Friday, July 19, 2024
 

جنریشن گیپ بڑھنے نہ دیں

 



’’ہر وقت ان بچوں کو کھیل کود کی پڑی رہتی ہے، کبھی جو انھوں نے ہوم ورک وقت پر مکمل کیا ہو؟ کبھی کارٹون دیکھنے ہیں تو کبھی ڈرامے، کبھی کمپیوٹر پر وقت گزارنا ہے تو کبھی موبائل پر لمبی لمبی باتیں کرنی ہیں۔ میں تو اپنے بچوں کی حرکتوں سے تنگ آگیا ہوں، مجال ہے جو یہ سدھر جائیں‘‘۔

یہ المیہ آج کل ہر گھر کا نہیں تو 80 فیصد گھرانوں کا ضرور ہے۔ جہاں بچے ہیں ان پر زمانے کا رنگ چڑھ گیا ہے۔ لیکن ایک دم سے بچوں کو یہ کہہ دینا کہ تم غلط ہو بذات خود ایک بہت بڑی غلطی ہے، کیونکہ ہر بچہ اپنے دور کا بچہ ہے اور ہر دور میں بچوں کی دلچسپیاں مختلف نوعیت کی ہوتی ہیں۔

ہر عمر کا بچہ دوسرے بچے سے اس لیے مختلف ہوتا ہے کہ ہر دور اور ہر عہد دوسرے دور اور عہد سے الگ ہے، اس لیے اپنی نسل کے ساتھ ان کا مقابلہ نہ کرو۔

آج کل کے بچے مشینی دور کے بچے ہیں اور نہایت ذہین بھی ہیں۔ ہم بچوں پر الزام تو آسانی سے لگا دیتے ہیں لیکن والدین اور اساتذہ دونوں ایسی شخصیات ہیں جو کہ باقاعدہ بچوں کی کردار سازی میں نمایاں کردار ادا کرتی ہیں مگر نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑ رہا ہے کہ سب تو نہیں لیکن کچھ افراد ایسے ہیں جو بچوں کو صرف ضروریات زندگی فراہم کرکے خود بے فکرے سے ہوجاتے ہیں اور دوسرا وہ طبقہ جو ہماری ذات کو بنانے میں اہم ہوتا ہے وہ اساتذہ ہیں جو صرف تدریس پر زور دے رہے ہیں، تعلیم تو دے رہے ہیں لیکن تربیت نہیں کررہے۔

یہ جاننا سب کےلیے ضروری ہے کہ تعلیم سے اچھی تربیت ہے۔ والدین اور بچوں کا رشتہ ایسا ہونا چاہیے جہاں بے شک دوستانہ رویہ تو ہو لیکن ساتھ ہی ساتھ احترام کا عنصر ہمیشہ قائم رہے۔ کمپیوٹر، ٹی وی، موبائل اور اس طرح کی دوسری چیزیں بچوں کو ضرور فراہم کریں لیکن یہ نہیں کہ وقت سے پہلے انھیں یہ مفید اشیا فراہم کرکے انھیں ان کےلیے ضرر رساں بنادیا جائے۔

بچے اپنے والدین کو رول ماڈل کی شکل میں دیکھتے ہیں، لہٰذا خود اپنی مثال بچوں کو دی جائے۔ بچے بے حد حساس بھی ہوتے ہیں لہٰذا جن بچوں کے والدین نوکری کرتے ہیں ان کے بچے خود کو کافی تنہا محسوس کرتے ہیں اور اپنے لیے دیگر دلچسپیاں ڈھونڈ لیتے ہیں جس سے ان کی شخصیت میں منفی پہلو آجاتے ہیں۔

بچوں کو یہ سمجھانا چاہیے کہ ان کے والدین جو محنت کر رہے ہیں وہ انہی کے اچھے مستقبل اور بہتری کےلیے ہے۔ اس طرح ان میں والدین کو سمجھنے کی صلاحیت بھی پیدا ہوگی۔ بچوں پر اپنی مرضی تھوپنا اور ان کا مقابلہ دوسرے بچوں سے کرنا حقیقت میں غلط ہے اور انھیں احساس کمتری کا شکار بنا دیتا ہے۔ بچوں میں جنریشن گیپ دور کرنے کےلیے والدین اور اساتذہ کو ان کے مسائل سمجھنا ہوں گے اور وہ بھی ان کے لیول پر آکر۔ جنریشن گیپ کو ہم جتنا کم کریں گے اتنا ہی ہم معاشرے کو اچھے افراد دینے کی کوشش کریں گے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل