Loading
دریائے چناب، راوی اور ستلج میں سیلابی ریلے کے باعث پنجاب کے دو شہروں جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کو توڑنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ چیف سیکریٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت پی ڈی ایم اے کمیٹی روم میں اہم اجلاس ہوا۔ صوبائی وزراء صحت خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ عمران نذیر نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ ریلیف کمشنر پنجاب نبیل جاوید اور ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا بھی شریک ہوئے۔ اجلاس میں جھنگ اور چنیوٹ کو بچانے کے لیے رواز پل کو بریچ کرنے کا فیصلہ کیا گیا جبکہ ننکانہ صاحب، شیخوپورہ اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کے دریائی بیلٹ کے علاقوں کو فوری خالی کروانے کی ہدایات جاری کی گئی۔ سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں اضافی انتظامی افسران کی تعیناتی کا فیصلہ بھی کیا گیا جبکہ متاثرہ علاقوں میں تعلیمی اداروں کو ایک ہفتے کے لیے بند رکھنے پر غور کیا جا رہا ہے۔ کلینک آن ویلز کو سیلاب سے متاثرہ اضلاع میں فوری روانہ کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے۔ چیف سیکریٹری پنجاب نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب کی ہدایات کے مطابق ریسکیو و ریلیف سامان کی تمام تر ڈیمانڈز کو پورا کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ٹینٹ ویلیج قائم کرنے کی بھی ہدایت کی اور کہا کہ ٹینٹ ویلیجز میں تمام بنیادی و طبی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ چیف سیکرٹری نے سیلاب سے نمٹنے کے لیے پی ڈی ایم اے پنجاب اور انتظامی افسران کی کوششوں کو سراہا۔ زاہد اختر زمان نے کہا کہ تمام ادارے اور افسران اپنے فرائض بہترین انداز میں سر انجام دے رہے ہیں، سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں مویشیوں کے چارے کی فراہمی کو یقینی بنائیں۔ محکمہ لائیو اسٹاک ونڈہ چارہ اور مویشیوں کی ویکسین فراہم کرنے کا ذمہ دار ہے۔ تمام اضلاع کے میڈیکل کیمپس میں ضروری ادویات اور سانپ کے کاٹنے کی ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ ڈی جی پی ڈی ایم اے نے اجلاس کو تفصیلی بریفنگ بھی دی۔ انہوں نے بتایا کہ مون سون بارشوں کے 9 ویں اسپیل کے دوران گجرانوالہ، لاہور، راولپنڈی، سرگودھا، فیصل آباد، ڈیرہ غازی خان، بہاولپور، بہاولنگر اور ساہیوال میں بارشیں ہوں گی۔ دریائے چناب میں پانی کا بڑا ریلا جھنگ کی طرف بڑھ رہا ہے جبکہ راوی میں 2 لاکھ 17 ہزار کیوسک کا سیلابی ریلا آگے بڑھ رہا ہے، آئندہ چند گھنٹوں میں بہاو میں کمی متوقع ہے۔ محکمہ آبپاشی، صحت، لائیو اسٹاک اور زراعت کے محکموں کے سیکرٹریز نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل