Loading
مائیکروسوفٹ کے موجودہ اور سابق ملازمین کے ایک گروپ نے کمپنی کے غزہ جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کے ساتھ تعلقات کے خلاف واشنگٹن میں واقع ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاج کیا۔ خبرایجنسی انادولو کی رپورٹ کے مطابق غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کی فوج کے ساتھ مائیکروسوفٹ کے تعلقات پر کمپنی کے موجودہ اور سابقہ ملازمین نے احتجاج کیا، جو مائیکروسوفٹ کے فلیگ شپ کلاؤڈ کمپیوٹنگ سروس ایزور کے نام سے تخلیق پانے والے گروپ ‘نو ایزور فار اپارتھیڈ’ کے زیرانتظام ہوا۔ رپورٹ کے مطابق مظاہرین بلڈنگ نمبر 34 میں مائیکروسوفٹ کے صدر براڈ اسمتھ کے دفتر کے اندر جمع ہوئے جہاں انہوں نے نعرے بازی کی اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ ایک بینر پر لکھا گیا تھا کہ غزہ میں 2023 کے دوران اسرائیلی حملے میں شہید ہونے والے سوفٹ ویئر انجینئر سے منسوب کرتے ہوئے دفتر کا نام ‘مائی عبید بلڈنگ’ رکھا جائے۔ دوسرے بینر کے ذریعے مطالبہ کیا گیا تھا کہ مائیکروسوفٹ اسرائیل سے تعلقات منقطع کرے اور دیگر کئی مطالبات بھی کیے گئے تھے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ پولیس نے احتجاج کرنے والے گروپ میں سے 7 افراد کو گرفتار کرلیا جو مائیکروسوفٹ کے صدر براڈ اسمتھ کے دفتر میں داخل ہوئے تھے۔ قبل ازیں بلومبرگ نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ مائیکروسوفٹ کو محدود مگر شدید مزاحمت کا سامنا ہے اور زور دے رہے ہیں کہ وہ غزہ جنگ کی وجہ سے اسرائیل کے ساتھ اپنے کاروباری تعلقات منقطع کریں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ مائیکروسوفٹ نے مظاہرین کو کچلنے کے لیے ایف بی آئی اور مقامی قانون نافذ کرنے والے اداروں سے مدد طلب کی ہے۔ مائیکروسوفٹ کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج کی یونٹ 8200 فلسطینیوں کے فون کالز کی ریکارڈنگ محفوظ کرنے کے لیے مائیکروسوفٹ ایزور کا استعمال کر رہی ہے۔ رواں برس کے شروع میں امریکی خبرایجنسی نے انکشاف کیا تھا کہ مائیکروسوفٹ کی اسرائیل کی وزارت دفاع سے شراکت داری ہے جس کا مقصد اہداف کی نشان دہی کے لیے خفیہ معلومات جمع کرنا ہے۔ مائیکروسوفٹ نے مذکورہ رپورٹ کے بعد بتایا تھا کہ داخلی جائزے کے بعد اس طرح کے کوئی ثبوت نہیں ملے کہ ایزور یا اے آئی ٹیکنالوجیز کو غزہ میں شہریوں کو نقصان پہنچانے یا نشانہ بنانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہو۔ کمپنی اپنی جائزہ رپورٹ تو جاری نہیں کی تھی لیکن بتایا تھا کہ جب مزید جائزہ مکمل ہوگا تو حقائق پر مبنی رپورٹ جاری کردی جائے گی۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ جنگ میں اکتوبر 2023 سے اب تک 63 ہزار فلسطینیوں کو شہید کردیا ہے، جن میں سے اکثریت بچوں اور خواتین کی ہے، لاکھوں فلسطینی بے گھر اور زخمی ہیں اور غزہ میں غذائی قلت کی وجہ سے قحط کی صورت حال ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل