Loading
سندھ حکومت نے ممکنہ سیلاب کے پیش نظر محکمہ زراعت کے تمام افسران و عملہ کی چھٹیاں منسوخ کر دیں۔ ڈی جی زراعت کے دفتر حیدرآباد میں رین ایمرجنسی سیل قائم کر دیا گیا۔ وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ ہنگامی صورتحال میں کسان مدد کے لیے رابطہ کر سکیں گے، 30 اضلاع میں ڈائریکٹرز اور ڈپٹی ڈائریکٹرز کو سیلابی صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کے تمام اضلاع اور تپے کی سطح پر ایمرجنسی سینٹرز قائم کیے گئے ہیں۔ صوبائی وزیر سردار محمد بخش مہر نے کسانوں کی فوری مدد کو یقینی بنانے کے احکامات دے دیے۔ ترجمان کے مطابق کراچی، لاڑکانہ، سکھر، حیدرآباد، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد سمیت تمام اضلاع میں افسران ڈیوٹی پر موجود ہوں گے۔ ڈی جی زراعت ایکسٹینشن ونگ حیدرآباد میں کسانوں کی رہنمائی کے لیے 24/7 رین ایمرجنیس کنٹرول روم قائم کیا گیا ہے۔ ڈائریکٹر جنرل ایگریکلچر ایکسٹینشن سندھ، ہنگامی پلان پر عمل درآمد کی نگرانی کریں گے۔ صوبائی وزیر نے محکمہ زراعت انجینئرنگ ونگ کو اپنی مشینری اور بلڈوزر ہمہ وقت تیار رکھنے کی ہدایت کر دی۔ سردار محمد بخش مہر نے کہا کہ زرعی آلات ضلعی انتظامیہ کو ضرورت ہو تو وہاں فوری طور پر فراہم کیے جائیں، افسران پی ڈی ایم اور دیگر اداروں سے رابطہ میں رہیں۔ تمام افسران کو اپنے اضلاع میں الرٹ رہنے اور کسانوں سے براہ راست رابطہ رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔ وزیر زراعت کا کہنا تھا کہ افسران روزانہ کی بنیاد پر سیکریٹری زراعت محمد زمان ناریجو کو رپورٹ پیش کریں گے۔ سیلاب سے متاثرہ کسانوں کو فوری امداد جیسے کہ بیج، کھاد، اور زرعی آلات فراہم کیے جائیں گے۔ کسانوں کی مدد کے لیے ہیلپ لائن نمبر (0311-1164611) بھی فعال کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وزیراعلی سندھ نے وزرا کی دریاء کے لیفٹ بینک اور رائٹ بینک پر ڈیوٹیاں لگا دی ہیں، موسمیاتی تبدیلیوں سے ملک میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو رہی ہے۔ دوسری جانب، سیلابی صورتحال کے پیش نظر چیف سیکریٹری سندھ کی زیر صدارت 24 گھٹوں میں دوسرا اجلاس ہوا، جس میں سیکریٹری آبپاشی، سیکریٹری صحت، سیکریٹری لائیو اسٹاک سمیت تمام کمشنر اور ڈپٹی کمشنر اور انچارج کنٹرول روم بلاول ابڑو شریک ہوئے۔ اجلاس میں ممکنہ ہائے فلڈ کے پیش نظر انتظامات کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکریٹری سندھ کا کہنا تھا کہ پنجند اور گڈو بیراج پر پانے کے بہاؤ پر نظر رکھے ہوئے ہیں، پنجند پر 7 تاں 8 لاکھ کیوسک پانے آئے گا۔ سیکریٹری آبپاشی نے اجلاس کو آگاہ کیا کہ آبپاشی کا عملہ دریا کے بندوں پر موجود ہے، جو لوگ اب کچے سے پکے کی طرف آنا چاہتے ہیں انہیں کشتی کی سہولت فراہم کی جائے۔ سانپ کے کاٹنے کا اینٹی وینم اور ریبیز ویکسینیشن کی دستیابی کو یقینی بنایا جائے۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل