Loading
جنوبی کوریا نے ایک نیا بل منظور کیا ہے جس کے تحت آئندہ سال مارچ سے ملک بھر کے اسکولوں کے کلاس رومز میں موبائل فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کے استعمال پر مکمل پابندی عائد کر دی جائے گی۔ یہ فیصلہ نوجوانوں میں سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے استعمال اور اس کے تعلیمی کارکردگی و ذہنی صحت پر منفی اثرات کے خدشات کے باعث کیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق اس قانون کی منظوری کے بعد جنوبی کوریا اُن ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا ہے جو کم عمر افراد کے درمیان سمارٹ فونز کے استعمال کو محدود کر رہے ہیں۔ حال ہی میں آسٹریلیا اور نیدرلینڈ میں بھی اسی طرح کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ پارلیمنٹ میں اس بل کو دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت حاصل رہی۔ وزارتِ تعلیم کے ایک سروے کے مطابق 37 فیصد مڈل اور ہائی اسکول طلبہ نے اعتراف کیا کہ سوشل میڈیا ان کی روزمرہ زندگی پر براہِ راست اثر ڈالتا ہے۔ 22 فیصد طلبہ نے کہا کہ اگر انہیں سوشل میڈیا تک رسائی نہ ملے تو وہ شدید بے چینی محسوس کرتے ہیں۔ پیو ریسرچ سینٹر کے مطابق 2022–2023 میں کیے گئے ایک سروے میں 99 فیصد جنوبی کوریائی عوام آن لائن ہیں، اور 98 فیصد کے پاس اسمارٹ فون موجود ہے، جو دنیا بھر میں سب سے زیادہ شرح ہے۔ یہ پابندی معذور طلبہ یا تعلیمی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈیجیٹل ڈیوائسز پر لاگو نہیں ہوگی۔ کچھ نوجوانوں کی فلاحی تنظیموں نے اس قانون کو "بچوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی" قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی ہے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل