Friday, April 04, 2025
 

حسن و جمال کی دیوی قلوپطرہ

 



قدیم مصر کی تاریخ میں قلوپطرہ نام کی سات ملکائیں تھیں، لیکن قلوپطرہ ہفتم جو اس سلسلے کی آخری ملکہ تھی اپنے سحر انگیز حسن اور دلکش جوانی سے بڑے بڑوں کو پاگل بنا دیتی تھی، قلوپطرہ ہفتم کو خداوند تعالیٰ نے ایسا حسن اور خوبصورتی عطا کی تھی جو اس سے قبل کسی کے حصے میں نہ آئی۔ قلوپطرہ کا خاندان تین سو سال سے مصر میں مقیم تھا۔ وہ ٹالمک خاندان سے تھی جس طرح روس کے مرد حکمرانوں کو ’’ زار‘‘ اور ملکہ کو ’’زاریت‘‘ کہا جاتا تھا، روم کے حکمرانوں کو سیزر اور مصر کے حکمرانوں کو فرعون کہا جاتا تھا، اسی طرح مصر میں ملکہ کو قلوپطرہ کہا جاتا تھا۔ قلوپطرہ کا خاندان یونان سے ہجرت کر کے مصر میں آباد ہوا تھا، قلوپطرہ کے دو بھائی اور ایک بہن تھی۔ بطلیموس خاندان میں بادشاہ کی وفات کے وقت چاروں اولادوں کا موجود ہونا امن و امان کے لحاظ سے اچھی علامت نہ تھا۔ بادشاہ نے پوری کوشش کی کہ اس کی اولاد باہم کشت و خون سے نبرد آزما نہ ہو جائے۔ اسے اپنے خاندان کی سفاکی یاد تھی، لیکن اب بوڑھا بادشاہ امن چاہتا تھا۔ شاہ بطلیموس کی خواہش تھی کہ اس کی اٹھارہ سالہ دختر قلوپطرہ اور اس کے تیرہ سالہ بیٹے بطلیموس چہاردہم کی شادی ہو جائے اور دونوں مل کر حکومت کریں، مصر میں دستور تھا کہ حقیقی بھائی اور بہن کی شادی ہو جاتی تھی، قلوپطرہ کے والدین بھی آپس میں بہن بھائی تھے، ایسا اس لیے کیا جاتا تھا کہ خاندان کی دولت باہر نہ جائے چنانچہ قلوپطرہ اوراس کے بھائی کا عقد ہو گیا اور دونوں مل کر حکومت کرنے لگے۔ شاہ بطلیموس نے یہی وصیت تیار کی تھی کہ دونوں بہن بھائی مل کر حکومت کریں گے لیکن شہزادے کا اتالیق تھیوڈوس ایک یونانی خطیب تھا، ایک خواجہ سرا شہزادے کا حامی تھا، ان دونوں کو دربار میں بڑی اہمیت حاصل تھی، تیسرا شخص اکیلیلاس تھا جو شاہی باڈی گارڈ کا کمانڈر تھا، تینوں دربار میں بڑی اہمیت کے مالک تھے۔ 48 ق م میں اہم واقعات ہوئے، قلوپطرہ اور اس کے بھائی میں سخت اختلافات رونما ہوئے، قلوپطرہ یوں بھی اس شادی سے خوش نہ تھی اور تیرہ سالہ نابالغ شوہر کو دل سے قبول نہ کر سکی تھی، شاید اسی لیے اس نے دوسرے مردوں سے تعلقات بڑھائے۔ قصر شاہی دو کیمپوں میں تقسیم ہوگیا، پوتھی نوس، خواجہ سرا اور شہزادے کا اتالیق ایک طرف ہوگئے اور شہزادے کو سپورٹ کرنے لگے۔ قلوپطرہ کا پلہ کمزور تھا اسے پناہ لینے کے لیے شام بھاگنا پڑا، اس کا قصر شاہی سے نکلنا ہر قدم پر موت سے دوچار ہونا تھا، لیکن جواں سال، جواں ہمت ملکہ تھوڑے ہی دنوں میں سپاہ کثیر جمع کرکے اپنا آبائی تخت و تاج حاصل کرنے کے لیے سرزمین مصر میں داخل ہو رہی تھی، فی الواقعہ وہ پرتدبر صاحب حیثیت ملکہ کی حیثیت سے داخل ہو رہی تھی، جہاں سے کچھ عرصہ قبل دشمنوں نے اسے نکلنے پر مجبور کر دیا تھا۔ جولیس سیزر کا ذکر وہ سن چکی تھی اور کسی نہ کسی طرح اس کی بارگاہ میں حاضری دینا چاہتی تھی مگر اس کے ذہن میں کوئی منصوبہ نہ آ رہا تھا کہ وہ کس طرح سیزر کے دربار میں پہنچے۔ قلوپطرہ کی جرأت آخر کام آئی ۔ بطلیموس چہاردہم کی فوجیں بھی تیار کھڑی تھیں، اسے اندازہ ہو گیا کہ اگر ذرا سی بھی بداحتیاطی کی تو اس کے بھائی کی فوجیں اس کے جسم کے ٹکڑوں کو چیل کوؤں کو کھلانے میں دیر نہیں کریں گی، اس نے اپنے ایک وفادار سپاہی اپالوڈورس کو حکم دیا کہ وہ اسے کمبل اور دری میں لپیٹ کر یہاں سے لے جائے۔ قلوپطرہ نازک اندام عورت تھی وہ باآسانی کمبل اور دری میں لپٹ گئی، اپالوڈورس اسے وہاں سے باہر لے آیا، پھر اس نے ایک بیش قیمت قالین منگوایا اور خود اس کے اندر لیٹ گئی، اپالوڈورس اسے کندھے پر ڈال کر جولیس سیزر کی طرف گیا اور کہا کہ وہ ایک بیش قیمت قالین اس کے لیے لایا ہے، جولیس سیزر نے کہا، ’’ دکھاؤ!‘‘ اس پر وہ بولا ’’یہاں نہیں، اکیلے میں۔‘‘ سیزر نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا، وہ ہٹ گئے، تب اپالو نے قالین کھول دیا، قالین کھلنے پر اس میں سے نازک اندام، آشفتہ حال ملکہ کو نکلتے دیکھ کر جولیس سیزر حیران رہ گیا، وہ اس حسن و رعنائی کے مجسمے کو دیکھتا ہی رہ گیا، غرض رات بھر قلوپطرہ اپنی غریب الوطنی کی داستان اسے سناتی رہی اور جولیس سیزر اس کی ذات میں گم ہوگیا۔ جولیس سیزر ایک عظیم جرنیل اور روم کا ڈکٹیٹر تھا، وہ حد درجہ خوب رو، مضبوط اور مستحکم تھا، عورتیں اس پر فریفتہ تھیں اس میں یہ صلاحیت تھی کہ وہ روئے زمین کی قوموں کو مسخر کرے، وہ قلوپطرہ کو دیکھتے ہی اس کی زلفوں کا اسیر ہو چکا تھا، جب وہ قلوپطرہ سے اس کی کہانی سن چکا تو قلوپطرہ کے بھائی کو بلایا اور اس سے کہا کہ وہ اپنے باپ کی وصیت کے مطابق مل جل کر حکومت کریں، لیکن بھائی جوکہ اس کا شوہر بھی تھا، راضی نہ ہوا کیونکہ اس کی ڈور ان تین آدمیوں کے ہاتھ میں تھی۔ آخر قلوپطرہ کی جرأت و ہمت تمام مشکلات پر غالب آئی، اسے خوب اندازہ تھا کہ اس کی بحالی کا واحد طریقہ یہ ہے کہ جولیس سیزر اس جھگڑے کا فیصلہ کرے گا۔ محل میں قلوپطرہ کا ڈرامائی انداز میں قالین میں لپٹ کر جولیس سیزر کے سامنے آنا اور آدھی رات تک باتیں کرتے رہنا، صورت حال کو بدل دینے کا موجب بن گیا، قلوپطرہ نے اس رات سیزر کو بتا دیا کہ میرے بھائی نے باپ کی وصیت کا کوئی خیال نہیں کیا، اسی رات سیزر کے دل میں یہ تمنا ابھری کہ اس طاقت ور ملکہ کی محبت سے لطف اندوز ہونے کے ساتھ ساتھ سیاسی مفاد بھی حاصل کیا جائے اور اسی رات سیزر نے تہیہ کر لیا ہوگا کہ شہزادے کو تخت و تاج سے محروم کرکے قلوپطرہ کو مصر کی ملکہ بنا دے، دن چڑھتے ہی اس نے شہزادے کو بلا بھیجا، وہ آیا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ جس بہن کو وہ جلاوطن کر چکا تھا وہ بے تکلف دربار میں موجود تھی، وہ بھڑک گیا۔ جولیس سیزر اور قلوپطرہ ساتھ ساتھ رہنے لگے، قلوپطرہ کے بطن سے سیزر کا ایک بیٹا ہوا جسے سیزارین کا نام دیا گیا، روم میں جولیس سیزر کے قدم مضبوطی سے جمے تھے لیکن پارلیمنٹیرین کا ایک طبقہ اس کا مخالف تھا، ایک دن تمام پارلیمنٹیرین نے اسے گھیر لیا اور چاقوؤں کے وار سے اسے لہو لہان کر دیا۔ سیزر نے مڑ کر دیکھا تو اس کا سب سے زیادہ چہیتا اور قابل اعتماد ساتھی برملٹس بھی ان میں شامل تھا جسے وہ بیٹا کہہ کر مخاطب کرتا تھا، اسی موقع پر شیکسپیئر نے یہ تاریخی جملہ کہا ’’یو ٹوبروٹس۔‘‘ جولیس سیزر کے قتل کے بعد قلوپطرہ نے سیزر کے سب سے زیادہ بہادر اور جاں نثار جرنیل مارک انطونی کو اپنے حسن کے جال میں پھنسایا، وہ اپنی حیثیت اور جاہ و ہشم دکھانے اور انطونی کو مرعوب کرنے کے لیے سونے کی کشتی میں بیٹھ کر آئی جس کے چپو چاندی کے تھے، اس نے انطونی کی دعوتیں کیں اور ہر بار انطونی بلاشبہ بہت مرعوب ہوا۔ قلوپطرہ بڑی چاہ سے دولت لٹاتی تھی، انطونی کو اس کی دعوتوں کا اہتمام دیکھ کر اس کی شاہ خرچیوں کا اندازہ ہوتا تھا۔ بہرحال آتش عشق دونوں طرف برابر لگی ہوئی تھی، کچھ عرصے بعد دونوں نے شادی کرلی جس سے قلوپطرہ کے دو جڑواں بچے ہوئے، لیکن وہ بڑے بیٹے سیزارین کو بہت زیادہ چاہتی تھی کیونکہ اس کا باپ جولیس سیزر تھا۔ انطونی بھی سیزر کی طرح پہلے سے شادی شدہ تھا۔ اس عہد کے دستور کے مطابق قلوپطرہ نے چند سال پہلے اپنا مقبرہ تیار کروا لیا تھا تاکہ مرنے کے بعد اسے وہاں دفن کیا جائے۔یہ مقبرہ رفعت و عظمت اور خوش نما فنکاری کے لیے مشہور تھا۔ وہی انطونی اور قلوپطرہ جو ایک جان دو قالب تھے ان دنوں ایک دوسرے سے متنفر ہو کر الگ الگ رہنے لگے تھے، وجہ آکٹیوین کی بڑھتی ہوئی طاقت تھی۔ ملکہ نے اسے اپنی وفاداری کا یقین دلا دیا تھا، وہ جانتی تھی کہ فتح یاب ہونے کے بعد آکٹیوین ملکہ کو پابہ زنجیر کرکے شہر کی گلیوں میں ننگے پاؤں گھسیٹے گا، انطونی ایک بہادر جرنیل تھا لیکن ملکہ کی بے وفائی نے اسے توڑ کر رکھ دیا، اس کی موت اس کے اپنے ہاتھوں ہوئی، اس نے تلوار سینے میں گھونپ کر خودکشی کر لی۔ آکٹیوین ملکہ کو زندہ رکھنا چاہتا تھا تاکہ اسے نشان عبرت بنا سکے۔ ملکہ اپنے مقبرے میں مقیم ہوگئی تھی، ملازموں نے آکٹیوین کو یقین دلا دیا تھا کہ ملکہ کے پاس کوئی زہر نہیں ہے جس سے وہ خودکشی کر سکے، لیکن ایک دن خدام آئے تو ملکہ کو بے حس و حرکت پڑے دیکھا۔ آکٹیوین کو اطلاع دی اس نے آ کر دیکھا تو ملکہ کا جسم نیلا ہو رہا تھا، اس نے سانپوں سے خود کو ڈسوا لیا تھا، پتا چلا کہ صبح ایک دہقاں انجیروں کا ٹوکرا لے کر آیا تھا جسے ملکہ نے منگوایا تھا، انھی میں اس نے دو زہریلے سانپ بھی منگوا لیے تھے، حسن و جمال کی دیوی ملکہ جلال و جمال خودکشی کرکے عزت کی موت مرگئی لیکن آکٹیوین کے ہاتھ نہ آئی۔ ملکہ نے خودکشی سے پہلے زرتار لباس پہنا، عطر ملا، بال گندھوائے اور صوفے پر دراز ہوگئی اور آکٹیوین کو خط لکھا کہ مجھے انطونی کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ اس کے بعد سب کو کمرے سے نکل جانے کا حکم دیا اور خود کو سانپوں سے ڈسوا کر بادشاہ زادی ہونے کا ثبوت دے دیا۔ قلوپطرہ پر بہت سی فلمیں بن چکی ہیں جن میں الزبتھ ٹیلر اور صوفیہ لارین نے قلوپطرہ کا رول کیا۔ عجب ملکہ تھی جسے آج بھی لوگ نہیں بھولے وہ داستانوں میں زندہ ہے اور زندہ رہے گی۔

اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

مزید تفصیل