شمار بتائے جائیں۔ عارف کے چچا نے بتایا کہ میں نیو کراچی سے آیا ہوں۔ میرا بھتیجا محمد عارف تھا جس کی ایک بیٹی پونے دو سال کی ہے، عارف کا ایک بیٹا بھی ہےجو سانحے کے وقت صرف 20 دن کا تھا، آج وہ بچہ 29 دن کا ہو چکا ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ ہمیں ہمارے بچے کی لاش یا باقیات جیسی بھی حالت میں ہوں، دے دی جائیں تاکہ ہم کم از کم اس کا جنازہ پڑھ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی میں شہلا رضا کہتی ہیں کہ یہ تو ہوتا رہتا ہے، اگر یہ سانحہ ان کے بچوں کے ساتھ ہوتا تو انہیں احساس ہوتا۔ یہاں ہمارے بچوں کی جانیں جا رہی ہیں۔ عارف کے دو دوست محسن اور سعد بھی لاپتہ ہیں، وہ بھی ہمارے بچوں کی طرح تھے۔ان کا کہنا تھا کہ گل پلازہ کا صدر بھی ہم سے نظریں چرا رہا ہے۔ اس نے ہمیں فون کر کے بلایا تھا کہ میں وہیں موجود ہوں، لیکن ہم پونے گھنٹے سے کھڑے ہیں اور وہ نظر نہیں آ رہا۔ عارف کے والد نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آٹھ سے نو دن ہو چکے ہیں، میرے پاس عارف کی آخری کال آئی تھی۔ جب ہم موقع پر پہنچے تو پہلے ایک کونا جلتا دیکھا، پھر گردن گھمائی تو دوسرا کونا بھی آگ کی لپیٹ میں تھا۔ پھر یوں لگا جیسے زمین میرے پیروں تلے سے نکل گئی اور میں وہیں بیٹھ گیاانہوں نے کہا کہ بیٹے کی آواز آج بھی کانوں میں گونجتی ہے، وہ کہہ رہا تھا کہ امی ابو مجھے بچا لو، میرا دم گھٹ رہا ہے، میں نے صرف یہی کہا کہ بیٹا کلمہ جاری رکھو، کلمہ نہیں رکنا چاہیے۔ اس کے علاوہ میرے پاس اور کوئی جواب نہیں تھا۔ عارف کے والد نے کہا کہ حکمرانوں کے پیسے ان کی جیبوں میں ہی رہنے دیں، ہمیں صرف ہمارے بچے کی لاش یا باقیات دے دیں تاکہ ہم اس کا جنازہ پڑھ سکیں، دل کو صبر آ جائے اور یہ امید مکمل طور پر ٹوٹ جائے کہ ہمارا بچہ اب اس دنیا میں نہیں رہا۔  

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل