Sunday, March 30, 2025
 

صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ   

 



جوڈیشل مجسثریٹ ایسٹ کی عدالت نے صحافی فرحان ملک کی درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔ عدالت نے کہا کہ فیصلہ کل سنایا جائے گا، عدالت نے ڈائریکٹرایف آئی اے کو کل ذاتی طورپرطلب کرلیا،عدالتی اجازت کے بغیر ملزم کو دوسرے مقدمے میں گرفتارکرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کیا۔ عدالت نے تفتیشی افسر کو شوکازنوٹس جاری    کردیا، معیزجعفری ایڈووکیٹ    نے کہا کہ  مقدمہ بدنیتی پرمبنی ہے،  ایف آئی اے اب تک یہ نہیں بتاسکی کہ جرم کیاکیاہے،  صرف یہ کہہ دینااینٹی اسٹیٹ مواد کافی نہیں،  یہ توبتایاجائےکہ کون سی رپورٹ یا خبراینٹی اسٹیٹ ہے؟ وکیل صفائی نے کہا کہ ویب سائٹ پرہرچیزموجودہے پھرجسمانی ریمانڈکیوں لیا گیا،  کسی ایک لفظ کی نشاندھی نہیں کی گئی جواینٹی اسٹیٹ ہے، ایف آئی اے کی کہانی سے لگتا ہے کہ ویب سائیٹ چلاناہی جرم ہے،  یہ بھی نہیں بتارہے کہ فرحان ملک نے کس ادارے کی بے حرمتی کی ہے،   فرحان ملک کے خلاف کسی ادارے نے شکایت نہیں کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ  چھاپہ ضلع ایسٹ میں ماراگیا مقدمہ ملیر کابنادیاگیا، ملزم کوعدالتی حکم پرجیل منتقل کرنےکےبجائےدوسری عدالت سے ریمانڈ لےلیاگیا۔ عدالت  نے سوال   کیا یہ کیسے ممکن ہے،  جیل کسٹڈی کے بعد ملزم کو کہاں لےکر جاناتھا، تفتیشی افسر     نے جواب دیا کہ  میں دوسرے مقدمےکیلئےعدالت میں موجودتھا مجھےپتہ چلاکہ ملزم کو دوسرے مقدمےمیں گرفتارکرلیاگیا۔ عدالت نے کہا کہ یہ توقانون کی کھلی خلاف ورزی ہے،  کس کےحکم پرملزم کو جیل کیبجائے دوسرے کیس میں گرفتارکیاگیا، کراچی: نام بتائیں جس نے یہ حرکت کی ہے، تفتیشی افسرنے کہا کہ  مجھے آفس سے فون آیا تھا، عدالت    نے پوچھا  کس کافون تھا، نام بتاؤ، تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ  منشی کافون آیاتھا۔ عدالت نے کہا کہ بلائیں ان افسران کو جنہوں نےعدالتی فیصلے کی خلاف ورزی کی ہے،تفتیشی افسر     نے کہا کہ  فرحان ملک نے پاکستان کے نام کامذاق اڑایا، اس پوسٹ پر انتہائی نامناسب کمنٹس تحریرہیں، تفتیشی افسر   نے کہا کہ  کیا کوئی صحافی ایسا کرسکتاہے؟  پاکستان اور پاک فوج کامذاق اڑایاگیا، کیا کوئی ذمےدارصحافی ایساکرسکتاہے؟  ملزم کو بلاکرہربات سے آگاہ کیا گیا۔ 

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل