Loading
برلن: جرمنی نے اعلان کیا ہے کہ وہ پاکستان میں پھنسے تقریباً دو ہزار افغان شہریوں کو دوبارہ داخلے کی اجازت دے گا جنہیں طالبان حکومت کے تحت خطرے سے دوچار سمجھا گیا تھا۔ یہ فیصلہ کئی ماہ کی پابندی اور جرمنی میں دائر قانونی مقدمات کے بعد سامنے آیا ہے۔ جرمن وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ افغان شہری مختلف مراحل میں تھے اور ان کی جانچ پڑتال کا عمل دوبارہ شروع کر دیا گیا ہے۔ متعلقہ حکام پاکستان میں موجود ہیں تاکہ داخلے کی کارروائی آگے بڑھائی جا سکے۔ وزارتِ داخلہ نے وضاحت کی ہے کہ صرف وہی افغان شہری جرمنی داخل ہو سکیں گے جن کے کیسز عدالت میں کامیاب ہوئے ہیں یا جنہیں پہلے سے باضابطہ داخلے کی منظوری دی گئی ہے۔ ان کے لیے سکیورٹی چیک لازمی ہوں گے جبکہ پاکستان سے ایگزٹ پرمٹ بھی درکار ہوگا۔ یہ فیصلہ ایسے موقع پر آیا ہے جب پاکستان نے افغان مہاجرین کو یکم ستمبر تک ملک چھوڑنے کی ڈیڈ لائن دے رکھی ہے۔ انسانی حقوق کے وکلاء اور امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ یہ افغان خاندان طویل عرصے سے انتظار کر رہے تھے اور بالآخر انہیں ریلیف ملا ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل