Loading
امریکا میں ہونے والی حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ انسٹاگرام اور فیس بک پر مشتمل امریکی سوشل میڈیا کمپنی میٹا کے مصنوعی ذہانت کا چیٹ بوٹ نوجوانوں میں نقصان دہ رویے کا باعث بن سکتا ہے، جس میں خودکشی، خود کو نقصان پہنچانے، کھانے کے مسائل شامل ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق سوشل میڈیا کے استعمال کے دوران حفاظتی اقدامات سے متعلق کی گئی حالیہ ایک تحقیق میں یہ انکشاف ہوا ہے۔ تحقیق میں کہا گیا ہے کہ ایک ٹیسٹ میں چیٹ بوٹ نے مشترکہ خودکشی کا منصوبہ تجویز کیا اور بعد میں ہونے والی گفتگو میں بھی اس موضوع کو طول دیتا رہا۔ ایڈووکیسی گروپ کامن سینس میڈیا کی جانب سے فراہم کی گئی رپورٹ میں والدین کو خبردار کیا گیا ہے اور میٹا پر زور دیا ہے کہ وہ 18 سال سے کم عمر کے نابالغ بچوں کی چیٹ بوٹ تک رسائی محدود کردے۔ کامن سینس میڈیا گروپ نے کہا کہ میٹا کے پلیٹ فارمز یا ایپلی کیشن میں دستیاب چیٹ بوٹ تعاون کرنے والے دوست کی طرح قائل کرتے ہوئے خطرناک رویے کی حوصلہ افزائی کرسکتا ہے لیکن ضرورت کے وقت مناسب مداخلت کرنے میں ناکام ہوتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بوٹ واحد اے آئی سسٹم نہیں ہے جس سے صارفین کو خطرےمیں ڈالنے پر تنقید کی جارہی ہے اور خاص طور اس سے بچنا مشکل ہے کیونکہ یہ براہ راست انسٹاگرام پر دیا گیا ہے اور 13 سال کے بچوں کی بھی پہنچ میں ہے، جس میں والدین کے لیے ڈس ایبل کرنے کے لیے کوئی آپش بھی نہیں دیا گیا ہے۔ کامن سینس میڈیا میں اے آئی پروگرام کے سینئر ڈائریکٹر روبی ٹورنی نے بتایا کہ اے آئی معلومات کی فراہمی سے آگے جاتا ہے اور نوجوانوں کی مدد کرنے میں فعال کردار ادا کرتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ خیالی تصورات اور حقیقت کے درمیان دھندلا جاتا خطرناک ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے میٹا نے بتایا کہ بچوں سمیت سب کے لیے سخت ہدایات دی گئی ہیں کہ اے آئی کے ساتھ کیسے کام کرنا ہے۔ کمپنی کی ترجمان صوفی ووگیل نے بتایا کہ خودکشی کی طرف مائل کرنے یا کھانے کی عادت میں خرابی جیسے مواد کی اجازت نہیں ہے اور جو مسائل یہاں اجاگر کیے گئے ہیں اس کے سدباب کے لیے ہم بھرپور کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں نوجوان کا اے آئی کے ساتھ محفوظ اور مثبت تجربہ ہو، اسی لیے ہمارے اے آئیز حساس صورت حال میں لوگوں کو تعاون کرنے کے لیے تربیت یافتہ ہیں۔ روبی ٹورنی نے کہا کہ میٹا اے آئی اس وقت بچوں اور نوجوانوں کے لیے محفوظ نہیں ہے اور اس کو محفوظ بنانے لیے محنت درکار ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل