Loading
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کو نکالنے اور اُن کی مالی معاونت ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ ان میں ماحولیات، امن اور جمہوریت پر عالمی تعاون کے بڑے فورمز شامل ہیں۔ دوسری جانب امریکا نے روس کے پرچم بردار ایک آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا، مزید برآں وینزویلا سے منسلک دوسرا ٹینکر بھی پکڑ لیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیانات میں زور دے کر کہا ہے کہ چین اور روس صرف امریکا سے ڈرتے اور اس کی عزت کرتے ہیں اور نیٹو کے بغیر عالمی طاقتیں بے خوف ہو جائیں گی۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی 66 تنظیموں سے امریکا کی علیحدگی اور ان کی مالی معاونت بند کرنے کا اعلان محض ایک انتظامی اقدام یا وقتی سیاسی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی نظام، بین الاقوامی قانون، طاقت کے توازن اور دنیا کے مستقبل سے جڑا ایک غیر معمولی اور دور رس اثرات رکھنے والا اعلان ہے۔
یہ فیصلہ دراصل اس طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے جو دنیا کو اصولوں، معاہدوں اور اجتماعی ذمے داریوں کے بجائے محض طاقت، دباؤ اور معاشی جبر کے ذریعے کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ مؤقف کہ یہ عالمی ادارے امریکا کے مفادات کے بجائے اپنا ایجنڈا آگے بڑھاتے ہیں، ایک پرانا بیانیہ ہے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا عالمی تعاون کو ذاتی مفاد کے ترازو میں تول کر رد کر دینا ایک ذمے دار عالمی طاقت کے شایانِ شان طرزِ عمل ہو سکتا ہے؟
یہ حقیقت کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اقوام متحدہ اور اس کے ذیلی ادارے دوسری جنگِ عظیم کے بعد خود امریکا اور اس کے اتحادیوں نے تشکیل دیے تھے تاکہ دنیا کو ایک اور تباہ کن جنگ سے بچایا جا سکے، تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے اور ترقی، انسانی حقوق، صحت اور ماحولیات جیسے مشترکہ مسائل پر تعاون کو فروغ دیا جائے۔
آج اگر امریکا ہی ان اداروں کو بے کار، نقصان دہ اور اپنی خود مختاری کے لیے خطرہ قرار دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اسی نظام کو توڑ رہا ہے جسے اس نے خود تخلیق کیا تھا۔ بین الاقوامی پینل برائے موسمیاتی تبدیلی، اقوام متحدہ کا موسمیاتی معاہدہ، زچہ و بچہ کی صحت سے متعلق ادارے، جمہوریت کے فروغ کے لیے قائم فورمز اور فطرت کے تحفظ سے وابستہ عالمی تنظیموں سے علیحدگی اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ امریکا اب اجتماعی عالمی ذمے داریوں سے پیچھے ہٹ رہا ہے۔ماحولیاتی تبدیلی آج دنیا کا سب سے بڑا مشترکہ چیلنج ہے۔
سمندروں کی سطح میں اضافہ، شدید موسمی حالات، قحط، سیلاب اور درجہ حرارت میں اضافہ کسی ایک ملک کا مسئلہ نہیں۔ ایسے میں اگر دنیا کی سب سے بڑی معیشت اور تاریخی طور پر سب سے زیادہ کاربن خارج کرنے والا ملک عالمی موسمیاتی تعاون سے الگ ہو جائے تو اس کے نتائج نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ خود امریکا کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کا یہ دعویٰ کہ یہ ادارے امریکی خوشحالی کے لیے خطرہ ہیں، دراصل اس حقیقت سے آنکھیں چرانے کے مترادف ہے کہ ماحولیاتی تباہی، صحت کے بحران اور عالمی عدم استحکام سب سے پہلے طاقتور معیشتوں کو ہی متاثر کرتے ہیں۔
یہی رویہ ہمیں عالمی سیاست اور سلامتی کے میدان میں بھی نظر آتا ہے۔ امریکا کی جانب سے روسی پرچم بردار آئل ٹینکر کو قبضے میں لینا، جس کی نگرانی ایک روسی آبدوز کررہی تھی، محض ایک بحری کارروائی نہیں بلکہ ایک خطرناک مثال ہے۔ روس کی جانب سے اسے کھلی قزاقی قرار دینا اور برطانیہ کی جانب سے اس کارروائی میں امریکا کا ساتھ دینے کی تصدیق اس بات کو واضح کرتی ہے کہ عالمی قوانین کی تشریح اب طاقت کے بل پر کی جا رہی ہے، اگر ایک بڑی طاقت یہ حق اپنے لیے محفوظ کر لے کہ وہ پابندیوں کے نام پر کسی بھی ملک کے جہاز کو کھلے سمندر میں روک لے تو پھر عالمی تجارت، توانائی کی ترسیل اور بحری سلامتی کا پورا نظام عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔
امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے وینز ویلا سے منسلک ایک اور سپر ٹینکر کی ضبطی اور اسے ’’ بے ریاست، منظور شدہ ڈارک فلیٹ موٹر ٹینکر‘‘ قرار دینا بھی اسی پالیسی کا تسلسل ہے۔ واشنگٹن کی جانب سے وینزویلا کی تیل برآمدات روکنے کے لیے بحرِ اوقیانوس میں ہفتوں تک تعاقب اور پھر زبردستی کارروائی اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکا اب معاشی پابندیوں کو عسکری طاقت کے ساتھ جوڑ کر استعمال کر رہا ہے۔ یہ وہ طرزِ عمل ہے جو دنیا کو ایک بار پھر طاقت کے قانون کی طرف دھکیل رہا ہے، جہاں کمزور ممالک کے حقوق محض کاغذی باتیں بن کر رہ جاتی ہیں۔
وینزویلا کے معاملے میں امریکی صدر کا تازہ اعلان اس سے بھی زیادہ تشویشناک ہے۔ یہ کہنا کہ وینزویلا تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم صرف امریکی ساختہ مصنوعات کی خریداری پر خرچ کرے گا، دراصل ایک خود مختار ریاست کی معاشی آزادی کو براہِ راست ختم کرنے کے مترادف ہے۔ یہ فیصلہ نہ صرف وینزویلا کی معیشت کو امریکی مفادات کے تابع کرتا ہے بلکہ عالمی تجارت کے بنیادی اصولوں کی بھی نفی کرتا ہے۔ ٹرمپ کا یہ دعویٰ کہ اس معاہدے کے تحت وینزویلا سے 30 سے 50 ملین بیرل تیل امریکا کو فراہم کیا جائے گا اور امریکی آئل کمپنیاں وہاں سرمایہ کاری کریں گی، دراصل طاقت اور مجبوری کے رشتے کو ’’ معاہدے‘‘ کا نام دینے کی کوشش ہے۔ اس کے اثرات عالمی تیل منڈی میں فوری طور پر دیکھے گئے، جہاں قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی۔
برینٹ کروڈ کی قیمت 60 ڈالر فی بیرل تک آنا اور امریکی خام تیل کی قیمت میں کمی اس بات کا ثبوت ہے کہ ایک ملک کے سیاسی فیصلے پوری دنیا کی معیشت کو ہلا سکتے ہیں، اگر وینزویلا کا وہ تیل، جو پابندیوں کے باعث ٹینکروں اور ذخیرہ گاہوں میں رکا ہوا ہے، عالمی منڈی میں آ گیا تو قیمتیں مزید نیچے جا سکتی ہیں۔ امریکی صدر کے سوشل میڈیا بیانات، جن میں انھوں نے کہا کہ چین اور روس صرف امریکا سے ڈرتے اور اس کی عزت کرتے ہیں، عالمی سیاست کے ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتے ہیں۔ یہ سوچ کہ دنیا کو صرف طاقت کے ذریعے قابو میں رکھا جا سکتا ہے، تاریخ میں کئی بار تباہ کن نتائج کا باعث بن چکی ہے۔
یہ تمام اقدامات، بیانات اور پالیسیاں مل کر ایک ایسے امریکا کی تصویر پیش کرتی ہیں جو عالمی نظام میں قائدانہ کردار ادا کرنے کے بجائے اسے اپنی مرضی کے مطابق توڑ مروڑ کر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ عالمی اداروں سے علیحدگی، سمندری کارروائیاں، معاشی پابندیوں کا عسکری استعمال اور کمزور ممالک پر تجارتی شرائط مسلط کرنا سب ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ یہ وہ پالیسی ہے جو وقتی طور پر طاقت کا تاثر تو دے سکتی ہے، مگر طویل المدت طور پر عالمی عدم استحکام، عدم اعتماد اور تصادم کو جنم دے گی۔دنیا آج ایک کثیر قطبی نظام کی طرف بڑھ رہی ہے جہاں چین، روس، یورپی یونین اور دیگر علاقائی طاقتیں اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہی ہیں۔
ایسے میں اگر امریکا عالمی اداروں سے الگ ہو جائے تو یہ خلا خود بخود پُر ہو جائے گا، اور ممکن ہے کہ وہ طاقتیں آگے آ جائیں جن کے نظریات اور مفادات امریکا سے مختلف ہوں۔ یہ صورت حال نہ صرف عالمی سیاست بلکہ خود امریکا کے لیے بھی نقصان دہ ہو سکتی ہے، کیونکہ عالمی قیادت محض طاقت سے نہیں بلکہ اعتماد، شراکت اور اصولوں کی پاسداری سے حاصل کی جاتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ تبدیلیاں خاص طور پر تشویش ناک ہیں۔ عالمی اداروں کی کمزوری کا مطلب یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے دستیاب وسائل محدود ہو سکتے ہیں۔ پاکستان جیسے ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ اور ماحولیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، ان پالیسیوں کے اثرات سے براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں۔
تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ ہماری معیشت، درآمدات اور مہنگائی پر اثر انداز ہوتا ہے، جب کہ عالمی تعاون میں کمی ہمارے ترقیاتی امکانات کو بھی محدود کر سکتی ہے۔ یہ وقت عالمی برادری کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے۔ کیا دنیا دوبارہ طاقت کے قانون کی طرف لوٹنا چاہتی ہے یا وہ اصولوں، قوانین اور تعاون پر مبنی نظام کو بچانا چاہتی ہے؟ امریکا کا کردار اس حوالے سے فیصلہ کن ہے۔ اگر وہ واقعی عالمی استحکام، امن اور خوشحالی کا خواہاں ہے تو اسے یکطرفہ فیصلوں کے بجائے مکالمے، اصلاحات اور مشترکہ ذمے داریوں کی راہ اپنانی ہوگی۔
عالمی اداروں کی خامیاں اپنی جگہ، مگر انھیں مکمل طور پر ترک کرنا مسائل کا حل نہیں۔آخرکار یہ حقیقت فراموش نہیں کی جا سکتی کہ طاقت عارضی ہوتی ہے، مگر ادارے اور اصول دیرپا ہوتے ہیں۔ جو ریاستیں صرف طاقت کے سہارے دنیا کو چلانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ بالآخر خود بھی عدم استحکام کا شکار ہو جاتی ہیں۔ آج امریکا جس راستے پر چل رہا ہے، وہ دنیا کو ایک غیر یقینی، خطرناک اور انتشار زدہ مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ عالمی طاقتیں اپنے فیصلوں پر نظرِ ثانی کریں، ورنہ تاریخ ایک بار پھر یہ ثابت کر دے گی کہ طاقت کے نشے میں کیے گئے فیصلے بالآخر خود اسی طاقت کو کمزور کر دیتے ہیں۔
اگر آپ اس خبر کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں تو نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔
مزید تفصیل