Loading
امریکی ریاست مینیسوٹا کے شہر منی ایپلس میں ایک چرچ سے منسلک پرائمری اسکول میں فائرنگ کے افسوسناک واقعے نے پورے ملک کو لرزا کر رکھ دیا۔ واقعے میں کم از کم دو کم سن بچے ہلاک جبکہ 17 افراد زخمی ہوگئے، جن میں زیادہ تر بچے شامل ہیں۔ فائرنگ کرنے والا شخص بھی پولیس کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہوگیا۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق فائرنگ کا واقعہ اینونساییشن کیتھولک اسکول میں پیش آیا، جو ایک چرچ سے منسلک نجی تعلیمی ادارہ ہے۔ اسکول میں تقریباً 395 طلبہ زیر تعلیم ہیں اور تعلیمی سال کے آغاز کو صرف دو دن ہوئے تھے۔ پولیس چیف برائن او’ہارا نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ فائرنگ کے نتیجے میں آٹھ اور دس سال کی عمر کے دو بچے اپنی نشستوں پر بیٹھے بیٹھے جان کی بازی ہار گئے۔ دونوں بچوں کے والدین کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ حملہ آور کے پاس تین مختلف ہتھیار موجود تھے، جن میں ایک رائفل، ایک شاٹ گن اور ایک پستول شامل تھی۔ پولیس چیف نے چرچ میں بیٹھے معصوم بچوں پر اندھا دھند گولیاں برسانے کو ’’انتہائی سفاکانہ اور بزدلانہ‘‘ عمل قرار دیا۔ پولیس کے مطابق واقعے میں 17 افراد زخمی ہوئے، جن میں سے 14 بچے شامل ہیں۔ دو بچوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جبکہ باقی زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے۔ اس واقعے کے فوراً بعد رائٹرز اور اے ایف پی نے اپنی ابتدائی رپورٹس میں بتایا تھا کہ فائرنگ کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور 20 زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم پولیس اور مقامی حکام نے بعد ازاں دو بچوں کی ہلاکت اور 17 زخمیوں کی تصدیق کی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں مکمل بریفنگ دی گئی ہے اور وائٹ ہاؤس صورتحال کی کڑی نگرانی کر رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ایف بی آئی فوری طور پر متحرک ہوئی اور جائے وقوعہ پر موجود ہے۔ پولیس نے شہر کے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر بتایا کہ فی الحال علاقے میں کوئی فعال خطرہ موجود نہیں ہے اور شوٹر کو ہلاک کر دیا گیا ہے۔ والدین کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں سے ملنے کے لیے اینونساییشن اسکول کے ری یونفیکیشن زون کا رخ کریں۔ یہ واقعہ اس وقت سامنے آیا ہے جب حالیہ ہفتوں میں امریکی کالج کیمپسز پر فائرنگ اور شوٹرز کی رپورٹس کی لہر دیکھنے کو ملی ہے۔ ماہرین اور حکام بارہا خبردار کر چکے ہیں کہ اسکولوں میں آتشیں اسلحے کے بڑھتے واقعات تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل